سی اے اے: عالمی سطح پر ملک کی شبیہ اور ملکی اتحاد

سلمان عبدالصمد

سی اے اے اور این آرسی کے خلاف جاری مظاہروں سے عالمی سطح پر ہمارے ملک کی دو شبیہیں سامنے آئی ہیں۔ایک مثبت اوردوسری انتہائی منفی:
اول: ملکی عوام کے اتحاد سے یہاں کا جمہوری نظام مضبوط نظرآرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں بلا تفریق مذاہب وملل امن پسند ہر شہری احتجاج کررہا ہے۔یہ متحدہ رویہ اس جانب مشیر ہے کہ ملک کے خمیر میں جمہوری اقدار بدرجہئ اتم موجود ہے۔ جمہوری تانے بانے کو مضبوطی فراہم کرنے میں ہر ایک ساتھ ہے۔مظاہروں میں سیکولر پسند عوامی اور سیاسی افراد کی شمولیت ملکی مفاد اور اس کی سالمیت کے لیے خوش آئند ہے۔ساتھ ہی تعلیمی اور مذہبی اداروں کے احتجاجی رویوں نے اس نئے قانون(سی اے اے)پر حکومت کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ فلمی دنیا کے کئی ستاروں نے بھی منفرد انداز میں اپنی اپنی آواز بلند کی۔ یہی سبب ہے کہ حکومتی ایوان میں بیٹھنے والے اہم لوگوں کی زبان (عمل میں فی الحال نہیں) میں ملائمیت نظر آرہی ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ ملکی عوام کی محنت جاری ہے اور رنگ لائے گی۔ صحیح معنوں میں اس متحدہ محنت نے ملک کودوپہلوؤں سے مضبوط کیا۔ ایک پہلو تو یہ ہے کہ جمہوریت مخالف اس قانون پر حکومتی افراد غور وفکر کررہے ہیں۔ ان کے افعال وکردار میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔ امیدہے کہ اگر ایسی متحدہ کوشش جاری رہے گی تو آج کل میں ہی حکومت اپنے ناپاک ارادوں میں ناکام ہوگی۔ اس کے علاوہ متحدہ مزاحمت نے عالمی سطح پر ہمارے ملک کو روشن کیا۔ گویا عوامی سطح پر ہم جمہوریت کا عملی نمونہ پیش کررہے ہیں اور دنیا کے افراد بھی ہمارے عملی اقدامات پر غور وفکر کرہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح کے اداروں نے ہماری کوششوں کو نہ صرف سلام کیا،بلکہ اس کی مذمت کرتے ہوئے ہندوستانی حکومت سے اس قانون میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
دوم:اس کے برعکس مقننہ،انتظامیہ اور حکومت کے جابرانہ رویوں سے عالمی سطح پر ملک کی ساکھ جو دھچکا لگا،وہ ہندوستانی بابِ تاریخ کا انتہائی تاریک باب ہے۔کیوں کہ جس طرح ہمارے ملک کے عوامی،سیاسی اور تعلیمی اداروں میں نئے شہریت ترمیمی قانون پر حکومت کے لیے غم وغصے کا ماحول ہے۔ اسی طرح عالمی سطح کے آئینی اداروں نے ہماری حکومت کے رویوں کی مذمت کی۔ تعلیمی اداروں میں مظاہرے ہوئے۔ سیاسی سطح پر کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو ہدایات دیں کہ وہ ہندوستان نہ جائیں۔ گویا بیرون ممالک میں تین سطحوں پر ہمارے ملک کی کھل کر مخالف ہورہی ہے۔ان مخالفتوں کاآئینی، اخلاقی، تجارتی اور معاشرتی تناظر میں ہمارا ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
آکسفورڈ،کولمبیا،ہارڈ ورڈ، یل،اسٹین فوڈ سمیت 19 عالمی سطح کے تعلیمی اداروں کے ہزاروں طلبا نے اپنا احتجاج درج کرایا ہے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی،اے ایم یو علی گڑھ اور جے این یو سمیت تمام ہندوستان کے تعلیمی اداروں میں جاری مظاہروں کو مضبوطی فراہم کی۔ گویا ان طلبا کے ساتھ عالمی سطح کے 10ہزار سے زائد دانش وروں اور قلم کاروں نے بھی حکومت کے جابرانہ رویوں اور پولس کی ہٹلرانہ حرکتوں کو غیر قانونی قرار دیا۔سب سے بڑھ کر اقوام متحدہ نے اس نئے قانون کی مخالفت کی اور سوال کیاکہ جب شہریت کے متعلق پہلے سے ہی بہترین قانون موجود ہے تو اس میں آج چھیڑ چھاڑ کیوں لازمی ہے؟ اس سلسلے میں غیر اخلاقی اور غیرقانونی عمل ملکی مفاد میں کیسے ہوسکتاہے۔اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انتونیو گوتا ریس کے ترجمان نے جہاں اس نئے قانون کی مخالفت کی وہیں طلبا پر ہوئے جابرانہ سلوک پر اظہار ِ افسوس کیا۔
ان اداروں کی مخالفت محض مخالفت نہیں۔ان کی دانش مندی کی پوری دنیا قائل ہے۔ ظاہر ہے ان عالمی مخالفتوں کے عالمی معانی ہیں۔ اگر ان عالمی معانی کو سمجھنے میں غلطی کی گئی تو ہمارے ملک کوبڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ کیوں کہ ان قابل قدر اداروں پر پوری دنیا کی نظر ہوتی ہے اور یہاں سے نکلنے والی باتوں کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔عالمی سطح پر سنے جانے والوں کی بات اگر ہندوستان میں نہیں سنی گئی تو ہمارے ملک کا کیا حشر ہوگا، یہ ایک بڑا سوال ہے۔ یہ بھی بڑی افسوس کی بات ہے کہ عالمی آواز کو مضبوطی فراہم کرنے کے لیے عالم اسلام نے کوئی آواز بلند نہیں کی۔ انھیں بھی اپنی زبان کو حرکت دینی چاہیے۔ کیوں کہ وزیر اعظم وہاں سے بھی بڑے بڑے اعزازات حاصل کر نے کے بعد دنیا کے سامنے انتہائی شفاف چہرہ لیے پھر رہے ہیں۔ظاہر ہے جب عالمی ادارے سی اے اے جیسے قانون کی مخالفت کررہے ہیں تو عالم اسلام کابھی کوئی نہ فریضہ بنتا ہے۔عالم اسلام سے ہندوستانی معیشت کو یک گونہ نسبت ہے۔ اس لیے ان ممالک کی آوازسے ہمارے ملک پر مزید دباؤ بڑھے گا۔ مشرق وسطی سے ہلچل کی خبر آئے گی تو اس کے معانی ومفاہیم بھی ذومعنی ہوں گے۔ امید ہے کہ عالمی آواز کو مضبوطی فراہم کرنے میں عالم اسلام بھی کوئی کردار ضرور ادا کرے گی۔
ان مخالفتوں کے باوجود بی جے پی کے ترجمان اور وزیر داخلہ امت شاہ بیانات اور اشتہارات میں نئے قانون کا جو رخ پیش کررہے ہیں،اس میں سراسر جھول ہے۔ اس جھول کو فقط بھولے بھالے عوام نے واضح نہیں کیا بلکہ قوانین کے ماہرین اسے سامنے رکھ کر تجزیہ کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں نے اس قانون کی مخالفت کی اور اس کے ابعاد اور منفی رجحان کو اجاگر کیا۔ان تمام دانش وروں اور قانون دانوں کی مخالفت کے بعد سوال ہوتاہے کہ کیادنیا بھر کے دانش وروں سے کوئی بڑی دانش مند ٹیم بی جے پی کے پاس موجود ہے؟ کیا بی جے پی کے علاوہ قانون داں جو قانونی تجزیہ کر رہے ہیں، وہ سب کے سب کم علم ہیں؟ اس قانون میں جس طرح ہندوستانی آئین ایکٹ نمبر 14اور 21کی مخالفت ہوئی وہ جگ ظاہر ہے۔ ان دونوں ایکٹ کے تناظر میں سی اے اے کا جھول واضح طور پر سامنے آجاتا ہے۔ تعجب ہے کہ اتنی چھوٹی سی بات بی جے پی کے احباب کیوں نہیں سمجھ پارہے ہیں؟ سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومتی افراد کے سامنے ا س قانون کی خطرناکی کیسے نہیں کھل پارہی ہے؟بی جے پی کے اس تجاہل عارفانہ پر یہی کہنا پڑتاہے کہ بی جے پی کی ذہنیت مشکوک ہے۔ شاید ان کی مریضانہ عادتوں اور جانب دارانہ ذہنیتوں نے ان کی تفہیمی صلاحیتوں کو معطل کردیا ہے۔ملک جس نازک دور سے گزررہا ہے، اگر اس میں ہماری حکومت ہوش کے ناخن لینے سے چک گئی تو عالمی سطح پر مزید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اخلاقی، معاشی اور آئینی تناظرمیں ہندوستانیوں کو مشکوک نظروں سے دیکھا جائے گا۔

9810318692

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*