بزرگ شاعر نصیر پرواز کی رحلت

دو ہزار سات سو دس اشعار پر مبنی ایک غزل لکھنے کا کیا تھا کارنامہ

بھوپال: (رضوان الدین فاروقی) بھوپال سے تعلق رکھنے والے بزرگ و کہنہ مشق شاعر نصیر پرواز کی رحلت سے بھوپال کی ادبی فضا سوگوار ہوگئی ہےـ
نصیر پرواز کی ولادت یکم دسمبر 1940 کو بھارت کے صوبہ مدھیہ پردیش کے شہر ساگر میں ہوئی ـ نئے مدھیہ پردیش کی تشکیل کے فوراً بعد آپ بھوپال آگئے اور آخر عمر تک یہیں رہےـ اوائل عمر سے لے کر آخر عمر تک آپ نے اپنی پوری زندگی شعر و ادب کے لیے وقف کردی تھی ـ نصیر پرواز کے شعری سفر کا آغاز 1950 میں ترقی پسند شاعری کے زوال کے بہت بعد ایسے دور میں ہوا جب کہ اس کے شکست خوردہ سپہ سالار اپنی تحریروں سے مردہ ڈھانچے میں روح پھونکنے کی کوشش میں سرگرداں تھےـ تحریک اگرچہ ختم ہوچکی تھی لیکن اس کے اثرات نئی پیڑھی کے شعرا کو کسی نہ کسی شکل میں متاثر کررہے تھےـ نصیر پرواز نے اس کا اعتراف یوں کیا ہے:
"مہرے ذہن کو سب سے پہلے جس آہنگ سے دوچار ہونا پڑا وہ یہی ترقی پسند تحریک تھی ـ”
اس اعتراف کے باوجود آپ کی غزلیں ترقی پسند شاعری کے اثرات سے پاک نظر آتی ہیں ـ آپ کی غزل نہ غم دوراں کی تاریخ ہے نہ غم جاناں کا مرثیہ ـ آپ کی شاعری کا قالب زندگی کی تلخیوں اور عریاں حقیقتوں پر کھڑا نظر آتا ہےـ آپ کے دائرۂ نگاہ میں چھوٹی سے چھوٹی چیز رہتی ہے جو شعر کے پیراہن میں حسین و جمیل بن کر قاری کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہےـ آپ کی شاعری میں قدیم و جدید کا امتزاج ہی نہیں بلکہ عصری حسیت، جدت طرازی، فکری گہرائی، زبان کی شگفتگی اور الفاظ کو برتنے کا سلیقہ موجود ہےـ آپ کے نو شعری مجموعے منظر عام پر آئےـ
متاعِ دیدۂ تر: 1985، ایک تنہا صدا : 2001،رسول اکرم (منظوم سیرت پاک)،اضطراب لفظوں کا، آہٹیں، ایک غزل ، سفر درپیش ہے، لمحوں پہ صدیاں، میر رنگ اور کرب خود آشنائی ـ( سبھی 2016 میں منظر عام پر آئے)