بوڑھوں کے تعلق سے اسلامی ہدایات-ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

بڑھاپا انسانی زندگی کا ایک فطری مرحلہ ہے ۔ ہر شخص جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے ، وہ اپنی عمر کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے بڑھاپے کو پہنچتا ہے ۔ اس مرحلے میں اس کے جسمانی قویٰ مضمحل ہوجاتے ہیں اور اس کی دماغی اور فکری صلاحیتیں بھی کم زور پڑ جاتی ہیں ۔ وہ حصولِ معاش کے لیے تگ و دَو کے قابل نہیں رہ جاتا ۔ یہاں تک کہ جب اس کی جسمانی کم زوری میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو وہ اپنے روز مرّہ کے کاموں کی انجام دہی کے لیے بھی دوسروں کے سہارے کا محتاج ہوجاتا ہے ۔

موجودہ دور میں بوڑھوں کے ساتھ سماج کے ایک مہمل اور بےکار جزو کی حیثیت سے برتاؤ کیا جاتا ہے ۔ زندگی کی بھاگ دوڑ میں نوجوان اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ بوڑھوں کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنے کا بھی انہیں موقع نہیں رہتا ۔ انھیں فرصت نہیں ملتی کہ وہ اپنے قریبی عزیزوں کے ساتھ ، جو بڑھاپے کی سرحد میں داخل ہو چکے ہیں ،کچھ وقت گزاریں ، ان سے بات چیت کریں ، ان کے دکھ درد کو سنیں اور ان کی ضروریات کو پوری کر سکیں ۔

گزشتہ کچھ عرصہ میں بوڑھوں کے عافیت کدوں (Old Age Homes) کا تصور ابھرا ہے اور پوری دنیا میں اسے قبولِ عام حاصل ہوا ہے ۔ بہ ظاہر دیکھنے میں یہ ایک سماجی اور رفاہی خدمت معلوم ہوتی ہے ، لیکن اس کے پیچھے درد اور کرب کا جو خاموش سمندر پوشیدہ ہوتا ہے ، اس کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ۔ اولڈ ایج ہومس میں رہنے والے بوڑھے مرد اور خواتین بہ ظاہر وہاں آرام کی زندگی گزارتے ہیں ، لیکن اپنوں سے دوری کا احساس انھیں کاٹے کھاتا ہے ۔ وہ رنج و الم کی مجسم تصویر بن جاتے ہیں اور گھُٹ گھُٹ کر اپنی زندگی کے آخری دن کاٹنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ سماج میں پائے جانے والے عام بوڑھوں کے ساتھ بھی لوگوں کا رویہ عموماً ہم دردی ، محبت اور عزت و احترم کا نہیں ہوتا ، بلکہ ان کے ساتھ اعراض ، ناپسندیدگی اور بسا اوقات تحقیر کا معاملہ روا جاتا ہے ۔ خلاصہ یہ کہ بوڑھوں کی حیثیت سماج میں ردّی کاغذ کی سی ہوتی ہے ، جسے بےکارِ محض سمجھا جاتا ہے اور اسے کوڑے دان کے حوالے کر دینے میں ہی عافیت سمجھی جاتی ہے ۔

قرآن مجید میں تخلیقِ انسانی کے مراحل مختلف مقامات پر بیان کیے گئے ہیں اوران کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی خلّاقی ، علم اور قدرت پر استدلال کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اللَّہُ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ قُوَّۃٍ ضَعْفاً وَشَیْْبَۃً یَخْلُقُ مَا یَشَاء ُ وَہُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ (الروم : 54)
’’اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت میں تمھاری پیدائش کی ، پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی ، پھر اس قوت کے بعد تمھیں ضعیف اور بوڑھا کر دیا ۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے اور سب کچھ جاننے والا ، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔‘‘

تخلیق انسانی کے مراحل کا بیان سورۃ المومنون : 14 ، سورۃ الحج : 5 اور سورۃالمؤمن : 67 میں بھی مذکور ہے ۔ یہ مراحل بتاکر قرآن انسانوں میں یہ احساس بیدار کرنا چاہتا ہے کہ وہ عمر رسیدہ افراد کے ساتھ بہتر سلوک کریں ، ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کریں ، ان کے کام آئیں اور ان کی مدد کریں ۔ اس لیے کہ عین ممکن ہے کہ وہ خود بھی بڑھاپے کی عمر کو پہنچیں اور دوسروں سے اسی برتاؤ کے متمنّی ہوں ۔ اسی بات کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے :
’’کوئی نوجوان کسی بوڑھے کے ساتھ اس کے بڑھاپے کی وجہ سے عزت و احترام کا معاملہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی توفیق اور مشیّت سے اس کے بڑھاپے میں دوسرے لوگ اس کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئیں گے ۔‘‘(ترمذی : 2022)

احادیثِ نبویؐ میں بوڑھوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے ، ان کا احترام کرنے اور ان کے ساتھ ادب اور محبت سے پیش آنے کی بار بار تاکید کی گئی ہے ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اِنَّ مِن اِجلَالِ اللّٰہِ تَعَالیٰ اِکرَامُ ذِی الشَّیبَۃِ المُسلِمِ (ابو داؤد : 4843)
’’کسی مسلمان عمر رسیدہ شخص کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا اللہ تعالیٰ کی تعظیم و توقیر کے مثل ہے ۔‘‘

یہ معاملہ صرف مسلمان کے ساتھ خاص نہیں ہے ، بلکہ اس کا مستحق ہر بوڑھا شخص ہے ، خواہ وہ کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو ۔ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عمر بن الخطابؓ نے ایک بوڑھے یہودی کو بھیک مانگنے ہوئے دیکھا تو بیت المال سے اس کا روز ینہ مقرر کر دیا اور فرمایا :
’’یہ کوئی انصاف کی بات نہیں کہ ہم ایسے لوگوں کی جوانی میں تو ان سے فائدہ اٹھائیں ، لیکن بڑھاپے میں انھیں دَر دَر کی ٹھوکریں کھانے کے لیے چھوڑ دیں ۔‘‘

حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک بوڑھا شخص نبی ﷺ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا ۔ اس وقت بہت سے صحابہ آپؐ کو گھیرے ہوئے تھے ۔ وہ اس کے راستے سے ہٹے نہیں اور آپؐ کے قریب جگہ دینے میں تاخیر کی ۔ اس پر آپؐ نے فرمایا:
لَیسَ مِنَّا مَن لَم یَرحَمُ صَغِیرَنَا وَیُوَقِّر کَبِیرَنَا (ترمذی : 1919)
’’وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے درمیان چھوٹے پر رحم نہ کرے اور بڑے کا احترام نہ کرے ۔‘‘
ایک دوسری حدیث حضرت معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اِذَا أتَاکُم کَبِیرُ قُومٍ فَاکرِمُوہُ (ابن ماجۃ : 3712)
’’جب تمہارے پاس کوئی بوڑھا شخص آئے تو اس کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آؤ ۔‘‘

اسلام بوڑھوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنے ، انہیں بےکار سمجھنے اور سماج پر بوجھ تصور کرنے کا روادار نہیں ہے ۔ وہ انھیں سماج کا قیمتی سرمایہ قرار دیتا ہے ۔ اس کی نظر میں سماج کی خوش حالی ، حسن اور رونق بوڑھوں کے دم سے ہے ۔ حضرت ابو درداءؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
اَبغُونِی الضُّعَفَاءَ، فَاِنَّمَا تُرزَقُونَ وَتُنصَرُونَ بِضُعَفَائِکُم (ابو داؤد : 2594)
’’میری خوش نودی کم زوروں کے ساتھ حسن سلوک کرکے حاصل کرو ۔ حقیقت میں تمہارے کم زوروں کی وجہ سے ہی تمھیں روزی دی جاتی ہے اور تمھاری مدد کی جا تی ہے ۔‘‘

اللہ کے رسول ﷺکو کم زوروں ، بیماروں اور بوڑھوں کا اتنا خیال تھا کہ نماز با جماعت پڑھانے والوں کو ان کی رعایت کا حکم دیا ۔ حضرت ابو ہریرۃؓ بیان کرتے ہیں کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا:
اِذَا صَلّٰی أحَدُکَم فَلیُخَفِّف ، فَاِنَّ مِنھَمُ الضَّعِیفَ وَا السَّقِیمَ وَالکَبِیرَ ، وَاِذَا صَلّٰی أحَدُکُم لِنَفسِہِ فَلیُطَوِّل مَا شَاء (بخاری : 703 ، مسلم : 467)
’’جب تم میں سے کوئی نماز پڑھائے تو اسے مختصر کرے ۔ اس لیے کہ مقتدیوں میں کم زور ، بیمار اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں ۔ البتہ جب وہ تنہا نماز پڑھے تو اسے جتنا چاہے طول دے ۔‘‘

اسلام کی بوڑھوں کے ساتھ معاملہ کرنے کے سلسلے میں یہ عمومی ہدایات تھیں ۔ اگر کسی عمر رسیدہ شخص کے ساتھ رشتے داری بھی ہو تو اس کے ساتھ مزید حسن سلوک کرنا چاہیے ۔ اس تعلق سے قرآن مجید میں بوڑھے والدین کا خصوصیت سے تذکرہ کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
’’والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ۔ اگر تمھارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہو کر رہیں تو انھیں اُف تک نہ کہو ، نہ انھیں جھڑک کر جواب دو ، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو اور دعا کیا کرو کہ ’’پر وردگار ! ان پر رحم فرما ، جس طرح انھوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا ۔ ‘‘
( الإسراء :23، 24)

بوڑھوں کے بارے میں اسلام کی یہ تعلیمات و ہدایات بہت قیمتی اور بے مثال ہیں ۔ ان پر عمل کیا جائے تو سماج کی پاکیزگی ، رونق اور حسن کو برقرار رکھا جا سکتا ہے ۔

( شائع شدہ : خواتین کا آن لائن ماہ نامہ ہادیہ، اگست 2022 )

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*