چچا بھتیجے میں اتحاد مشکل،شیو پال نے اکھلیش کی تجویز مسترد کردی

لکھنؤ:اترپردیش اسمبلی انتخابات میں ابھی ایک سال سے زائد سے وقت باقی ہے،لیکن سیاسی جماعتوں نے اپنی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ ایسی صورتحال میں ایس پی کے سربراہ اکھلیش یادو بڑی سیاسی جماعتوں کے بجائے چھوٹی پارٹیوں سے ہاتھ ملانے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔اکھلیش نے اپنے چچا شیوپال یادو کی پرگتی شیل سماج وادی پارٹی کو اپنے ساتھ اتجادکرنے اور انہیں کابینہ کا وزیر بنانے کی پیش کش کی۔ شیو پال یادو نے ایس پی کی اس پیش کش کو مسترد کردیا ہے اور اپنا الگ اتحاد تشکیل دینے اور انتخابی بگل بھونکنے کا اعلان بھی کیا ہے ایسی صورت میں چچا اور بھتیجے کے مابین سیاسی خلا ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ ایس پی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا تھا کہ 2022 کے اسمبلی انتخابات میں چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملایا جائے گا،لیکن کسی بڑی پارٹی کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہوگا۔اس دوران انہوں نے اپنے چچا شیوپال یادو کی پارٹی کے ساتھ اتحاد کے بارے میں کہا تھا کہ وہ بھی اس پارٹی کو اتحاد میں لائیں گے ۔ جسونت نگر شیو پال کی سیٹ ہے۔ سماج وادی پارٹی نے یہ نشست ان کے لیے چھوڑ دی ہے اور آنے والے وقت میں ان کے لوگ ملیں،حکومت بنائیں،ہم ان کے قائد کو کابینہ کا وزیر بنادیں گے۔اکھلیش یادو کی اس تجویز پر پرگتی سیل سماج وادی پارٹی کے قومی صدر شیوپال سنگھ یادو نے لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی پارٹی 2022 کے یوپی اسمبلی انتخابات کے لئے ایس پی میں ضم نہیں ہوگی، لیکن ہم تمام چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کریں گے۔ الیکشن لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اکھلیش یادو کے لیے مجھے نشست یا کابینہ کے وزیر کا عہدہ پیش کرنا مذاق ہے۔ ایسی صورتحال میںیہ واضح ہے کہ شیو پال اکھلیش کی تجویز سے ایس پی کے ساتھ ہاتھ نہیں ملائیں گے، بلکہ وہ اپنا سیاسی میدان تیار کریں گے۔