بجھا نہیں مرے اندر کا ’آفتاب ‘ابھی-فیضان الحق

(شمس الرحمن فاروقی کی رحلت پر)
بچپن سے ان کانوں نے متعدد اموات کی خبریں سنیں،مگر آج ایک خبرپردۂ سماعت سے ٹکرا کر گہرازخم چھوڑ گئی۔ زندگی میں ایسے کئی لمحات آئے جب کسی ناگہانی کے متعلق یہ خیال گزرا کہ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ آج کی خبر پر بھی یقین کرنا کہاں آسان تھا۔واٹس اپ پر پہلا میسیج دیکھ کر یقین ہی نہیں ہوا کہ ایسا ہو چکا ہے۔دل لگاتار اس کی نفی کر رہا تھا ۔ تفتیش کے لیے فیس بک کھولنے لگا،گرچہ اندر سے ایک خوف لاحق ہو چلا تھا۔ ٹائم لائن کا منظر دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔کیوں کہ تصدیق کے لیے ان آنکھوں میں اب کچھ بچا نہ تھا۔دنیاے اردو کا روشن آفتاب’’ شمس الرحمن فاروقی‘‘ اس دار فانی کو الوداع کہہ چکے تھے۔
شمس الرحمن فاروقی کی رحلت کی خبر ،معمولی سانحہ نہیں، یہ ایک روشن باب کا اختتام ہے،ایک عہد کا خاتمہ ہے اور ایک صدی کا قصہ ہے۔ اس وقت میں عربی تعلیم حاصل کر رہا تھا،جب شمس الرحمن فاروقی کے نام سے واقفیت ہوئی ۔ راشٹریہ سہارا اردو کا ہفتہ وار خصوصی ضمیمہ ’امنگ‘ میرے مطالعے کا دلچسپ سامان تھا۔ اردو ادب کے لیے مخصوص گوشہ نت نئے موضوعات سے روبرو کراتا تھا، اسی میں پہلی بار کلام میرؔ کی تشریح سے متعلق تصنیف’شعر شور انگیز‘ کا نام سنا اور پھر اسے پڑھنے کا اشتیاق ہوا۔ ایسے مصنفین جن کی پہلی ہی تحریر نے مجھے متاثر کیا ہے،ان میں شمس الرحمن فاروقی کا نام سر فہرست ہے۔ پھر کسی بھی رسالے یا کتاب میں ان کو پڑھنا ایک خوش گوار احساس سے دو چار ہونا تھا۔
اردو ادب سے آشنا ہونے کے بعد فاروقی صاحب کی تحریریں قندیل رہبانی بن کر رہنمائی کرتی رہیں۔ ان کا لکھا جو بھی پڑھا،کبھی بے بنیاد اور دلائل و شواہد سے عاری نہیں لگا۔ مضامین کو پڑھتے ہوئے افکار و نظریات کی ژولیدگی نظر نہیں آئی۔نہ کہیں زبان دانی کا زور دکھانے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی بے جا الفاظ کا استعمال کیا گیا۔ دہلی آنے کے بعد روبرو آپ کو سننے کا موقع’جشن ریختہ‘ کے توسط سے ملا۔تحریر کا جادو اپنی جگہ لیکن تقریر کی لذت کیا کہیے۔وہ ٹھہر ٹھہر کر اور زبان کو قدرے گول کرکے بولنے کا آپ کا انداز کس دل کو نہ بھایا۔دوران گفتگو آپ کی چمکیلے دانتوں والی مسکان ہر ایک کو یاد ہے۔ ادب کا کوئی بھی موضوع ہو،کوئی بھی ادیب،شاعر یاافسانہ نگارہو،اگر آپ کی گفتگو کا موضوع بن گیا تو کیا مجال ہے اس کے دس بیس اشعار ،کچھ اقتباسات، اور متعدد مثالیں آپ کی زبان پر نہ آ جائیں۔ ایسے اداکار تو بہت دیکھے ہیں جو اپنے چاہنے والوں کا حلقہ رکھتے ہیں،لیکن ایسا ادیب پہلی بار دیکھا جس کے سننے اور دیکھنے والوں کا ہجوم رہتا تھا۔ بس خبر ملنے کی دیرتھی کہ شمس الرحمن فاروقی آ رہے ہیں،اور سامعین کی تعداد میں یک بیک اضافہ ہو جاتا تھا۔
میں اس اعتبار سے اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ فاروقی صاحب کی دعائیں لینے اور ان سے ہم کلام ہونے کا ایک ہی بار سہی لیکن موقع ملا۔ یہ وقت تھا ’محمدحسن عسکری ‘ سے متعلق ایک انٹرویو لینے کا۔ استاد محترم ڈاکٹر سرورالہدی اورنکھل کمار جین کی معیت میں ’پروفیسر باراں فاروقی‘ کے گھر یہ انٹر ویو رکارڈ کیا گیا۔ جسے بعد میں میں نے تحریر کی شکل دی اوریہ’ اردو ادب‘ کے عسکری نمبر(اکتوبر۲۰۱۹) میں شائع ہوا۔ اس دن مجھے فاروقی صاحب کی علمی لیاقت ،قوت حافظہ، مختلف علوم پر دسترس اور عالمی ادب پر گہری نظرکا ایسا تجربہ ہوا جسے میں بیان نہیں کر سکتا۔ آپ قریب دو گھنٹے لگاتار بولتے رہے۔محمد حسن عسکری گرچہ موضوع بحث تھے،لیکن ان پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے مختلف ادبی نظریات ،شخصیات اور علوم پرجو باتیں کیںوہ عام شخص کے بس کی بات نہیں۔ آپ کو میرے ایم۔ فل کا موضوع’انور عظیم کی افسانہ نگاری‘ بھی پسند آیا تھا اور آپ نے الگ سے اس پر بات کرنے کو بھی کہا تھا،لیکن افسوس! موت نے مجھے آپ کی قیمتی باتیں سننے سے محروم کر دیا۔
شمس الرحمن فاروقی کی شخصیت کسی ایک فریم میں مقید نہیں کی جا سکتی۔ آپ نے شاعری کی، تو جدید شاعری کے اسلوب کے نمائندہ بن گئے۔ آپ نے ناول لکھے،تو فکشن کی دنیا ایک نئی جہت سے آشنا ہوئی۔آپ نے تنقید ی مضامین لکھے،تو اردو ادب میں نظریات و افکار سے آگہی پیدا ہوئی۔ گویا کہ آپ ہمہ جہتی کی ایک مثال بن گئے۔ آپ کی رحلت آپ کو آپ کے قارئین سے جدا نہیں کر سکتی۔ آپ نے اپنی حیات میںبھی ایک نسل کی آبیاری کی،اور موت کے بعد تا دیر آنے والوں کے لیے ایک حوالہ ہوں گے۔ زمانہ زود فراموش سہی،لیکن وہ ’شعر شور انگیز ‘کو بھلائے گا یا ’شب خون‘ کو؟داستان پر لکھی گئی آپ کی تحریروں سے غافل ہو جائے گایاکلاسیکی شاعری،افسانہ اور فکشن پر لکھی گئی کتابوں سے؟ اور سب سے بڑھ کر’جدیدت‘ کو بھول پائے گا یا اس کے نظریہ ساز کو؟صحیح کہا ہے ظفر اقبالؔ نے:
بجھا نہیں مرے اندر کا آفتاب ابھی جلا کے خاک کرے گا یہی شرارہ مجھے