قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام عبدالواحد ہاشمی و نفیس الرحمان سیوہاروی کی کتاب’’ہفت پہلو سلیم شیرازی‘‘ کا اجرا

 

نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام سینئر صحافی، مترجم و شاعر سلیم شیرازی کی شخصیت و خدمات کے تجزیوں پر مشتمل مضامین کے مجموعے’ ہفت پہلوسلیم شیرازی‘ کا آج کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد اور دیگر شخصیات کے ہاتھوں اجرا عمل میں آیا۔ اس موقعے پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ سلیم شیرازی کو میں عرصۂ دراز سے جانتا ہوں،وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے حامل ہیں، انھوں نے اردو صحافت، ترجمہ،فکشن اور شاعری تمام شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سلیم شیرازی چونکہ بہ یک وقت کئی زبانوں پر دسترس رکھتے ہیں اس لیے ان کا مطالعہ بھی وسیع اور متنوع ہے اور اس کا اظہار ان کی تخلیقات سے بھی ہوتا ہے۔ شیخ عقیل نے اس کتاب کی اشاعت پر سلیم شیرازی اور کتاب کے مرتبین عبدالواحد ہاشمی و نفیس الرحمان سیوہاروی کو دلی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ مجھے امید ہے کہ اس کتاب سے سلیم شیرازی کی شخصیت اور فکر و فن کو سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی۔ ممتاز ادیب و ناقد حقانی القاسمی نے کہا کہ سلیم شیرازی کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ وہ ایک خود دار شخصیت کے مالک ہیں،بہت ہی مشفق، محبت کرنے والے اور اپنے چھوٹوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے انسان ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شیرازی صاحب حقیقی معنوں میں اردو کے بے لوث خادم ہیں۔ انھوں نے جہاں دہلی سے شائع ہونے والے بیشتر اردو اخبارات میں خدمات انجام دیں، وہیں ان کی کلاسیکی رنگ کی شاعری بھی اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتی ہے۔ یہ کتاب ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کی عمدہ کوشش ہے جس کے لیے میں مرتبین کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
قومی بھارت کے ایڈیٹر ممتاز عالم رضوی نے کہا کہ سلیم شیرازی ایک قلندر صفت انسان ہیں، کردار و عمل کا حسن ان کی شناخت ہے اور وہ لکھنؤ و دہلی دونوں دبستانوں کی ادبی و ثقافتی خصوصیات کے امین ہیں۔ یہ کتاب سلیم شیرازی اور ان کے عہد کی بھرپور عکاسی کرتی ہے، جس کے لیے مرتبین قابلِ ستایش و تحسین ہیں۔ مشہور شاعر معین شاداب نے سلیم شیرازی سے اپنے دیرینہ روابط کا ذکر کرتے ہوئے ان کی شخصیت و اطوار کے دلچسپ پہلووں پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ سلیم شیرازی واقعی ہمہ جہت شخصیت کے حامل ہیں اور ان کی شخصیت کا ہر پہلو ایک مستقل موضوع اور ایک کیرکٹر ہے۔ انھوں نے خصوصاً ان کے شعری اوصاف و محاسن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چونکہ سلیم شیرازی کو لکھنؤ کے قدیم شعرا کی صحبت حاصل رہی ہے اور انھوں نے کلاسیکی شعرا کا مطالعہ کررکھا ہے،اس وجہ سے ان کی شاعری میں وہی رنگ پایا جاتا ہے جو استاد شعرا سے مخصوص ہے۔ انھوں نے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل کا خصوصی طورپر شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے سلیم شیرازی کی پذیرائی و اعتراف کے لیے کونسل کا اسٹیج فراہم کیا۔ اس موقعے پر کتاب کے مرتب عبدالواحد ہاشمی نے بھی اظہار خیال کیا ،جبکہ حاضرین کی خواہش پر جناب سلیم شیرازی نے کچھ منتخب نعتیہ اشعار پیش کیے۔ آخر میں کتاب کے دوسرے مرتب جناب نفیس الرحمن سیوہاروی کے اظہار تشکر کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ اس موقعے پر کونسل کے اسٹاف کے علاوہ معروف صحافی جناب ظفر انور شکرپوری،مشہور شاعر منیرہمدم ، عبارت پبلی کیشن کے سربراہ سلام الدین خان اور علی ساجد وغیرہ بھی موجود رہے۔