سی بی آئی عدالت کا فیصلہ ناانصافی کی مثال :مسلم پرسنل لا بورڈ

اگر مسجد کی شہادت میں وہاں موجود لوگوں کا کوئی حصہ نہ تھا تو کیا غیبی طاقت نے مسجد کو ڈھادیا؟:مولانا ولی رحمانی

نئی دہلی: بابری مسجد کو شہید کرنے کے سلسلہ میں سی بی آئی عدالت کا فیصلہ آیا اور تمام ملزمین بری کردیئے گئے۔ اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے کہا کہ یہ ایک بے بنیاد ججمینٹ ہے جسمیں شہادتوں کو نظرانداز کیا گیا ہے اور قانون کا بھی پاس و لحاظ نہیں رکھا گیا ہے یہ فیصلہ اسی ذہنیت کا آئینہ دار ہے جو ذہنیت حکومت کی ہے اور جس کا اظہار بابری مسجد کیس میں سپریم کورٹ کے ججوں نے کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے تو اتنا کیا کہ اپنے فیصلہ میں کئی واضح حقیقتوں کو تسلیم کیا پھر جو ججمینٹ دیا وہ انصاف کے چہرہ پر بڑاسیاہ دھبہ ہے، مگر سی بی آئی کی عدالت نے سارے مجرمین کو بری کردیا جبکہ پورے ملک میں ویڈیو اور تصویریں موجود ہیں جو صاف بتاتی ہیں کہ مجرم کون ہے اور بابری مسجد کی شہادت کی سازش اور کارروائی میں کون لوگ شریک ہیں۔
مولانا نے یہ بھی کہا کہ ۱۹۹۴ء میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کے بنچ نے واضح کیا تھا کہ بابری مسجد کی شہادت ایک قومی شرمندگی ہے اور قانون کی حکمرانی اور آئینی طریقہ کار کے لئے بڑا دھچکا ہے، سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے یہ بھی کہا تھا کہ پانچ سو سالہ پرانا ڈھانچہ توڑدیا گیا جس کی حفاظت کی ذمہ داری اسٹیٹ گورنمنٹ کے ہاتھوں میں تھی، جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ لوگوں کو یادہوگا کہ بابری مسجد کی شہادت کے عظیم حادثہ کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ تعصب کی لہر چل پڑی اور بڑے پیمانہ پر مسلمانوں کے جان و مال کا نقصان ہؤا۔ سی بی آئی عدالت کا یہ فیصلہ مسجد کی شہادت کی ذمہ داری کسی پر نہیں ڈالتا، تو کیا وہ سارا مجمع اور وہ سارے لوگ جو بی جے پی میں بہت بڑی حیثیت کے مالک رہے ہیں مسجد کو شہید نہیں کیا؟ یا کسی غیبی طاقت نے مسجد کی عمارت کو نیست و نابود کردیا؟ اور یہ سارے مجرمین جو مسجد کو شہید کرنے میں شریک تھے اور جنہوں نے مسجد کے گرانے کی سازش کی وہ سب وہاں صرف تماشہ دیکھ رہے تھے؟ یہ فیصلہ ناانصافی کی تاریخ میں ایک مثال کی حیثیت سے پیش کیا جائیگا۔جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ نے یہ بھی کہا کہ اس مرحلہ میں سی بی آئی کو ایمانداری ظاہر کرنی چاہئے اور اوپر کی عدالت میں مقدمہ دائر کرنا چاہئے۔