سی بی آئی کی چارج شیٹ میں دعویٰ،ہاتھرس متاثرہ لڑکی کا اجتماعی عصمت دری کے بعدتشدد کیا گیا تھا

نئی دہلی:اترپردیش کے ہاتھرس کیس میں دلت لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری اور تشدد کے معاملے میں چاروں ملزموں پر سی بی آئی نے اجتماعی زیادتی اور قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ جمعہ کے روز ہاتھرس کیس کی تحقیقات کرنے والی سی بی آئی نے ہاتھرس کی عدالت کے سامنے چارج شیٹ داخل کی۔ جس سے اس بارے میں معلومات سامنے آئی ہیں۔ ملزم منا سنگھ پنڈیر کے وکیل نے بتایا کہ سی بی آئی نے چاروں ملزموں سندیپ، لیوکیش، روی اور رامو پر عصمت دری اور قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ وکیل نے کہا کہ سی بی آئی نے ایس سی / ایس ٹی ایکٹ کے تحت ملزمین کے خلاف بھی الزامات عائد کیے ہیں۔یو پی کے ہاتھرس میں 14 ستمبر کو ایک 20 سالہ دلت لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی گئی۔مبینہ اعلی ذات کے لوگوں پر لڑکی پر زیادتی کا الزام لگایا گیا تھا۔ دہلی میں علاج کے دوران کچھ دن بعد متاثرہ لڑکی کی موت ہوگئی ۔ 30 ستمبر کو پولیس کی موجودگی میں نصف شب میں اس کی آخری رسومات ادا کی گئی۔ کہا جارہا تھا کہ پولیس نے لواحقین کی اجازت کے بغیر آخری رسوماتادا کی۔ پولیس کو اس بارے میں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم عہدیداروں نے بتایا کہ آخری رسوم کنبہ کی خواہش کے مطابق ادا کی گئی تھی۔ اکتوبر میں سپریم کورٹ نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی کے ذریعہ کی جانے والی تحقیقات کی نگرانی کرے گی۔