بنیاد کا پتھر ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

(شیخ امین عثمانی کی وفات پر تاثراتی تحریر )

کورونا نے کتنی قیمتی شخصیات سے ہم کو محروم کر دیا ہےـ ایک کی تعزیت سے فارغ نہیں ہوتے کہ دوسرے کی وفات کی خبر بے چین کردیتی ہےـ کل دوپہر میں جب سے میرے مربّی ، محسن اور مشفق شیخ امین عثمانی ندوی کی وفات کی خبر ملی ہے ، دل و دماغ بالکل ماؤف ہیں ، طبیعت غم سے نڈھال ہے ، حواس مختل ہیں ، لیکن ہم صرف وہی بات اپنی زبان پر لائیں گے جس سے ہمیں اپنے رب کی رضا حاصل ہو : ” ہم آپ کی جدائی سے بہت رنجیدہ ہیں، اے میرے بھائی جان ، امین عثمانی !”

امین عثمانی صاحب اور اسلامک فقہ اکیڈمی(انڈیا) لازم و ملزوم رہے ہیں ـ 1988 میں اکیڈمی کے قیام کے وقت سے وہ اس سے وابستہ تھےـ اکیڈمی کے بانی قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ان پر بہت اعتماد کرتے تھےـ وہی انہیں اکیڈمی میں لائے تھےـ اکیڈمی کی علمی و تحقیقی سرگرمیاں منضبط کرنے ، اسے استحکام بخشنے اور اس کے مسائل حل کرنے میں ان کا انتہائی اہم کردار رہا ہےـ جدید مسائل پر ملک کے مختلف حصوں میں اکیڈمی کے 28 کامیاب سمینار منعقد ہوئے ہیں ، اس کے علاوہ علمی مذاکروں اور لیکچرس کی تعداد کا شمار نہیں ـ امین صاحب متعینہ تاریخوں سے کئی روز قبل طے شدہ مقام پر اپنی ٹیم کے ساتھ پہنچ جاتے اور پورا نظم و نسق سنبھال لیتےـ اکیڈمی کی اشاعتی سرگرمیاں شروع ہوئیں اور سیمیناروں میں پیش کیے گئے مقالات کتابی صورت میں شائع ہونے لگے تو انھوں نے اس کام میں بھی دل چسپی لی ـ وہ اکیڈمی کی مطبوعات مختلف تعلیمی اداروں میں بھجوانے کی کوشش کرتے تھے اور علمی شخصیات کو تحفۃً بھی پیش کرتے تھےـ وہ اکیڈمی کے مفادات کے تحفظ کی ہر ممکن کوشش کرتے تھےـ اکیڈمی نے کویت کی الموسوعۃ الفقہیۃ کا اردو ترجمہ کروایا ہےـ تقریباً 3 ماہ قبل پتہ چلا کہ پاکستان کا ایک اشاعتی ادارہ اسے بلا اجازت چھپواکر فروخت کررہا ہےـ امین صاحب پریشان ہوگئےـ مجھ سے کہا کہ میں اپنے پاکستانی احباب کی معرفت اس معاملے کی تحقیق کروں ـ اکیڈمی کے معاملے میں امین صاحب کی حیثیت ‘بنیاد کے پتھر’ کی تھی ـ وہ دیکھنے والوں کو نظر نہیں آتا ، لیکن عمارت کا استحکام اسی پر منحصر ہوتا ہےـ امین صاحب صلہ و ستائش سے بے پروا ، نام و نمود سے بہت فاصلہ رکھنے والے اور اسٹیج اور ڈائس سے دور بھاگنے والے تھےـ بڑے سمینار ہوں یا اکیڈمی کے دفتر میں منعقد ہونے والی مختصر علمی نشستیں ، انہیں میں نے کبھی اسٹیج پر نہیں دیکھاـ وہ پسِ پردہ رہ کر اور چھپ کر کام کرنے والے تھے ـ

بین الاقوامی امور میں امین بھائی کا دل فلسطین کے لیے دھڑکتا تھاـ وہ اس کے بارے میں عالم عرب کی سیاست پر گہری نظر رکھتے تھے اور فلسطینی کاز کے لیے سرگرم لوگوں سے ان کے قریبی مراسم تھےـ شاید اسی لیے ان کی وفات کے تھوڑی دیر کے بعد ہی فلسطین سے ان کی تعزیت کی گئی ہےـ ایک مرتبہ انھوں نے مجھے فلسطین کی تاریخ پر عربی زبان میں ایک ضخیم کتاب دی اور اردو میں اس کا ترجمہ کرنے کی خواہش کی ـ افسوس کہ میں اس کی تعمیل نہ کرسکاـ اخوان المسلمون (مصر) سے انہیں بہت محبت تھی اور اس کے قائدین سے وہ مضبوط روابط رکھتے تھےـ مجھے یاد ہے کہ گزشتہ صدی کی آٹھویں دہائی میں ایک موقع پر اخوانی رہ نما شیخ عبد البدیع صقر مرکز جماعت اسلامی ہند تشریف لائے تھےـ اس موقع پر امین عثمانی صاحب نے ان سے ملاقات کی تھی اور ان سے تفصیلی انٹرویو لیا تھاـ خوش قسمتی سے ان سے گفتگو کرتے وقت میں بھی وہاں حاضر تھاـ اخوان کی معروف خاتون رہ نما محترمہ زینب الغزالی کی کتاب ‘ایّام من حیاتی’، جو جمال عبد الناصر کے زمانے میں ان کی قید و بند اور ایذا و تعذیب کی روداد ہے ، بہت مقبول ہوئی ـ امین بھائی نے 1982 میں اس کا اردو ترجمہ ‘زنداں کے شب و روز’ کے نام سے کیا تھاـ ہندوستان پبلیکیشنز نئی دہلی سے اس کی اشاعت ہوئی تھی ، پھر الاتحاد العالمی الاسلامی للمنظمات الطلابیۃ (IIFSO) کویت نے بھی اسے چھاپ کر بڑے پیمانے پر تقسیم کیا تھاـ بعد میں اس کتاب کا ترجمہ مولانا خلیل احمد حامدی نے ‘رودادِ قفس’ کے نام سے کیاـ امین بھائی کا دیا ہوا نام اتنا پسند کیا گیا کہ خلیل حامدی کا ترجمہ بعد میں ‘زنداں کے شب و روز’ کے نام سے شائع کیا جانے لگاـ ایک مرتبہ امین بھائی نے مجھے اخوان کے تربیتی نظام پر عربی زبان میں فوٹو اسٹیٹ کیا ہوا خاصا مواد دیا اور اس کا ترجمہ کرنے یا اس کی روشنی میں ایک کتاب تیار کرنے کی خواہش کی ـ افسوس کہ مصروفیات نے اس کی تعمیل کا بھی موقع نہیں دیاـ چند برس قبل انھوں نے اپنی بیٹی مرجان عثمانی کے ذریعے زینب الغزالی کی حیات و خدمات پر ایک کتاب تیار کروائی اور اسے مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے شائع کیے جانے کی خواہش کی ـ ان دنوں میں مکتبہ کی نگراں ‘ تصنیفی اکیڈمی’ کا سکریٹری تھا ـ یہ کتاب مکتبہ سے ‘مصر کی بیٹی: زینب الغزالی’ کے نام سے شائع ہوئی ـ بعد میں انھوں نے خود ہی ہندی میں اس کا ترجمہ کرواکے بھیجاـ اس کی بھی مکتبہ سے اشاعت ہوئی ـ

امین بھائی جماعت اسلامی ہند کے رکن تھےـ مرکز جماعت سے کچھ فاصلے پر ان کی رہائش گاہ تھی ـ مقامی جماعت ابو الفضل انکلیو کے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کرنے کے لیے وہ تشریف لایا کرتے تھےـ جماعت میں ان کا تعارف ایک ذی علم ، وجیہ ، سنجیدہ ، صاحبِ بصیرت اور فقیہ شخصیت کا تھاـ اس بنا پر چند برس قبل انہیں جماعت کے تحقیقی ادارے ‘ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی’ علی گڑھ کی مجلس منتظمہ کا تاسیسی رکن منتخب کیا گیا تھاـ ادارہ کی علمی سرگرمیوں کو وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور ان میں دل چسپی لیتے تھےـ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک ہفتہ قبل 23 اگست 2020 کو ادارہ کی منتظمہ کا اجلاس مرکز جماعت میں منعقد ہوا تو انھوں نے اسپتال سے ، جب کہ ان کی طبیعت کافی خراب تھی ، اجلاس میں شریک نہ ہوپانے پر معذرت کا میسیج کیا اور دعا کی درخواست کی ـ گزشتہ برس جماعت اسلامی ہند نے شرعی امور میں مسلمانوں اور خاص طور پر جماعت کے ارکان و وابستگان کی رہ نمائی کے لیے ‘شریعہ کونسل’ قائم کی تو فقہ اسلامی میں ان کی مہارت اور دست رس کی بنا پر انہیں بھی کونسل کا رکن نام زد کیا گیاـ انھوں نے نہ صرف رکنیت قبول کی ، بلکہ متعدد اصحابِ علم کی نشان دہی کی اور انہیں کونسل کا رکن بنانے کا مشورہ دیاـ چوں کہ میں شریعہ کونسل کا سکریٹری ہوں اس لیے وہ مجھے بار بار فون کرتے اور واٹس ایپ پر میسیج بھیج کر اپنی تجاویز اور مشورے دیتےـ کووِڈ_19 کی وبا پھیلنے کے بعد جب بہت سے نئے مسائل پیدا ہوئے تو انھوں نے شریعہ کونسل کی طرف سے ملت اسلامیہ ہندیہ کی رہ نمائی کے لیے ایڈوائزری جاری کرنے کا مشورہ دیاـ اس دوران میں مختلف ممالک میں جو ہنگامی اجلاس ہوئے یا ہنگامی حالات میں اہل علم کی جانب سے جو فتاویٰ جاری کیے گیے وہ برابر مجھے ان کی کاپیاں بھیجتے رہےـ ان کے مشورے اور رہ نمائی میں شریعہ کونسل کی جانب سے لاک ڈاؤن کے دوران نظامِ مساجد ، جمعہ و عیدین کی نمازوں کے مسائل ، کورونا میں وفات پانے والوں کی تجہیز و تکفین اور دیگر موضوعات پر ایڈوائزری جاری کی گئی ـ جماعت اسلامی سے ان کے گہرے تعلق کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ قبرستان میں ان کی نماز جنازہ کے لیے صفیں لگ چکی تھیں ، لیکن ان کے صاحب زادے نے امیر جماعت اسلامی ہند جناب سید سعادت اللہ حسینی کا انتظار کروایا اور جب وہ آگئے تب انہیں سے امامت کروائی ، حالاں کہ جنازہ میں خاصی بزرگ اور علمی شخصیات موجود تھیں ـ

شیخ امین عثمانی ہر دل عزیز شخصیت کے مالک تھےـ اسلامک فقہ اکیڈمی کے ارکان کی اکثریت اگرچہ حنفی مسلک والوں اور حلقۂ دیوبند سے وابستہ لوگوں کی ہے ، لیکن امین بھائی سے محبت کرنے اور تعلق رکھنے والے دیگر مسالک اور حلقات سے وابستہ لوگ بھی تھے، اس لیے کہ وہ سب کی قدر کرتے تھے اور ان کا دروازۂ دل ہر ایک کے لیے کھلا رہتا تھا ـ ان کے مُحِبّین بیرونِ ملک بھی کثرت سے تھے ، چنانچہ ان کی وفات پر باہر کے علمی اداروں ، دینی تحریکات اور اہم شخصیات کے تعزیتی پیغامات موصول ہورہے ہیں ـ

شیخ امین کی وفات سے مجھے ذاتی طور پر سخت دھچکا لگا ہے اور یہ میرا زبردست ذاتی خسارہ ہے ، اس لیے کہ میں اپنے ایک سرپرست ، مربّی ، مشفق اور مُحسن سے محروم ہوگیا ہوں ـ میرے ان سے تعلقات 45 برسوں پر محیط ہیں ـ میری مثال اس پودے کی سی ہے جسے مالی نے خوب سینچا ہو ، بنایا سنوارا ہو ، کاٹ چھانٹ کر اسے درست کیا ہو ، پودے کو درخت بنتا دیکھ کر وہ خوب خوش ہوتا ہو اور اس میں پھل آتا دیکھ کر اسے اطمینان و سکون حاصل ہوتا ہو ـ ایمرجنسی نافذ ہونے کے فوراً بعد 1975 میں میرا داخلہ دار العلوم ندوۃ العلما لکھنؤ میں درجہ سوم عربی (موجودہ ثانویہ رابعہ) میں ہواـ اُس وقت میری عمر گیارہ بارہ برس رہی ہوگی ـ امین بھائی آخری سال میں تھےـ انھوں نے مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا اور مجھ پر اپنی شفقتیں نچھاور کرنی شروع کردیں ـ انھوں نے قلم پکڑ کر مجھے لکھنا سکھایا اور تقریر کی بھی مشق کروائی ـ ان دنوں میری زبان میں اس قدر لُکنت تھی کہ میں ایک جملہ بھی روانی سے نہیں بول سکتا تھا ، لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ مجھے تقریریں لکھ کر دیتے اور انہیں یاد کرواکے جلسوں میں شریک کرواتےـ وہ مجھے عربی زبان میں خطوط لکھتے اور عربی ہی میں جواب دینے کی تاکید کرتےـ بعد میں بھی انھوں نے برابر مجھ سے تعلق رکھا اور مسلسل میری رہ نمائی کرتے رہے ـ

شیخ امین عثمانی فقہ میں تجدیدی فکر کے حامل تھےـ وہ اگرچہ اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کے سکریٹری تھے ، جس کے وابستگان کی غالب اکثریت حنفی مسلک کے ماننے والوں کی ہے ، لیکن نئے مسائل کا حل فقہ حنفی کے دائرے میں محصور رہ کر پیش کرنے کے وہ قائل نہ تھے ، بلکہ ان کا خیال تھا کہ دیگر مسالک کی ایسی آرا کو اختیار کیا جاسکتا ہے ، بلکہ ان کا اختیار کیا جانا بہتر ہے جو مقاصدِ شریعت سے قریب تر ہوں اور جن میں افرادِ امت کے لیے سہولت موجود ہوـ لاک ڈاؤن کے زمانے میں گزشتہ رمضان گزرا ، اس میں کئی مسائل میں میں نے فقہ حنفی سے ہٹ کر رائے دی ، مثلاً تراویح میں مصحف دیکھ کر قرآن پڑھا جاسکتا ہے ، نابالغ تراویح کی نماز میں امامت کرسکتا ہے ، عورت عورتوں کی جماعت کی امامت کرسکتی ہے ، وغیرہ ـ میری ان تحریروں پر حلقۂ احناف کی جانب سے سخت ردِّ عمل ظاہر کیا گیا ، تیز و تند تحریریں لکھی گئیں ، مجھے بلا وجہ انتشار اور اختلافات کو ہوا دینے والا بتایا گیا اور فقہ حنفی کی توہین کا مجرم گردانا گیا، لیکن امین بھائی نے ہر موقع پر میری ہمّت افزائی کی ، میری آرا کی تائید کی اور بلا خوف لومۃ لائم بے باکی سے لکھتے رہنے کی تلقین کرتے رہےـ کووڈ_19 کی وبا کے کچھ ہی دنوں کے بعد یورپین کونسل آف افتا اینڈ ریسرچ کا 30 واں ہنگامی اجلاس ہواـ امین بھائی نے مجھے اس کی قراردادیں بھیجیں اور ان کا اردو ترجمہ کرنے کی خواہش کی ـ میں نے اس کی تعمیل کی اور اس کا ترجمہ کردیا ، جو ماہ نامہ ترجمان القرآن لاہور اور ماہ نامہ زندگی نو نئی دہلی میں بہ یک وقت شائع ہواـ

واحسرتا! کہ میں اب ایسے مشفق سرپرست سے محروم ہوگیا ہوں ـ اللہ کی مرضی اور ہم اس کی مرضی پر راضی ہیں ـ

اے اللہ! امین بھائی نے اپنی پوری زندگی تیرے دین کی خدمت کرتے ہوئے گزار دی، تو ان سے راضی ہوجا ، ان کی خطاؤں اور لغزشوں سے درگزر فرما ، انہیں اپنی کشادہ جنتوں میں جگہ دے ، اعلیٰ علیّین سے نواز اور ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرماـ آمین، یا رب العالمین!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*