سی اے اے مظاہرین کے حق میں مدراس ہائی کورٹ کا شاندار فیصلہ ـ ایم ودود ساجد

 

مدراس ہائی کورٹ نے سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے حق میں ایک بہت ہی شاندار فیصلہ صادر کیا ہے۔گو کہ اس فیصلہ کا اطلاق صرف تمل ناڈو میں ہوگا تاہم دوسری ہائی کورٹس میں اس کی بنیاد پر رٹ دائر کرکے اس کا فائدہ دوسری ریاستوں میں بھی اٹھایا جاسکتا ہے۔
جس طرح پورے ملک میں اور خاص طور پر دہلی اور یوپی میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو مختلف معاملات میں ماخوذ کرلیا گیا تھا اسی طرح تامل ناڈو میں بھی پولیس نے مختلف افراد پر ایف آئی آر درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا تھا۔
یہاں یہ ذہن نشین رہنا چاہئے کہ اس وقت ریاست میں آنجہانی جے للیتا کی پارٹی اے آئی اے ڈی ایم کے کی حکومت ہے لیکن بی جے پی اگلے سال ہونے والے ریاستی الیکشن میں اس کے ساتھ مل کر لڑنا چاہتی ہے۔یہاں یہ ذکر بھی بے محل نہ ہوگا کہ اتحادی ہونے کے باوجود بی جے پی ریاست میں یاترائیں نکالنا چاہتی ہے لیکن حکومت اسے اجازت نہیں دے رہی ہے۔
بہر حال تامل ناڈو میں سی اے اے کے خلاف بہت بڑے بڑے مظاہرے منعقد ہوئے تھے۔یہاں تک کہ 19 فروری 2020 کو ایک مظاہرہ میں مدراس ہائی کورٹ کے امتناعی احکامات کے باوجود چینئی میں 30 ہزار سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی تھی اور وہ خود ہائی کورٹ کے سامنے سے گزر کر سیکریٹریٹ تک جانا چاہتے تھے۔لیکن پولیس اور انتظامیہ کے سمجھانے پر مظاہرین واپس چلے گئے تھے۔اسی طرح کے اور بھی مظاہرے تامل ناڈو کے مختلف شہروں میں ہوئے تھے۔پولیس نے درجنوں افراد کے خلاف سخت دفعات میں ایف آئی آر رجسٹرڈ کی تھیں۔
ایسے دو افراد ہینری تپھاگنے اور صادق علی نے مدراس ہائی کورٹ میں رٹ دائر کرکے اپنے خلاف ہونے والی ایف آئی آر کو کالعدم کرنے کی درخواست کی تھی۔عدالت نے آج دونوں کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کردیا۔اس فیصلہ کی خوبی یہ ہے کہ جج‘ جسٹس نشابانو نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ اس فیصلہ کا اطلاق نہ صرف ان دونوں رٹ کنندگان پر ہوگا بلکہ ان پر بھی ہوگا جنہیں پولیس نے اسی طرح کے معاملہ میں ماخوذ کیا ہے اور جنہوں نے رٹ دائر نہیں کی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ ان مظاہرین نے پر امن مظاہرہ کیا اور ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں تشدد کے کسی واقعہ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔جسٹس بانو نے لکھا: ہر چند کہ بادی النظر میں ایف آئی آر کے جواز کے لئے مواد موجود ہے تاہم میرا موقف یہ ہے کہ اس ایف آئی آر کو جاری رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ یہ اس لئے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔ ایف آئی آر میں صرف یہ الزام تھا کہ مظاہرین نے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہرہ کرکے عوامی آمد ورفت میں روکاوٹ کھڑی کی۔
جسٹس نشا بانو نے مزید لکھا: پورے ملک میں شہریوں کے مختلف طبقات نے مذکورہ ترمیم (سی اے اے) کے خلاف مظاہرے کئے۔چونکہ یہ مظاہرہ پر امن تھا اور ایف آئی آر میں کسی ناخوشگوار واقعہ کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے اس لئے اس ایف آئی آر کے جاری رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔لہذا یہ ایف آئی آر منسوخ کی جاتی ہیں اور پٹیشنرز کی درخواست قبول کی جاتی ہے۔عدالت نے یہ بھی لکھا کہ ایف آئی آر منسوخ کرنے سے ہی انصاف ممکن ہوسکے گا۔
عدالت نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی واضح کردیا کہ اس فیصلہ کا اطلاق ان مظاہرین پر بھی ہوگا جنہوں نے رٹ دائر نہیں کی ہے۔یعنی اب انہیں الگ سے کوئی رٹ دائر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور انہیں مقامی عدالت میں جہاں ان کا مقدمہ چل رہا ہے ایک درخواست ہائی کورٹ کے فیصلہ کے ساتھ لگانی ہوگی۔واضح رہے کہ دونوں پٹشنرز نے الگ الگ رٹ دائر کی تھی لہذا عدالت نے دو الگ الگ فیصلے لکھے لیکن دونوں فیصلے ہوبہو لکھے۔سپریم کورٹ کے معروف وکیل پرشانت بھوشن نے اس فیصلہ کی ستائش کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ملک کی دوسری ہائیکورٹس بھی اسی طرح انصاف قائم کریں گی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*