کیبCABکیاہے؟ کتناخطرناک ہے؟

احمدالیاس نعمانی

کیب يعنی Citizenship amendment bill ہماری پارلیمنٹ میں عنقریب پیش کیا جانے والا ایک بل ہے، اس بل کے مطابق پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہجرت کرکے آنے والے تمام غیر مسلم افراد کو ہندوستان کی شہریت حاصل ہوگی، جب کہ مسلمانوں کو نہیں ہوگی۔
اس کی خطرناکی کا اصل پہلو یہ ہے کہ آسام میں ہونے والی این آر سی میں جو 19 لاکھ سے زائد افراد غیر ملکی قرار دیے گئے ہیں ان میں سے تقریبا 14 لاکھ ہندو ہیں جنہیں اس بل کے پاس ہونے کے بعد ملک کی شہریت مل جائے گی، جب کہ 5 لاکھ کے قریب جو مسلمان ہیں ان کو شہریت نہیں ملے گی، وہ اس ملک میں غیر ملکی ہوں گے، یعنی انہیں ان کی زمینوں، جائیدادوں اور مکانوں سے بالجبر بے دخل کردیا جائے گا اور لے جاکر ڈٹنشن سینٹرز میں داخل کردیا جائے گا جہاں وہ اور ان کی اگلی نسلیں نہ جانے کب تک جیل سے بدتر حالت میں رہنے پر مجبور ہوں گی۔
یہ تو آسام کے پس منظر میں اس کی خطرناکی ہے، اگر حکومت کےارادے کے مطابق پورے ملک میں این آر سی ہوا تو لاکھوں نہیں کروڑوں ہندوستانی مسلمانوں کو اسی آفت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جن میں ہم آپ بھی ہوسکتے ہیں۔
یعنی اس بل کا مقصد بس یہ ہے کہ ظالمانہ این آر سی کی زد پر صرف مسلمان آئیں، ہندووں کو صاف بچالیا جائے۔
اگر یہ بل پاس نہ ہوسکا تو چونکہ این آر سی کی زد پر مسلمانوں سے کہیں زیادہ ہندو آجائیں گے (جیسا کہ آسام میں ہوا) اس لیے این آر سی یقینا ٹل جائےگا۔ این آر سی کا سارا طوفان مسلم دشمنی ہی میں تو اٹھایا گیا ہے، کیب اسی کا راستہ صاف کرنے کی ایک کوشش ہے، جسےناکام بنانا ہر حال میں بہت ضروری ہے۔
ایک سوال یہ ہے کہ کیا کیب کو پاس ہونے سے روکا جاسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب ہے: جی ہاں، اسے روکا جاسکتا ہے۔ اس کا آسان اور فطری طریقہ تو یہ تھا کہ اس بل کے خلاف ایسی لابنگ کی جائے کہ یہ راجیہ سبھا میں پاس نہ ہوسکے۔ یہ کچھ مشکل کام نہیں ہے، ماضی قریب میں ہی ہم نے دیکھا تھا کہ طلاق سے متعلق بل جب پہلے پیش ہوا تو پرسنل لا بورڈ کے بعض افراد نے اس کے خلاف لابنگ کی تو یہ بل پاس نہ ہوسکا، لیکن پھر جب دوبارہ پیش ہونے پر لابنگ نہیں کی گئی تو یہ پاس ہوگیا۔
لیکن چونکہ یہ لابنگ کا کام ملی تنظیموں کے ذریعہ ہونا تھا اور افسوس کہ وہ مہر بلب ہیں بلکہ ان میں سے ایک تنظیم کے ذمہ داران تو کھلے عام این آر سی کی حمایت کر چکے ہیں اس لیے اب راجیہ سبھا میں موجود اپوزیشن کے ممبران کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ تمام مسلمانوں کی نگاہ آپ پر ہے، اگر آپ نے اس بل کی صاف حمایت کی، یا واک آوٹ اور غیر حاضر رہ کر اس ظالمانہ بل کی درپردہ حمایت کی تو سمجھ لیجیے کہ آپ کی پارٹی کو ہمارا ووٹ کبھی نہیں ملے گا، ہم آپ کو اپنے بدترین دشمنوں میں شمار کریں گے، یقین جانیے کہ اگر امت یہ احساس دلانے میں کامیاب ہوگئی تو ان شاء اللہ یہ بل پاس نہ ہوسکے گا، جیسے طلاق کا بل پہلی مرتبہ ناکام ہوا تھا، لیکن اگر امت نے آواز بلند نہ کی، شور نہ مچایا تو سمجھ لیجیے کہ لاکھوں یا کروڑوں مسلمانوں کی زمینیں اور مکانات ضبط ہوں گے اور وہ ڈٹنشن سینٹرس نامی بدترین جیل میں ہوں گے۔
سوشل میڈیا کے اس زمانے میں تنظیموں کے خاموش رہنے کے باوجود بھی شور مچانا اور اپنی فکر وناراضگی کا احساس دلانا کچھ مشکل نہیں اگر ہم باشعور ہوں۔
سوشل میڈیا سے ہی شور مچالیجیے، ہنگامہ کردیجیے، بعض اپوزیشن پارٹیز کچھ سرگرم ہورہی ہیں، آپ کی آواز ان کو اور زیادہ مخالفت پر آمادہ کرے گی۔ یہ وقت کا سب سے بڑا اور فوری توجہ طلب کام ہے، کم از کم اتنا تو کریے کہ اس بل کے خلاف ایک مختصر سی تحریر ہی سہی، چند جملے ہی سہی لکھ کر فیس بک یا ٹویٹر وغیرہ پر پوسٹ کیجیے، اپنے جاننے والوں کو اس بل کی خطرناکی سے آگاہ کیجیےاور ان سے بھی کچھ کہنے، لکھنے اور بولنے کی درخواست کیجیے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*