بی پی ایس سی امتحان کے نتائج:تیری اڑان کا منتظر ہے آسماں-ڈاکٹر مشتاق احمد

حال ہی میں بہار پبلک سروس کمیشن کے 64 ویں مقابلہ جاتی امتحان کا نتیجہ آیا ہے ۔کل54 14 امیدواروں کو اس میں کامیابی ملی ہے اور اب یہ سبھی بہار کے مختلف اضلاع میں گزیٹیڈ افسران کے طور پر مامور کیے جائیں گے ۔ واضح ہو کہ ریاست بہار میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ،ڈی ایس پی اور انتظامی امور کے اعلیٰ عہدے پر تقرری کے لیے ہر سال مقابلہ جاتی امتحان ہوتے ہیں اور ان میں لاکھوں امیدوار شامل ہوتے ہیں ۔یونین پبلک سروس کمیشن کی طرح ہی پہلے پی ٹی امتحان ہوتا ہے اس کے بعد تحریری مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کا انٹرویو ہوتا ہے اور پھر آخر میں کامیاب امیدواروں کی فہرست جاری کی جاتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ امتحان بہت سخت ہے اور جو طلبا شروع سے ہی اس کے لیے کری محنت کرتے ہیں اور ذہنی طور پر مقابلہ جاتی امتحانات کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اس میں کامیاب ہوتے ہیں ۔اس لیے سرکاری نوکریوں میں اس امتحان کی غیر معمولی اہمیت ہے کہ یہ سب ہی کامیاب امیدوار اعلی عہدے پر فائز ہوتے ہیں اور انتظامی امور میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں جس طرح یونین پبلک سروس کمیشن میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اسی طرح ریاستی سطح پر بہارپبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں کامیاب ہونے والے کو سماج میں نہ صرف شہرت ملتی ہے بلکہ ان کی شخصیت مثالی بن جاتی ہے ۔ جہاں تک مقابلہ جاتی امتحانات میں مسلم امیدواروں کی کامیابی کا سوال ہے تو آبادی کی شرح کے تناسب سے ہمیشہ کم رہی ہے ۔اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں مقابلہ جاتی امتحانات کے تئیں شروع سے ہی رجحان کم رہا ہے ۔اگرچہ اس طرح کے امتحانات کے تعلق سے طرح طرح کی غلط فہمیاں بھی عام رہی ہیں کہ اس طرح کے قومی اور ریاستی امتحانات میں مسلم امیدواروں کے تئیں ذہنی تعصب اور تحفظ مایوسی کا سبب ہوتا ہے،لیکن میرے خیال میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے،کیونکہ حالیہ دنوں میں یونین پبلک سروس کمیشن اور مختلف ریاستی پبلک سروس کمیشنز میں مسلم امیدواروں کی کامیابی کا گراف بلند ہوا ہے ۔دراصل یہ امتحان بہت ہی مشکل مرحلوں سے گزرتا ہوا انجام تک پہنچتا ہے اور اس کے لیے اگر امیدوار شروع سے ہی ذہنی طور پر تیار نہیں ہے اور اس کی بنیاد مستحکم نہیں ہے،تو وہ کامیاب نہیں ہو سکتا ۔اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم طبقہ اپنے معاشرے میں اس طرح کے قومی اور ریاستی مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے ماحول سازی پر زور دے اور اس طرح کے امتحانات کے لیے جس محنت کی ضرورت ہوتی ہے اس پر توجہ دے ،کیونکہ میرا ذاتی مشاہدہ یہ ہے کہ اگر بچوں کی ذہن سازی ہائی اسکول امتحان کے پاس ہونے کے بعد سے ہی کی جائے اور ان میں مقابلہ جاتی امتحانات کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت پیدا کی جائےتو تمام تر غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی اور ہمارے بچے بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں گے ۔
بہر کیف اس بار بہار پبلک سروس کمیشن کے نتائج میں مسلم طلبا کی کامیابی کا فیصد حوصلہ افزا ہے کہ اس بار سات فیصد مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں ۔ 1454 میں 101 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اور بہار پبلک سروس کمیشن کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اتنا حوصلہ بخش رزلٹ آیا ہے ۔اس سے قبل ہمیشہ تین یا چار فیصد امیدوار ہی کامیاب ہوتے تھے ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہار میں مسلمانوں کی جتنی آبادی ہے اس کے تناسب میں یہ نتیجہ بھی کم ہے ۔اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ مسلم معاشرے کے طلبا اب بھی اس امتحان کے تئیں اتنے سنجیدہ نہیں ہیں جتنے کہ اکثریتی طبقے کے طلبا ہیں ۔ اس بار کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر ہماری کوشش جاری رہی تو آئندہ کامیاب امیدواروں میں مسلم طلبا کا فیصد بڑھ سکتا ہے ۔ یہاں یہ ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حکومتی اداروں نے مسلم طلبہ کے لیے اس طرح کے مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے مفت کوچنگ کا اہتمام کیا ہے اور اس کوچنک کا بھی خاطر خواہ نتیجہ سامنے آنے لگا ہے ۔اس بار حج بھون پٹنہ کوچنگ کا نتیجہ شاندار رہا ہے کہ یہاں کے کوچنگ سے استفادہ کرنے والے 49 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں ۔
واضح ہو کہ محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود حکومت بہار کی جانب سے مسلم امیدواروں کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے حج بھون پٹنہ میں اس طرح کے قومی اور ریاستی مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے مفت کوچنگ کا رہائشی انتظام ہے ۔قیام وطعام کے ساتھ ساتھ اچھے اساتذہ کے ذریعے ان بچوں کو مقابلہ جاتی امتحانات کے تقاضوں کی روشنی میں تیاری کرائی جاتی ہے ۔ چوں کہ اس طرح کی کوچنگ کا خاکہ بہار کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری جناب عامر سبحانی نے تیار کیا تھا اور ان کی نگرانی میں ہی کوچینگ چل رہا ہے اس لئے ان امیدواروں کو اس کا بھی بڑا فائدہ مل رہا ہے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جناب عامر سبحانی یونین پبلک سروس کمیشن کے ٹاپر رہے ہیں اور ان کی تعمیری و دانشو را نہ فکر و نظر نے مسلم نوجوانوں کو بہت متاثر کیا ہے ۔ ریاست میں مفت کوچنگ کا تصور بھی ان ہی کی دین ہے ۔حج بھون کے علاوہ دیگر اضلاع میں بھی مفت کوچنگ کے مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں سے بڑی تعداد میں مسلم امیدوار استفادہ کر رہے ہیں ۔چونکہ میں بھی اس مہم میں شامل رہا ہوں اس لیے دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ریاست بہار میں مقابلہ جاتی امتحانات کی ذہن سازی میں محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کی مفت کوچنگ مہم نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔اس سال حج بھون کا جو شاندار رزلٹ آیا ہے اس میں عامر سبحانی صاحب اور حج بھون کے منتظم راشد احمد کی پر خلوص محنت شامل ہے ۔
اس سال کے رزلٹ میں ایڈمنسٹریٹو اور پولیس انتظامیہ کے اعلی عہدے پر بھی مسلم طلبہ نے اپنی پوزیشن بہتر کی ہے ۔ظاہر ہے کہ ایڈمنسٹریٹو سروس اور پولیس سروس میں جانے والے انتظامیہ کی مین اسٹریم کے عہدے دار ہوتے ہیں ۔اور ان کی کارکردگی سے قوم و ملت کی شناخت مستحکم ہوتی ہے ۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جس طرح حج بھون میں اقلیتی طلباء کے لیے رہائشی کوچنگ کا انتظام ہے اسی طرح کی کوچنگ کا انتظام کمشنری سطح پر بھی ہو تاکہ اس طرح کے مقابلہ جاتی امتحانات میں اقلیتی طبقہ کے زیادہ سے زیادہ امیدوار شامل ہو سکیں ۔ساتھ ہی ساتھ اقلیت طبقے کے دانشور افراد کو بھی اس طرح کی مہم میں شامل ہونا چاہیے اور اپنے علاقے میں مقابلہ جاتی امتحانات کے تئیں نوجوانوں کو راغب کریں اور ان کی ذہن سازی کریں کہ وہ اس طرح کے امتحانات میں شامل ہوکر اپنے مستقبل کو روشن کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے معاشرے کی تصویر بدل سکتے ہیں ۔عامر سبحانی صاحب کا خواب اسی وقت پورا ہو سکتا ہے جب ریاست بہار میں مختلف اعلی عہدوں پر فائز اقلیتی طبقہ کے افسران بھی اس مہم کا حصہ بنیں ۔کیونکہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ ملک میں اقلیتی طبقے کی تقدیر اسی وقت بدل سکتی ہے جب تعلیمی شعبے میں اس کی شرح میں اضافہ ہو اور معیاری تعلیم کی بدولت مقابلہ جاتی امتحانات میں اس کی حصہ داری بڑھے ۔کیونکہ دنیا میں جتنی بھی قومیں ہیں ان کی ترقی کا ضامن معیاری تعلیم ہے ۔اس لئے تمام تر گمرہی اور غلط فہمیوں کے دائرے سے باہر نکل کر اپنی تقدیر کو بدلنے کے لیے عصری تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے قومی اور ریاستی مقابلہ جاتی امتحانات میں اپنی حصہ داری کے فیصد میں اضافہ کرنا ہوگا کہ آبادی کے تناسب میں ہیں رزلٹ بھی سامنے آئے گا ۔اس سال کا نتیجہ بہتر ضرور ہے لیکن اتنے پر ہی اکتفا نہیں کیا جاسکتا ۔میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ اگر مسلم طبقہ دیگر فضولیات میں خرچ سے پرہیز کرکے اس طرح کی تعمیری کوچنگ کا انتظام کرے تو سرکاری امداد کے ساتھ ساتھ ذاتی فنڈ کی سہولت کی بدولت کوچنگ کے مراکز میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے اور ریاستی سطح پر مقابلہ جاتی امتحانات کی ماحول سازی بھی ہو گی اور اس کا خاطر خواہ فائدہ مسلم امیدواروں کو ملے گا ۔خاص طور پر معاشی اعتبار سے پسماندہ طبقے امیدواروں کو سہولت میسر ہوگی اور وہ اس طرح کے امتحانات میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کر سکیں گے ۔کیونکہ گاؤں دیہات میں بہت سے ایسے ذہین طلبہ ہے جن کی رہنمائی اگر وقت پر کی جائے اور انہیں مقابلہ جاتی امتحانات کی طرف راغب کیا جائےتو وہ بہتر نتیجہ دے سکتے ہیں کیوں کہ ان کے اندر بلندیوں تک اڑان بھرنے کی صلاحیت تو ہوتی ہے لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ وہ کب اپنے پروں کو پھیلائیں اور اڑان بھریں ۔