سی اے اے-این آر سی کیخلاف تحریک کی حصولیابیاں اور اسباق

محمد علم اللہ

شہریت ترمیم قانون اور مجوزہ این آر سی کے خلاف ملک گیر تحریک جاری ہے۔ہر چند کہ یہ تحریک ابھی ختم نہیں ہوئی ہے؛لیکن اس نے بہت سے نتائج ابھی سے دے دیے ہیں۔

اول: ملی قائدین کہے جانے والے دلال اگر ضمیر بیچ کر خاموش ہو جائیں تو بھی خود قوم ناانصافی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کسی ارشد مدنی، ولی رحمانی، کلب جواد یا محمود مدنی کے بغیر چلائی جانے والی تحریک زیادہ مؤثر اور کامیاب ہو سکتی ہے۔

دوم:جامعہ اور اے ایم یو کے اساتذہ اپنےاحتجاجی طلبہ کے ساتھ پوری طاقت کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں جبکہ ندوہ اور دیوبند کے منتظم اور اساتذہ اپنے احتجاجی طلبہ کو ہی ڈرانے دھمکانے میں لگے ہوئے ہیں۔

سوم:دلالوں کے بے نقاب ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ مولانا ولی رحمانی نے اسی نتیش کمار سے ملاقات کی، جس کی پارٹی نے شہریت ترمیم قانون کی منظوری ممکن بنائی تھی۔ مولاناکلب جواد بھی حکومت کی خوشنودی کے لئے بیان بازی کر رہےہیں ۔

چہارم:مولانا ارشد مدنی کہ رہے تھے کہ احتجاج سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ان کو دیکھ لینا چاہیے کہ احتجاج نے ہی تحریک کو ملک گیر وسعت دی ہے۔

اس تحریک سے کچھ سبق بھی ملے ہیں۔

اول: اب اگر کسی اردو اخبار کے پہلے صفحہ پر مولاناارشد مدنی، مولانا ولی رحمانی، مولانامحمود مدنی یا مولاناکلب جواد کی لمبی لمبی پریس ریلیزیں چھپیں تو اس اخبار اور اس کے ممتاز رپورٹر پر لعنت ضرور بھیجیں۔

دوم: کسی جلسے میں اگر مذکورہ بالا ننگ ملت مدعو ہوں،تو وہاں بالکل نہ جائیں۔ اس سے ان لوگوں کی دکانیں جلد بند ہو سکیں گی۔

سوم: شہریت ترمیم قانون اور این آر سی مخالف تحریک کو مکمل طور پر پرامن رکھیں اور میڈیا یا پولیس کوتشددپھیلانے کا کوئی بہانہ نہ ملنے دیں۔

چہارم:تحریک میں سیکولر ذہن کے غیر مسلم بھائیوں کو ضرور شامل کریں۔ تحریک کو مذہبی رنگ نہ دیں اور ہر ممکن حد تک مذہبی علامتوں سے پرہیز کریں۔ یہ تحریک کسی مذہب کے لئے نہیں؛بلکہ آئین کےتحفظ لیے ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*