کیا آئیڈیل مسلم کالونی/ مسلم معاشرہ بنایا جا سکتا ہے؟۔ مسعودجاوید

کتابیں ، رسالے ، مقالے اور سیمنار سمپوزیم میں
ریاست مدینہ کا عکاس مسلم معاشرہ کے موضوع پر
باتیں بہت کی گئیں مگر دنیا میں کوئی ایک بھی ایسا ملک نہیں ہے جسے نمونہ کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جاسکے کہ یہ ہے اسلامی ریاست اور ایسا ہوتا ہے مسلم معاشرہ ! اسلام کا سیاسی نظریہ کی عملی شکل یہ ہے ! اسلامی معیشت ، اسلامی قوانین، اسلامی تمدن اور متعدد مذاہب اور ثقافت والوں کے ساتھ تعامل کے یہ ہیں رہنما ہدایات اور یہ ہیں بقاء باہم کے اسلامی اصول وضوابط ۔

مسلمانوں کی ہمہ جہتی تعمیر وترقی کے لئے مختلف میدانوں میں grassroot level پر کام کرنے کی ضرورت تھی ، ہے اور رہے گی۔
ہمہ جہتی تعمیر وترقی کے تجربہ گاہ کے لیے ایک ایسے علاقہ کی ضرورت ہے جہاں متوسط اور ادنیٰ درجات کے خواندہ ، نیم خواندہ اور ناخواندہ مسلمانوں کی نسبتاً بڑی تعداد رہتی ہو۔ حسن اتفاق دہلی میں جامعہ نگر کی شکل میں اللہ ‌نے ایک ایسا خطہ سے ہمیں نوازا ہے جس میں دس بارہ مسلم کالونیاں ہیں جن میں بسنے والے پنچانوے ٩٥ فیصد مسلمان ہیں ۔ یا کسی بھی شہر کے کسی مسلم آبادی والے محلہ کو مثالی محلہ کم ازکم صفائی ستھرائی کے معاملے میں بنا سکتے ہیں!
معیشت بہتر کرنا بھی ہمہ جہتی ترقی کا ایک پہلو ہے۔ معیشت کی بہتری کا دار و مدار دنیاوی پیمانے کے اعتبار سے بینکنگ ہے۔ عام لین دین ، لوکل اور انٹرنیشنل ٹرانزیکشن ، انویسٹمنٹ اور فائننس کے لیے بینکنگ سروسز ناگزیر ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ راست بینکوں کا سہارا لئے بغیر ضرورت مندوں کو چھوٹے پیمانے پر قرض دے کر ان کے کاروبار کی توسیع نہیں کی جا سکتی ہے۔
مثالی ریاست کا بہترین تجربہ گاہ لیبارٹری مملکت خداداد بن سکتی تھی اس لئے کہ زندگی کے ہر شعبے میں ان کے ارباب حل و عقد کو اپنا مستقل نظام مرتب کرنا تھا ایک virgin land اور زمین کا ایک ایسا ٹکڑا جس میں اپنی مرضی کے مطابق آئرن کاسٹ کیا جا سکتا تھا۔ ۔ ۔ لیکن افسوس وہ حقیقی معنوں میں ماڈرن اسلامی ریاست کیا صحیح معنوں میں سیکولر جمہوری اسٹیٹ بھی نہیں بن پایا۔ بہر حال یہ اس ریاست کے شہریوں کا معاملہ ہے اور انہوں نے ہی طے کرنا تھا اور ہے کہ وہ اپنے خودمختار ملک کے لیے کیسا نظام پسند کرتے ہیں ۔‌

ہمارا ملک ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے اور اس ملک کا آئین ہر شہری اور کمیونٹی کو اجازت دیتا ہے کہ مذہبی ، لسانی اور دیگر اقلیتیں اپنی اپنی کمیونٹی کی تعمیر و ترقی کے لئے کام کریں۔ پسماندہ طبقات کے لیڈر عوامی چندے سے اور سرکاری اسکیموں سے اپنے لوگوں کو بااختیار بنائیں اور socio-economic empowerment کو یقینی بنائیں۔‌

ملک کی سطح پر پڑوس ملک کو ایک مثالی ملک بنایا جاسکتا تھا جو نہیں بن پایا ۔۔۔۔۔۔ کالونی کی سطح پر جامعہ نگر کو آئیڈیل کالونی بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس اس جانب توجہ نہیں دی گئی ۔ جماعت اسلامی ہند، جمعیت علماء ہند، جمعیت اہل حدیث ، ملی کاؤنسل کے علاوہ دسیوں ملی تنظیموں کے مرکزی دفاتر یہاں ہیں مگر اب تک کسی بھی تنظیم نے اسے آئیڈیل مسلم کالونی بنانے کی کوشش نہیں کی، مسلم معاشرہ کو بالفاظ دیگر مسلمانوں کو، مسلمان بنانے کی کوشش نہیں کی۔
شاید اس لیے کہ یہ ان تنظیموں کے اغراض و مقاصد میں شامل نہیں ہے۔ لیکن شامل کیوں نہیں ہے؟ اگر ان تنظیموں کے اغراض و مقاصد میں نہیں ہے تو کیوں نہیں کوئی دوسری تنظیم اس مقصد کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی ؟

ہندوستان میں اتنی بڑی آبادی والی شاید ہی کوئی کالونی ہو پھر بھی : –
١- خیراتی شفا خانے، چیریٹیبل کلینک ، نرسنگ ہوم اور ہسپتال سے مسلمانوں کی اتنی بڑی کالونی محروم ہے !
بعض گوردواروں اور مندروں میں بلا تفریق مذہب و ذات برادری ، ڈاکٹرز رضاکارانہ اپنا وقت دیتے ہیں ، مرض کی تشخیص کرتے ہیں مفت یا معمولی قیمت پر دوائیاں دیتے ہیں اور بہت معمولی رقم لے کر الٹرا ساؤنڈ اور سٹی اسکین کرتے ہیں۔ یہ سب خالصتاً خدمت خلق کے جذبے سے کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ ہم‌ "خیر امت ” کے ٹائٹل والوں کے یہاں لنگر میں کھانا کھلانے کا نظام کیوں نہیں ہے ؟ مساجد ، خانقاہوں اور مزارات کی عمارات میں خیراتی ڈسپنسری کیوں نہیں ہیں؟ ۔

٢- سرکاری منظوری والے یا سی بی ایس ای سے الحاق شدہ دسویں اور بارہویں درجے تک کا کوئی اسکول اس کالونی میں نہیں ہے ! پرائیوٹ اسکولوں کا جال پھیلا ہوا ہے لیکن الحاق کی شرائط پوری نہیں کرنے کی وجہ سے غیر الحاق شدہ ہیں ۔ بچوں کو نویں کلاس سے دوہری فیس ادا کرنی ہوتی ہے؛ ایک اس علاقے کے اسکول کی جہاں وہ پڑھتے ہیں اور دوسری دور دراز کسی الحاق شدہ اسکول کی جہاں ان کا رجسٹریشن نویں اور دسویں درجے میں ہوتا ہے اور حاضری بنتی ہے تاکہ سی بی ایس ای کی ڈگری مل سکے۔

تعلیمی میدان میں اسکول ،کالج ،انسٹیٹیوٹ کا قیام اسی طرح صحت کے میدان میں نرسنگ ہوم اور ملٹی اسپیشیلیٹی ہسپتال قائم کرنا خدمت خلق کے ساتھ ساتھ نفع بخش تجارت بھی ہے بشرطیکہ خدمت خلق کا جذبہ کے تحت فیس مناسب ہو اور اپروچ بہت زیادہ کمرشیل نہ ہو۔

٣- بیت المال ، میکرو فایننںسنگ ، ریڑھی ٹھیلی والوں کو قرض دے کر یومیہ یا ہفتہ واری وصولی کا کوئی نظم نہیں ہے!
٤- آپسی تنازعات کے حل کے لیے ، تجاوزات ہٹانے کے لئے ، کالونی کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے ، کالونی کو منشیات اور جنسی ہراسانی سے بچانے کے لئے کوئی مؤثر سیٹیزن فورم نہیں ہے۔

اسے المیہ کہا جائے یا تضاد کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جے این یو دہلی، دہلی یونیورسٹی اور پورے ملک بالخصوص شمالی ہند کی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل حضرات و خواتین یعنی cream of the society کا مسکن یہی جامعہ نگر ہے پھر بھی سڑکوں پر گندگی کے انبار، سیوریج سے نکل کر سڑکوں پر بہتی گندگی، سڑکوں کے دونوں کناروں پر تجاوزات، سڑکوں کو تنگ کرتے ٹھیلے اور ریڑھیاں ، دوسروں کی رعایت کیے بغیر ، جگہ جگہ پارک کی ہوئیں گاڑیاں ! مسلمانوں کی تعلیم یافتہ سوسائٹی میں اگر یہ سب برداشت کیا جاسکتا ہے تو کم تعلیم یافتہ اور ناخواندہ مسلمانوں کی کچی بستیوں میں کیا حال ہوگا اس کا تصور کیا جا سکتا ہے۔

میں مانتا ہوں کہ سیوریج ،سڑکوں کی صفائی اور تجاوزات ہٹانا یہ کارپوریشن کی ذمہ داری ہے تاہم بہت سے ایسے کام بھی جن کے ذمہ دار ہم خود ہیں ۔ ایک اچھے شہری ہونے کا ثبوت دینے کے لئے ہمیں خود بھی آگے انا ہوگا ۔ لوگوں کی ذہن سازی کرنی ہوگی ان سے مؤدبانہ درخواست کرنا ہوگا ان کے اندر بیداری پیدا کرنا ہوگا ۔ مساجد کے ممبروں سے اپیل کرنی ہوگی اور اس بابت لوگوں کو مذہبی نقطہ نظر سے آگاہ کرنا ہوگا اس لئے کہ بسا اوقات قانون اتنا مؤثر نہیں ہوتا ہے جتنا مذہبی اپیل اور دینی رہنما خطوط/ گائیڈ لائنز.

مثالی معاشرہ بنانے کے لئے ہمسایہ کے حقوق کی بابت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر عمل کرنے کی ضرورت ہوگی اور وہ یہ کہ دس فیملی آگے دس فیملی پیچھے دس فیملی دائیں اور دس فیملی بائیں اپنے پڑوسیوں کی خبر گیری کرنی ہوگی۔ اس خبر گیری کی وجہ سے بسا اوقات آپ بہت سی شر سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور دوسروں کو منشیات اور چوری کرنے جھپٹا مارنے اور اور خواتین کو ہراساں ہونے سے بچا سکتے ہیں ۔ جو ذہنی طور پر حد سے زیادہ پریشان حال ہیں وہ یا تو ڈپریشن کے شکار ہو رہے ہیں یا منشیات کے عادی۔ نشہ آور اشیاء کی شدید طلب چوری اور ڈکیتی کی طرف دھکیلتی ہے۔
پڑوسی کے حقوق کا احساس کرتے ہوئے ایسے لوگوں کی خبر گیری اور کاؤنسلنگ انہیں بری عادتوں سے روک سکتی ہیں ۔

اپنی کمیونٹی کے لوگوں کے ساتھ خیرخواہی کرنے کو اللہ کے رسول صلی االلہ علیہ و سلم نے عین دین بتایا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‘الدين النصيحة ‘. سوسائٹی کے لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ہمدردی کرنے سے ایک زبردست اجتماعی طاقت وجود میں آ سکتی ہے ۔