چاہتا ہوں کہ ترا ہجر مصیبت نہ لگے ـ شاہنواز انصاری

چاہتا ہوں کہ تیرا ہجر مصیبت نہ لگے
اب کوئی زخم ترے غم کی بدولت نہ لگے

اس کی یادوں کا سفر ختم کروں روئے بغیر
غیر ممکن ہے کہ اس کام میں حکمت نہ لگے

ظرف ٹوٹے ہوئے کشکول سے گر سکتا ہے
ایسی امداد سے بچنا جو سخاوت نہ لگے

شہر در شہر مجھے خاک اڑانی ہے مگر
اس پہ یہ شرط مسافت بھی مسافت نہ لگے

آؤ اعمال تراشی کی ریہرسل کر لیں
تاکہ جب اس کو پکاریں تو مشقّت نہ لگے

ایک سجدہ میری پیشانی کو درکار ہے جو
حسب توفیق لگے حسب ضرورت نہ لگے

تب میں سمجھوں گا کہ اس نفس نے کھائی ہے شکست
رائیگاں شئے جو مجهے مالِ غنیمت نہ لگے

  • Rizwan Uddin Farooqui
    7 فروری, 2021 at 12:22

    بہت عمدہ غزل..
    تمام اشعار معنویت سے بھرپور ہیں ماشاءاللہ
    بہترین انتخاب 💐💐💐

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*