موجودہ حالات کے چیلنجز اور علماء کی ذمے داریاں- ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

 

جالنہ (مہاراشٹر) میں دوروزہ فیملی کونسلنگ ورک شاپ میں شرکت کرکے مجھے شام کو ہی واپس ہونا تھا ، لیکن اورنگ آباد کے رفقاء نے خواہش کی کہ ہم شہر کے علماء و ائمہ کا ایک اجلاس منعقد کرنا چاہتے ہیں ، اس لیے اس میں شرکت کرکے اگلے دن واپسی کا پروگرام بنائیے ۔ میں تیار ہوگیا ۔ انھوں نے اس پروگرام کی خوب پبلسٹی کی ، اس کے لیے سوشل میڈیا کے علاوہ مقامی اخبارات میں بھی خبر شائع کروائی۔

 

مرکز اسلامی (دفتر جماعت اسلامی ہند حلقہ مہاراشٹر) سے قریب مسجد عائشہ میں بعد نماز عشاء پروگرام رکھا گیا تھا _ تھوڑی دیر میں بہت سے علماء و ائمہ دیگر مساجد میں نماز ادا کرکے آگئے _ ابتدا میں مولانا نصیر اصلاحی ناظم مجلس العلماء ، مولانا محمد الیاس فلاحی سکریٹری شعبۂ اسلامی معاشرہ حلقہ مہاراشٹر اور جناب عبد الواجد قادری امیر مقامی اورنگ آباد نے خطاب کیا ، اس کے بعد مجھے اظہارِ خیال کا موقع دیا گیا _ میں نے درج ذیل آیت کو اپنی گفتگو کی بنیاد بنایا :

لَتُبۡلَوُنَّ فِیۤ أَمۡوَ ٰ⁠لِكُمۡ وَأَنفُسِكُمۡ وَلَتَسۡمَعُنَّ مِنَ ٱلَّذِینَ أُوتُوا۟ ٱلۡكِتَـٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَمِنَ ٱلَّذِینَ أَشۡرَكُوۤا۟ أَذࣰى كَثِیرࣰاۚ وَإِن تَصۡبِرُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَإِنَّ ذَ ٰ⁠لِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ ( آل عمران : 186)

” تمہیں مال و جان دونوں کی آزمائشیں پیش آکر رہیں گی اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دِہ باتیں سنو گے ۔ اگر ان سب حالات میں تم صبر اور خدا ترسی کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے ۔”

 

میں نے عرض کیا کہ یہ آیت غزوۂ احد (3ھ) کے بعد نازل ہوئی تھی ، جب مسلمان بڑی تعداد میں شہید ہوئے تھے اور ان پر سخت مایوسی طاری تھی ، لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ آیت آج ہی نازل ہوئی ہے اور اس میں موجودہ حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے مسلمانوں کی رہ نمائی کی گئی ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں یوں تو عرصہ سے سازشیں کی جا رہی ہیں ، لیکن اِدھر کچھ دنوں سے ان میں تیزی آگئی ہے ۔ ان کے عائلی قوانین کو ختم کرکے یکساں سِوِل کوڈ نافذ کرنے کا برملا عندیہ ظاہر کیا جارہا ہے ، مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا جارہا ہے ، اسلامی تشخص کے درپے ہوکر مسلمانوں اور خاص طور پر نوجوانوں کو یکہ و تنہا پاکر ان پر شدید جسمانی تشدّد کرکے انہیں ہلاک کرنے کے واقعات آئے دن پیش آنے لگے ہیں ۔ نئی نسل کو دینی تعلیم سے دور کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ ہندو نوجوانوں کو ورغلایا جارہا ہے کہ وہ مسلم لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنساکر انہیں ان کے دین سے برگشتہ کردیں ، مسلمانوں کے مختلف گروپوں کے درمیان اختلافات کو بڑھاوا دینے کے منصوبے کا برملا اظہار کیا جارہا ہے ، تبدیلئ مذہب کا قانون بناکر اپنی آزاد مرضی سے اسلام قبول کرنے والوں کو روکا جارہا ہے اور ابھی حال میں نمایاں مسلم شخصیات کو گرفتار کرکے ان پر یہ بے بنیاد الزامات عائد کیے جارہے ہیں کہ وہ جبر اور لالچ کے ذریعے ‘دھرم پریورتن’ کے ریکٹ چلا رہے تھے اور اس کام کے لیے وہ بیرونی ممالک سے بڑے پیمانے پر فنڈ لا رہے تھے۔

 

میں نے کہا کہ امت کے تمام سنجیدہ ، بہی خواہ اور دردمند افراد کی ذمے داری ہے کہ وہ موجودہ حالات کا مقابلہ کرنے اور امت کی رہ نمائی کے لیے آگے آئیں ، البتہ علماء کی ذمے داری بڑھ کر ہے کہ امت ان پر اعتماد کرتی ہے اور مشکل حالات میں رہ نمائی کے لیے ان کی طرف دیکھتی ہے۔ علماء درج ذیل کام کرسکتے ہیں :

 

(1) وہ اسلامی تشخص پر اصرار کریں اور عوام میں دین سے گہری وابستگی پیدا کرنے کی کوشش کریں _ اس کے لیے وہ جمعہ ، عیدین ، نکاح ، میلاد النبی ، رمضان المبارک ، قربانی اور دیگر مناسبتوں سے فائدہ اٹھائیں اور وعظ ، نصیحت اور تذکیر کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں ۔

 

(2) نئی نسل کی دینی تعلیم و تربیت کی فکر کریں ، اس کے لیے پورے ملک میں دینی مکاتب کا جال بچھادیں _ کوئی مسجد ایسی نہ رہے جس میں بچوں اور بچیوں کے لیے مکتب قائم نہ ہو ، جہاں وہ اسکول کی تعلیم کے بعد آکر ناظرۂ قرآن و تجوید ، حفظ ، اردو ، دین کی بنیادی تعلیم حاصل کریں اور انہیں طہارت و نماز کی عملی مشق ہو۔

 

(3) مسلم نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے پری میرج کونسلنگ کے پروگرام وضع کیے جائیں ، جن کے ذریعے انہیں اسلام کی عائلی تعلیمات سے واقف کرایا جائے ، تاکہ نکاح کے بعد وہ خوش گوار ازدواجی زندگی گزار سکیں۔

 

(4) ملک کے تمام حصوں میں شرعی پنچایتوں کو رواج دیا جائے اور فیملی کونسلنگ سینٹرس قائم کیے جائیں ، تاکہ مسلمانوں کے عائلی تنازعات کو شریعت کے دائرے میں رہ کر نپٹایا جاسکے اور ملکی عدالتوں کی جانب رجوع کرنے کے مواقع نہ آسکیں۔

 

(5) علماء کی ذمے داری ہے کہ تمام تر مسلکی و تنظیمی عصبیتوں اور وابستگیوں سے بالاتر ہوکر اتحاد و اتفاق کے ساتھ ملت کے مسائل کو حل کرنے اور دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں۔

 

یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ پوری مسجد کھچاکھچ بھر گئی تھی اور شرکاء کی اکثریت نوجوان علماء کی تھی _ پروگرام کے بعد عشائیہ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*