بشریٰ نگہت کے افسانوی مجموعہ ’جاگتے لمحے‘ کا اجرا

دیوبند:(سمیر چودھری)دیوبند کی معروف افسانہ نگار بشریٰ نگہت کے نئے افسانوی مجموعہ’’جاگتے لمحے‘‘ کا اجرا یہاں دانشوران کے ہاتھوں عمل میں آیا۔اس موقع پر دہلی یونیورسٹی کے شعبہ ٔ اردو کے استاذڈاکٹر ابوبکر عباد نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دیوبند علوم اسلامی اور فنون کی ترویج واشاعت کے عنوان سے پوری دنیا میں معروف ہے،شہر دیوبند نے وقتاً فوقتاً ایسے قلم کار اور فن کار پیدا کیے ہیں جنھوں نے اردو ادب کے دامن کو اپنی تخلیقات اور نگارشات سے مالا مال کیاہے۔زیر نظر افسانوی مجموعہ’’جاگتے لمحے‘‘دیوبند سے وابستہ ایک ایسی ہی خاتون کے افسانوں کا دل کش انتخاب ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ دیوبند نے اب تک تین افسانہ نگار پیداکیے ہیں،پہلانام انجم عثمانی اور دوسر ڈاکٹر رخشندہ روحی مہدی اور تیسرا نام بشریٰ نگہت کا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس مجموعہ میں شامل ان افسانوں کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انھیں ملک بھر کے اہم ترین رسائل وجرائد نے اپنے صفحات پر جگہ دی ہے۔ اس موقع پر مولانا فتح محمد ندوی نے کہا کہ بشریٰ نگہت کے افسانوں کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ ان کے تانے بانے نہایت سلیقے سے بنے گئے ہیں،نیز ان میں غیر حقیقی یا غیر تفہیمی واقعات وموضوعات نہیں ہیں بلکہ ان پر حقیقت کا گمان ہوتاہے۔ ماہنامہ صدائے حق، گنگوہ کے مدیر مفتی ساجد کھجناوری نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور کہاکہ پلاٹ اور تکنیک کے اعتبار سے یہ افسانے ایک باشعور قاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتے ہیں۔ ریسرچ اسکالکر جے این یو عمران عاکف نے کہا کہ بشریٰ نگہت کے افسانوں نے تازگی اور عصری معنویت کو اُجاگر کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ، ان کے افسانے ہماری زندگی سے بے حد قریب ہیں اور ہمارے معاشرے اور سماج کی خوبصورت عکاسی کرتے ہیں۔ ممتاز ادیب ومصنف مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے کہا کہ دیوبند مرکزی جگہ ہے اور اس مرکز میں قرطاس وقلم کے رشتوں کو ہمیشہ استحکام بخشا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسانہ ایک مشکل صنف ہے اور اس کو انتہائی کامیابی کے ساتھ بشریٰ نگہت نے پیش کیا ہے۔ تقریب میں طالب انصاری،غلام غوث،محمد شاہد،مصطفی میواتی، شاہد اقبال،،ڈاکٹر عدنان انور نعمانی، مولانا فضیل ناصری اور محشر دیوبندی وغیرہ نے بطور خاص شرکت کی۔