24.2 C
نئی دہلی
Image default
تجزیہ

کرونا وائرس اور موجودہ کشمکش! محمد سالم سَرَیَّانوی

 

پچھلے کئی ہفتوں سے ہمارے وطن عزیز میں "کورونا وائرس” کا حملہ ہے، اور مسلسل اس کا زاویہ بڑھ رہا ہے، اس بیماری کا کوئی حتمی علاج دستیاب نہیں ہے، اس لیے حکومتی سطح پر اس سے بچاؤ کے لیے "احتیاط” ہی کو واحد علاج قرار دیا گیا ہے، اسی ذیل میں سب سے پہلے تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا، پھر دیگر مقامات کو، اس کے بعد وزیر اعظم کی طرف سے 22/ مارچ کو پورے ملک میں "جنتا کرفیو” نافذ کیا گیا۔

ادھر "کورونا” ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے، بل کہ مسلسل اپنے پیر پسار رہا ہے، مختلف صوبائی حکومتوں نے اپنی ریاستوں کو لاک ڈاؤن کرنا شروع کردیا، آج 24/ مارچ کو احتیاطی طور پر پورے ملک کو 15/ اپریل تک کے لیے لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے، ایسے میں نئے مسائل کا پیدا ہونا یقینی ہوگیا ہے۔

ایک طرف حکومتی طور پر سخت احتیاط برتنے کے احکامات جاری کیے جارہے ہیں، دوسری طرف عوام ہے، جو اپنے کو سب سے زیادہ چالاک سمجھ رہی ہے، اسی لیے اکثر علاقوں میں لاک ڈاؤن کی پاپندیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے، جس کو جو سمجھ میں آرہا ہے وہ کررہا ہے، نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت نے سخت ایکشن لیا اور پورے ملک کو 21/ دن کے لیے لاک ڈاؤن کردیا۔

موجودہ حالات میں مختلف پریشانیاں ہیں، جن کے حل پر توجہ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے، لاک ڈاؤن کی صورت میں بازاروں کے دام بڑھا دیے گئے ہیں اور جی کھول کر لوٹنے گھسوٹنے کا کام جاری ہے۔

یومیہ اور دھاڑی مزدوروں کے گزر بسر کے بڑے مسائل پیدا ہوگئے ہیں، صوبائی حکومتوں نے اس کے لیے مختلف اعلانات کیے ہیں، لیکن ان اعلانات کا فائدہ ایسے لوگوں کو کیسے پہنچے یہ حکومت کے لیے بہت اہم بھی ہے اور چیلنج والا بھی ہے۔

وطن عزیز میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی بھی ہے جو خانہ بدوش ہے، ان کی حفاظت اور روزی روٹی کا نظم کیسے ہو، یہ بھی نہایت اہم ہے۔

لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں آمد و رفت کے ذرائع بھی مسدود ہیں، جو جہاں ہے وہیں تھم گیا ہے، ایسے لوگوں کی حفاظت، ان کے گھروں تک واپسی اور دوسرے کام بھی اہم ہیں۔

لاک ڈاؤن کی صورت میں عام علاج معالجہ کا معاملہ بھی پیچیدہ ہوگیا یے، حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کی آسان اور مفید شکلیں پیدا کرے۔

"کرونا وائرس” سے بچاؤ کے سلسلے میں حکومت اور محکمۂ صحت اپنے طور سے بھر پور کوشش کررہے ہیں، ہم کو ایک ذمہ دار شہری اور ہندوستانی ہونے کے ناطے اپنے فرائض کو نبھانا اور انجام دینا لازمی ہوگا۔

یہ بہت سے کام کے ہیں، لیکن ہم بھی اپنے طور یہ کام کرسکتے ہیں، اگر اللہ نے راستے دیے ہیں تو ان کو استعمال کرنا چاہیے۔

مذکورہ بیماری سے بچاؤ کے لیے، احتیاط ہی سب بڑی دوا اور علاج ہے، اس لیے لوگوں کے اختلاط سے بچنا، بار بار ہاتھ دھلنا، مصافحہ سے احتیاط برتنا اور گرم پانی پینا وغیرہ ہمارے کرنے کے کام ہیں۔

اسی ذیل میں عبادتی مقامات کو بھی بند کیا جارہا ہے، مختلف مساجد کو مقفل کرنے کی خبریں آرہی ہیں، ایسے میں ہم مسلمانوں کو سمجھداری سے کام لینے کی ضرورت یے، ورنہ آگے چل کر بڑے نقصانات اٹھانا پڑ سکتے ہیں، بڑے مدارس اور دیگر علماء نے مساجد کے تعلق سے بہترین آراء بیان کی ہیں، ان پر عمل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

مساجد میں نماز کے تعلق سے احتیاط بہت ضروری ہے، جماعت کے لیے مساجد میں افراد کم جائیں، گھر سے استنجاء اور وضو سے فارغ ہوکر بل کہ سنت قبلیہ پڑھ کر جائیں، فرائض کے بعد جلد ہی گھر کو روانہ ہوجائیں، مساجد کو صاف ستھرا رکھیں، وغیرہ۔

اگر آج بھی ان چیزوں پر توجہ نہیں دی گئی تو آگے مسائل بڑھ سکتے ہیں اور پریشانیاں زیادہ ہوسکتی ہیں، اللہ سب کے ساتھ خیر کا معاملہ فرمائے، اور اس بیماری سے سب محفوظ رکھے۔ آمین

متعلقہ خبریں

Leave a Comment