کیمبرج کا سموسہ ـ ڈاکٹر عمیر انس

‌یہ کوئی دس سال پہلے کی بات ہے، میں پہلی بار کیمبرج یونیورسٹی میں ایک کانفرنس میں شریک ہونے پہنچا تھا، پہلے ہی دن صبح صبح میں ٹہلنے نکل پڑا، کچھ دیر بعد ایک دکان نظر آئی اور میں کسی ضرورت سے اندر گیا، پایا کہ ایک صحت مند مسلمان دکان کا مالک ہے، میں ہندوستانی ہوں یہ بات بھی چھپے رہنے کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی، اور دکان مالک پاکستانی ہے یہ بات انہوں نے مجھ اور اپنی حیرت بھری نگاہ سے ظاہر کر دی تھی، انہوں نے بلا تکلف اردو میں کہ دیا، آپکی صحت بتاتی ہے کہ آپ پاکستانی تو نہیں ہیں، اور اردو لہجہ پنجابیت سے محفوظ ہے اس لیے آپ لکھنو علاقے کے ہو سکتے ہیں، چونکہ اردو زبان اور لہجہ پکڑنا میرا بھی محبوب شوق ہے میرے لیے خوشی اور حیرت کی بات تھی کہ اتنی خود اعتمادی کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوگی، ایک بار جب ہم دہلی میں نئے نویلے پہنچے تھے، ایک پروفیسر صاحب سے ملنے گئے، ہم سے پہلے ایک صاحب اپنی بات ختم کرکے الوداع لے رہے تھے، میں اندر آگیا اور وہ باہر دروازے پر، انکے نکلنے سے پہلے ہی میں نے انکو اندر سے ہی پوچھا کہ آپ مودہا کے ہیں، وہ صاحب فوراً اندر واپس آئے، میری جنم کنڈلی کا اپنے شہر سے تعلق تلاش کرنے لگے، سراپا حیرت کیونکہ میں صحیح تھا، میں نے کیمبرج میں اس دکاندار سے بھی فورا پوچھا آپکو کیسے معلوم؟ کہنے لگے آپ ہمارا سموسہ کھائیں آپکو معلوم ہو جائے گا، اور یہ کہ کر دکان کے کھانے پینے والے حصے میں ایک شکیل صاحب کو آواز دی، کہا کہ ہندوستانی بھائی کو سموسہ کھلائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ ہم لکھنؤ کے ہیں، شکیل صاحب گوشت کاٹ رہے تھے، چھوڑ چھاڑ کر فوراً باہر آگئے، بہت تپاک سے ملے، کہنے لگے میں بھی لکھنؤ کا ہوں، بخشی کا تالاب انکا جائے قیام ہے، اُنہونے ہمیں سموسہ کھلایا اور دکان مالک نے انہیں کچھ دیر کی چھٹی دی اور وہ میرے ساتھ ہو لیے، لکھنؤ سے لندن اور لندن سے کیمبرج پہنچنے کی دس سال کی کہانی سنائی، اس زمانے میں انکی تنخوا چھ سو پاؤنڈ تھی، کھانا اور رہنا پاکستانی بھائی کے ذمے تھا، ایک ایک پاؤنڈ بچا کر اپنے بینک میں غالبا چھ ہزار جمع کرنا تھا کیونکہ ڈرائیونگ لائسنس کی یہ شرط ہے، ڈرائیونگ لائسنس کی ضرورت گاڑی کے لیے نہیں بلکہ برطانوی شہریت کے لیے کسی طرح سے ضروری تھی، اپنی سائیکل دی اور کہا گھوم۔پھر کر واپس دے جانا، واپسی میں اپنےگھر والوں کے لیے سامان باندھ کر دیا اور دوبارہ آنے سے پہلے ضرور باخبر کرنے کی درخواست کی، دو ہزار پندرہ میں پھر جانا ہوا، اس بار وہ شہریت لے چکے تھے، انکی تنخواہ بھی بڑھ چکی تھی اور اب بیوی۔بچوں کے ویزا کے لیے پچیس۔ہزار پاؤنڈ غالبا جمع کرنے کی فکر میں تھے، فیملی ویزا کے لئے اتنی رقم انکے اکاؤنٹ میں غالبا لازمی مانگی گئی تھی، دو ہزار سترہ میں وہ ہندوستان آئے، اتفاق سے میں ترکی کے سفر پر تھا لیکن انکے فیملی ویزا کی کارروائی کے لیے ایک دوست سے انکی مدد کرنے کے لیے راضی کر لیا، خیر سے کیمبرج میں اس سموسے سے کئی باتیں نظر آئیں!
گھر زمین بیچ کر مسلمان مزدور خلیج کی طرف گئے، سکھ قوم کناڈا امیرکا گئی، پنڈت جی گجراتی برطانیہ گئے، تمل تیلگو اور کنڑ امریکہ پہنچے، باقی جو بچے وہ سینٹرل ایشیا، آسٹریلیا وغیرہ گئے، ابھی ایک تلخ سردار نوجوان کا ویڈیو وائرل ہوا تھا جو یہ بتا رہا تھا کہ ہندو قوم نے امریکہ میں پیسہ کمانے اور انکے جیسے بننے کے لیے دن رات محنت کی اور انکے جیسے وہاں تو نہیں ہوئے لیکن ہندوستان کے حالات میں وہ اسی طرح بات کرتے ہیں جیسے سفید لوگ امیرکا میں کالے اور بھورے لوگوں کے خلاف بات کرتے ہیں، مسلمان مغربی ممالک کا رخ کیوں نہیں کر سکے ایک سوال ہے، ہو سکتا ہے کچھ مسلمان مسلمان ممالک سے ہمدردی میں وہاں کا رخ کرتے ہوں لیکن ہر شخص بنیادی طور پر اپنے اور اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کی تلاش میں ہی جاتاہے، یہ افسوس کی بات ہے کہ بعض ایجنسیاں اور افراد گلف ممالک میں اب۔بھی اپنا مستقبل دیکھتے ھیں، اور حقیقت یہ ہےکہ یہ ممالک اب ہندوستانی مسلمانوں کی صلاحیت اور محنت کا ادھورا پیسہ بھی نہیں دیتے، آپ ایک مسلمان انجینئر، ایک گجراتی انجینئر اور ایک برطانوی مزدور کی تنخواہوں کا مقابلہ کر لیں، مسلمان سب۔سے۔بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود بہت تیزی سے اپنا تجارتی رسوخ کھو رہے ہیں، اگر اُنہونے جلد ہی اپنا سرمایہ اور تجارتی حکمت تبدیل نہیں کری تو اُنہیں اپنی کمپنیاں بند کرنے پر مجبور ہونا پڑے گاـ
ویسے اگر گلف ممالک میں مسلمانوں کی جگہ اکثریت مزدور ہندوؤں کی ہو تو اس میں حرج بھی کیا ہے، اسکے دو فائدے یا دو نقصانات ہونگے، یا تو ہندوستانی اچھے مزدوروں کی طرح کام کرینگے یا نہیں، لیکن جب وہ غلط اور غیر اخلاقی حرکتیں کرینگے تو گلف حکومتیں ہمارے برادران۔وطن میں اصلاح اور دعوت کے لیے زیادہ فکر مند ہونگے، ہندوستانی مسلمان مزدوروں نے گلف ممالک کو سستی محنت اور صلاحیت فراہم کرکے ہو سکتا ہے کہ گلف ممالک پر ایک احسان کیا ہو جسکا وہ کبھی شکریہ ادا نہیں کر سکتے لیکن مسلمانوں نے اپنی محنت اور صلاحیت کو صرف گلف اور عرب مملک میں ہی جھونک کر اپنے لیے دوسرے ممالک کے راستے محدود کرکے ایک تاریخی غلطی کی ہے، کیا حرج تھا اگر ڈرائیور، مزدور، گھریلو کام کاج والے، چھوٹے موٹے ٹیکنیکل جوبس والے نوجوان کسی بھی طرح امریکہ برطانیہ آسٹریلیا پہنچ جاتے، کم از گلف ممالک کو ایک مسلمان انجینئر کو بھی وہی تنخواہ دینے کی فکر ہوتی جو وہ برداران وطن کو آفر کرتے ہیں، انہیں بھی اپنی کمپنیوں میں شامل کرتے اور اعلیٰ پوسٹس دیتے، اپنی محنت کو صرف ایک علاقے، ایک طرح کی نوکری، ایک طرح کی تجارت اور ایک طرح کے لوگوں کے درمیان تجارت یا نوکری آج کے حالات میں ہمیشہ نقصاندہ ثابت ہوا ہے، ہر انسان اپنے لیے متعدد متبادل بنا کر رکھتا ہے اور ہر کمپنی تو ہر حال میں ایسا کرتی ہےـ
حیرت کی بات ہے کہ گلف ممالک میں کام کرنے والا بغیر شہریت کے لالچ میں پچیس پچاس سالوں تک ٹک کر کام کرنے والا مسلمان اپنے ملک کے لیے وفادار بھی ہی اور فکر مند بھی لیکن امریکہ اور برطانیہ میں شہریت حاصل کر چکے آر ایس ایس کے ممبران وہاں سے بیٹھ کر ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف منصوبے بناتے ہیں، انکے خلاف تشدد کرنے پر ہندوستانی ہندوؤں کو ورغلاتے ہیں، اور یہ سب وہ دیش بھکتی کے نام پر کرتے ہیں، مزدوری کی منہ مانگی قیمت لینے میں توازن بگڑ چکا ہے، مسلمان مزدور مارے باندھے صرف ایک دو ممالک کے نوکری دینے والوں پر کیوں منحصر رہ گیا، آپ نے انکے مسلمان ہونے کی فکر کی لیکن کیا اُنہونے نے کی؟ برطانوی اور آسٹریلین اور یورپی ممالک کو ہندوستانی مسلمانوں کی بھی خوبیاں پتہ چلنا۔چاہیے تھا، انکی صلاحیت، محنت اور لگن سے انکو بھی واقف ہونا۔چاہیے، اس کام میں خود پڑھے لکھے نوجوانوں کو اپنے دم پر قدم اٹھانا چاہیے اور سبھی لوگوں کو ان ممالک کا رخ کرنے والے افراد کی رہنمائی اور مدد بھی کرنا چاہیے، ویسے مدارس اسلامیہ میں فرانسیسی، جرمن، روسی، جاپانی، چائنیز، اسپینش، اٹالین، وغیرہ زبانیں سکھائی جائیں تو کیا عیب ہے، عربی کے ساتھ ان زبانوں میں سے کسی ایک اور زبان کی مہارت آج فضلاء مدارس مغربی ممالک اور چین اور جاپان میں دین کی خدمت کے ساتھ اچھے تجارتی اور دوسری نوکریوں پر ہوتے، آخر کار دہلی میں۔بھی میڈیکل ٹورزم یا دیگر زبانوں کی ترجمانی تو کر ہی رہے ہیں، ایک ودیا بهون نے سینکڑوں نوجوانوں کو تیار کرکے کہاں کہاں۔بھیج دیا اور ہمارے نوجوان فارغین کی کامیابی صرف گلف ممالک میں امامت اور مترجم کے فرائض۔سے ہی کیوں ناپی جائے، واقعہ یہ ہےکہ اگر ہر مدرسہ اپنے زمہ صرف ایک ہی زبان کی مہارت پیدا کرنے کی زمہ داری لے لے تو ہمارے مدرسے بین الاقوامی ہو جائیں، پوری دنیا میں قرآن اور سنت کے اچھے اساتذہ کی ضرورت ہے لیکن زبان کی کمی سے ہندوستانی فارغین کہیں نہیں جا سکتے، بیحد۔ضروری۔ہے ہمارے مدارس اب عرب ممالک کی طرف سے بہت امید نہ رکھیں، اور نہ ہی ان پر منحصر ہو کر رہیں، اپنا تعارف دنیا کے تمام ممالک میں کریں، کیا بہتر ہوتا کہ ندوہ۔دیوبند فلاح اصلاح کی شاخیں سے یورپ اور جاپان میں بھی قائم ہوتی اور وہاں کی زبانوں میں ماہر اساتذہ یہاں سے وہاں جاتے! صرف مدارس ہی کیوں، متعدد اسکول اور کالجز ہیں کو مسلمانوں کے زیر انتظام ہیں جہاں معمولی توجہ سے بھی بہتر کیریئر پلاننگ کرائی جا سکتی ہے اور مسلمان نوجوان گلف سے بھی بہتر مواقع حاصل کر سکتے ہیں ـ

بہر حال اس مختصر قصہ کے ذریعے صرف یہ بات پہنچانا چاہتا ہوں کہ گلف ممالک سے باہر کی دنیا میں بھی ہزاروں مواقع ہیں اور ان مواقع کو ضائع کرنا نادانی ہوگی!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*