افغانستان سے انخلا کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں: سابق صدر بش

واشنگٹن :افغانستان ، عراق میں جنگی جنون مسلط کرنے والے امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کو ایک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتائج ناقابل یقین حد تک برے ہو سکتے ہیں۔انہوں نے یہ بات بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔سابق امریکی صدر نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتِ حال سے وہاں خواتین اور لڑکیوں کوناقابلِ بیان نقصان پہنچ سکتا ہے۔جارج ڈبلیو بش امریکہ کے وہ صدر ہیں، جن کے دور صدارت میں 20 برس قبل امریکی افواج افغانستان میں طالبان اور ملا عمر کی حکومت کے خلاف کارروائی کے لئے داخل ہوئی تھیں۔ایک سوال پر کہ آیا فوجی انخلا غلط فیصلہ ہے؟ بش نے کہا کہ میں یہی سمجھتا ہوں، چوں کہ میرے خیال میں اس کے انتہائی سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔رواں سال کے آغاز پر صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کا آغاز کیا تھا جو تکمیل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ طالبان جنگجو اس وقت ایک کے بعد دوسرے ضلعے پر قابض ہوتے جا رہے ہیں اور ملک کے ایک بڑے رقبے پر کنٹرول جماچکے ہیں۔ بش نے کہا کہ یہ امر ناقابل یقین ہے کہ طالبان کے دور میں معاشرے میں روا رکھے جانے والے مظالم کس طرح ختم ہوئے؛ لیکن انھیں اس بات کا افسوس اور خوف ہے کہ افغان خواتین اور بچیوں پر پھر سے ناقابل بیان مظالم ڈھائے جا سکتے ہیں۔واضح رہے کہ گیارہ ستمبر 2001میں امریکہ کے اندر دہشت گرد حملوں کے بعد افغانستان میں طالبان رہنما ملا عمر کو الٹی میٹم دیا گیا تھا کہ وہ القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کردیں، دہشت گردی کے تربیتی کیمپ بند کر دیں یا پھر حملے کے لیے تیار ہوجائیں۔ ملا عمر نے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد اکتوبر میں امریکی زیرِقیادت اتحادی افواج نے افغانستان پر حملہ کر دیا تھا۔جس کے بعد ملا عمر کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا،لیکن آج تاریخ خود کو دہراتے ہوئے امریکہ فوج بے نیل و مرام واپس لوٹ رہی ہے ۔