کیس بند کرنے کےلیے رشوت مانگنے کے الزام میں سی بی آئی نے ای ڈی اہلکار سمیت 2 کو کیاگرفتار

نئی دہلی:انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ای ڈی) میں چل رہی مبینہ شکایات کو بند کرنے کے بدلے2 کروڑ روپے رشوت مانگنے پر سی بی آئی نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ملازم سمیت 2 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ الزام ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ملازم نے مبینہ طور پر شکایت کنندہ کے گھر پر چھاپہ بھی ماراتھا۔ سی بی آئی نے دونوں گرفتار افراد کو خصوصی سی بی آئی عدالت میں پیش کیا، جہاں سے انہیں 5 روزہ سی بی آئی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔سی بی آئی کے ترجمان آر سی جوشی کے مطابق گرفتار کئے گئے افراد میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ بنگلور کے دفتر میں کام کرنے والے ایم ٹی ایس ملازم ڈی چنکشیالواور ایک نجی شخص وریش کمار شامل ہے۔ سی بی آئی نے ایک شکایت کی بنیاد پر دونوں لوگوں کے خلاف اور کسی نامعلوم کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ شکایت کنندہ نے سی بی آئی کو بتایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ میں کام کرنے والے ایک ایم ٹی ایس ملازم نے بنگلور کے ایک ہوٹل میں اس سے رابطہ کیا تھا۔اس دوران انھوں نے اپنا تعارف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے افسر کے طور پر کرایا اور بتایا کہ شکایت کنندہ کے خلاف بہت سی شکایات ہیں۔ الزام ہے کہ ان شکایات کے ازالے کے بدلے میں اس نے دو کروڑ روپے رشوت مانگی۔ یہ بھی الزام ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ملزم ملازم نے شکایت کنندہ کے گھر چھاپہ بھی ماراتھا ۔سی بی آئی کو موصولہ شکایت کے مطابق اس کے بعد شکایت کنندہ مذکورہ ملزم ملازم کو 6 لاکھ روپے دینے پر راضی ہوگیا، جسے ملزم ملازم نے کسی اور جگہ لانے کو کہا۔ جب شکایت کنندہ وہاں پہنچا تو اسے وہاں ایک نجی شخص ملا۔ اس پر شکایت کنندہ نے نجی شخص سے کہا کہ چونکہ اسے رقم ادا کرنی ہے، اس لئے ملزم افسر کی موجودگی بھی ضروری ہے۔ اس کے بعد سی بی آئی نے ایک جال بچھاتے ہوئے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ملزم ملازم سمیت دونوں ملزموں کو گرفتار کرلیا۔دونوں کو خصوصی سی بی آئی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انھیں پوچھ گچھ کے لیے 5 روزہ سی بی آئی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔ سی بی آئی یہ جاننا چاہتی ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ملازم کے پاس مذکورہ شخص کے خلاف حساس شکایات کہاںسے آئی؟ کیا کچھ دوسرے افسروں اور ملازمین کی بھی اس کے ساتھ ملی بھگت ہے؟ اس سے پہلے بھی کیا اس نے کچھ دوسرے لوگوں سے رقم وصول کی ہے؟۔ سی بی آئی ذرائع کے مطابق اس معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے دیگر ملازمین کی شمولیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ فی الحال اس معاملے کی تفتیش جاری ہے۔