کیتھولک پادری کامضحکہ خیز دعویٰ: کیرالہ میں ’لو اور نشہ آور جہاد‘ موجود ، پھنس رہی ہیں عیسائی لڑکیاں

کویٹم:
کیرالہ میں ایک کیتھولک بشپ نے جمعرات کو یہ کہتے ہوئے ایک تنازعہ کھڑا کردیا کہ ریاست میں بڑی تعداد میں عیسائی لڑکیاں لو جہاد اور نشہ آور جہاد میں پڑ رہی ہیں اور جہاں ہتھیار استعمال نہیں کئے جا سکتے انتہا پسند یہ حربے مذہب کی نوجوان خواتین کو تباہ کرنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی مسلم تنظیموں نے سائرو مالابار چرچ سے وابستہ پالا بشپ مار جوزف کلرنگاٹا کے بیان کی مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کا مقصد کیرالہ کے معاشرے میں فرقہ وارانہ تقسیم پیدا کرنا ہے۔ضلع کوٹیم کے کوروولنگاد میں ایک چرچ کی تقریب میں عقیدت مندوں سے خطاب کرتے ہوئے بشپ نے الزام لگایا کہ غیر مسلم لڑکیاں، خاص طور پر مسیحی برادری کی لڑکیاں، لو جہاد کے حصے کے طور پر محبت میں مذہب تبدیل کر رہی ہیں۔بشپ نے پوری دنیا اور کیرالا میں فرقہ واریت اور عدم برداشت کو پھیلانے کی کوشش کرنے والے جہادیوں کی موجودگی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوسرے مذاہب کو تباہ کرنے کے لیے مختلف حربے اپنارہے ہیں۔ دو ایسی چیزیں ہیں لو جہاد اور نشہ آور جہاد، چونکہ جہادی جانتے ہیں کہ ہمارے جیسے جمہوری ملک میں دوسرے مذاہب کے لوگوں کو ہتھیاروں سے تباہ کرنا آسان نہیں ہے، اس لیے وہ اپنے ہدف کے حصول کے لیے اس طرح کے دوسرے حربے اختیار کر رہے ہیں۔
بشپ نے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس لوک ناتھ بہیرا کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیرالہ دہشت گردوں کی بھرتی کا مرکز بن گیا ہے اور ریاست میں شدت پسند گروہوں کا زیر زمین سیل موجود ہے۔ بشپ نے دعویٰ کیا کہ ریاست سے عیسائی اور ہندو لڑکیوں کامذہب تبدیل کر کے حال ہی میں افغانستان میں دہشت گرد کیمپوں میں بھیجا گیا۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ریاست میں کوئی ’لوجہاد اور نشہ آور جہاد‘ نہیں ہے وہ حقیقت سے آنکھ پھیر رہے ہیں۔ سیاست دان، سماجی و ثقافتی رہنما اور صحافی جو اس حقیقت سے انکار کر رہے ہیں، ایسا کرنے میں ان کے ذاتی مفادات ہو سکتے ہیں۔بشپ پر حملہ کرتے ہوئے سمستا کیرلا سنی اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے ان سے کہا کہ وہ مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانے والے اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ثبوت دیں۔ فیڈریشن پورے کیرالہ اسٹوڈنٹ فیڈریشن کی اعلیٰ طلبہ تنظیم ہے۔ فیڈریشن کے جنرل سکریٹری ستار پانتھلور نے صحافیوں کو بتایا کہ بشپ کو چاہیے کہ وہ جہاد اور نشہ آور جہاد کے الزامات کا ثبوت دیں۔ انہوں نے بشپ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور ریاستی حکومت سے اس کا سنجیدگی سے نوٹس لینے کی درخواست کی۔بشپ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کیرالہ مسلم جماعت کونسل کوٹیم ضلع کمیٹی نے کہا کہ دونوں برادریوں کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرنے پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی
جانی چاہیے۔