سی بی آئی نے 100کلو سونا چرالیا؟-ایم ودود ساجد

مدراس ہائی کورٹ میں سی بی آئی کے خلاف ایک عجیب وغریب مقدمہ پیش ہوا۔۔ جسٹس پی این پرکاش کی بنچ نے جو فیصلہ کیا اس پر سی بی آئی نے ایک عجیب وغریب دلیل دی۔ لیکن عدالت نے اس کی دلیل کو بڑی حقارت سے مسترد کردیا۔مقدمہ کا اہم پہلو یہ ہے کہ سی بی آئی کی تحویل میں رکھے ہوئے 400 کلو میں سے 100کلو سے زائد سونا (Gold) غائب ہوگیا۔۔ عدالت نے اس کے خلاف مقامی پولیس کی ایجنسی CB-CID کو تحقیقات کا حکم دیدیا۔

واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ سی بی آئی کو شکایت ملی تھی کہ حکومت کے ڈیپارٹمنٹ ’منرلس اینڈ میٹل ٹریڈنگ کارپویشن‘ (MMTC) کے افسران نے سونا چاندی کی درآمد سے وابستہ غیر سرکاری تجارتی کمپنی ’سرانا کارپوریشن‘ کو غیر قانونی طور پر سہولت بہم پہنچائی تھی۔اس ضمن میں سی بی آئی نے تحقیقات کے دوران ’سرانا کارپوریشن‘ کا 400 کلو سونا ضبط کرلیاتھا۔

سرانا (Surana) نے نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (NCLT) سے رجوع کیا۔اسی دوران سرانا کے خلاف مجرمانہ معاملہ کا مقدمہ واپس لے لیا گیا۔این سی ایل ٹی نے سی بی آئی کو حکم دیاکہ سرانا کا تمام ضبط شدہ سونا واپس کیا جائے۔لیکن جب سی بی آئی نے بنک اور سرانا کے افسران کے سامنے ضبط شدہ سونے کی تفصیلات تیار کیں تو معلوم ہوا کہ 100 کلو سے زیادہ سونا غائب ہے۔اس پر سرانا کمپنی مدراس ہائی کورٹ پہنچ گئی اور اپیل کی کہ سی بی آئی کو یہ غائب شدہ 100 کلو سونا واپس کرنے کا حکم دیا جائے۔یہ سونا سرانا کے بنک کے خزانہ میں ضرور رکھا تھا لیکن یہ سی بی آئی کی تحویل میں تھا۔

عدالت نے سی بی آئی سے پوچھا کہ اس نے اس سلسلہ میں چوری کی ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی؟ سی بی آئی نے جواب دیا کہ دہلی پولیس اسٹیبلشمنٹ ایکٹ 1946 کے تحت سی بی آئی کو چوری کی ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار نہیں ہے اور یہ کہ یہ کام مقامی پولیس کا ہے۔واضح رہے کہ سی بی آئی کا قیام مذکورہ ایکٹ کے تحت ہی عمل میں آیا تھا۔

موقع غنیمت جان کر سی بی آئی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ سی بی آئی کو ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات کرنے کا حکم دیدے۔ یعنی وہی چور’ وہی تفتیش کار۔ عدالت نے شاید محسوس کرلیا کہ جب سی بی آئی کے ایکٹ میں یہ التزام ہے ہی نہیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ سی بی آئی کا وکیل عدالت کے کاندھے پر رکھ کر بندوق چلانا چاہتا ہے۔ لہذا ہائی کورٹ نے مقامی پولیس کی ایجنسی سی بی سی آئی ڈی کوحکم دیا کہ اس ’چوری‘ کی تحقیقات کرے۔

اب سی بی آئی کے سامنے انا اور وقار کا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔اسے یہ اپنی اہانت لگا کہ اس سے چھوٹی فورس اس کی تساہلی کے ’جرم‘ یا چوری کی تحقیقات کرے۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ تامل ناڈو کی پولیس عام طور پر یوپی یا دہلی پولیس کی طرح نہیں ہے۔۔ وہ دیانتداری سے کام کرتی ہے۔۔ سی بی آئی ایک مرکزی تحقیقاتی ایجنسی ہے لیکن وہ فورس کے زمرہ میں نہیں آتی۔سی بی آئی کے وکیل نے آخری تیر کے طور پر عدالت سے کہا کہ یہ تو بڑی سبکی اور بدنامی کی بات ہوگی کہ سی بی آئی کے خلاف مقامی پولیس تحقیقات کرے۔اس سے سی بی آئی کا وقار مجروح ہوگا۔۔اس نے کہا کہ اگر عدالت سی بی آئی کو یہ تحقیقات سپرد نہیں کرتی تو اس سے اونچی ایجنسی این آئی اے کو ہی سونپ دے۔لیکن عدالت نے یہ تیر بھی واپس کردیا۔ خیال رہے کہ این آئی اے کی تشکیل دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کیلئے کی گئی ہے۔

جسٹس پی این پرکاش نے لکھا: عدالت اس دلیل کو تسلیم نہیں کرسکتی۔ پولیس پر یقین کرنا ہی پڑے گا۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ سی بی آئی کے سر پر خصوصی سینگ لگے ہوئے ہیں اور پولیس کے پیچھے دم (پونچھ) لگی ہوئی ہے۔یہ سی بی آئی کیلئے اگنی پریکشا (امتحان) ہوسکتی ہے لیکن اس سے وہ بچ نہیں سکتی۔اگر سیتا کی طرح سی بی آئی فسران کے ہاتھ پاک صاف ہیں تو وہ اور زیادہ صاف ستھرے ہوکر نکلیں گے اور اگر ہاتھ پاک صاف نہیں ہیں تو پھر انہیں نتائج بھگتنے ہوں گے۔

عدالت نے مزید کہا کہ "پنچ نامہ میں وزن کے تعلق سے بیان کئے جانے والے فرق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ کوئی ایک گرام (سونے کی چوری) کا فرق نہیں ہے بلکہ ہولناک طور پر ایک لاکھ گرام (سونے) کا فرق ہے۔ممکن ہے کہ سی بی آئی سے شروع میں ہی وزن کرنے میں غلطی ہوئی ہو‘ یہ بھی ممکن ہے کہ سی بی آئی کی ساز باز سے سونا چرایا گیا ہو۔۔ بہت سے امکانات ہیں اور سچ کو باہر لانے کیلئے ضروری ہے کہ معاملہ کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات ہوں۔”

سوچتا ہوں کہ مرکزی حکومت سی بی آئی کے ذریعہ اپنے سیاسی مخالفین کو زیر کرنے کیلئے ان کے خلاف ”چوری“ کے معاملات کی تحقیقات کراتی رہی ہے لیکن اب تو خود سی بی آئی ہی شکنجہ میں آگئی ہے اور اس کی ہی ”چوری“ کی تحقیقات تامل ناڈوکی مقامی پولیس کرے گی تو خود اسے کیسا محسوس ہوگا۔ہمارا ملک بھی کمال کا ملک ہے۔ یہاں کیا کیا ہوتا رہتا ہے۔ اتنی بڑی تحقیقاتی ایجنسی اور 100 کلو سونے کی چوری۔افسروں نے سوچا ہوگا کہ ہم جیسے چھوٹے چوروں کے بڑے آقا ہم سے کتنے ناجائز کام لیتے ہیں’ اس چھوٹی سی چوری پر وہ ہمیں بچا ہی لیں گے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*