مشاہیر علما کے ہاتھوں مولانا نور عالم خلیل امینی کی حیات و خدمات پر مشتمل نایاب حسن کی تالیف ‘اک شخص دل ربا سا ‘ کا اجرا

 

شمالی بہار کے ممتاز اہلِ علم و دانش اور وزیر برائے اصلاحِ اراضی،حکومت بہار رام صورت کمار کی شرکت، مولانا نور عالم خلیل امینی کی بے مثال خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا

 

مظفرپور (عبدالخالق قاسمی): آج مورخہ 10 مئی بروز منگل گیارہ بجے دن ہر پور بیشی مظفرپور میں نوجوان قلم کار نایاب حسن قاسمی کی عربی و اردو کے معروف ادیب و مصنف مولانا نور عالم خلیل امینی کی حیات و خدمات پر مؤلفہ کتاب ‘اک شخص دل ربا سا ‘ کی تقریبِ اجرا منعقد ہوئی، جس کی سرپرستی حضرت مولانا قاضی محمد عمران قاسمی ( شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ قاسمیہ دارالعلوم بالاساتھ سیتامڑھی) نے کی اور صدارت مفتی ثناءالہدی قاسمی( نائب ناظم امارت شرعیہ، پٹنہ) نے فرمائی، جبکہ اس تاریخی تقریب میں مہمانان خصوصی کی حیثیت سے حضرت مولانا عبدالمنان قاسمی (ناظم مدرسہ امدادیہ اشرفیہ راجو پٹی سیتامڑھی)، حضرت مولانا اظہار الحق مظاہری (ناظم اشرف العلوم کنہواں)، مولانا صفی الرحمٰن قاسمی (صدر المدرسین مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ دربھنگہ)، مولانا حسین احمد قاسمی ( دارالعلوم بالاساتھ)، مفتی ثناء اللہ قاسمی (دارالعلوم بالاساتھ)،مولانا انوار اللہ فلک قاسمی( ناظم ادارہ سبیل الشریعہ آواپور)،ڈاکٹر صہیب (چیئرمین الامداد چیریٹیبل ٹرسٹ مادھوپور سلطان پور)، معروف صحافی رضوان الحق قاسمی، یواین آئی کولکاتا کے نوراللہ جاوید قاسمی ،مفتی نعمت اللہ قاسمی مکی،مفتی محمد انصار قاسمی اور مولانا غزالی قاسمی وغیرہ نے شرکت کی ـ وہیں اس پروگرام میں اپنی مصروفیتوں کے باوجود وزیر براے اصلاحِ اراضی رام صورت کمار نے شرکت کی ـ اس تقریب میں وزیر موصوف کا شال اڑھا کر مفتی ثناءالہدی قاسمی نے استقبال کیا،اس موقع پر انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندو مسلم سماج کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہم سب کی اہم ذمے داری ہے ہم سب مل کر خوبصورت بہار بنائیں گے، انہوں نے اس تقریب سے لوگوں کو امن و اخوت اور وحدت کا پیغام دیاـ نایاب حسن قاسمی نے مہمانوں کا استقبال کرنے کے بعد اپنی تالیف اک شخص دل ربا سا پر مختصر مگر جامع روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب تین حصوں میں منقسم ہے،اس کا پہلا جز حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی کے افکار و خیالات، زبان و ادب پر ان کے درک،ان کی شخصیت و اخلاق کے روشن پہلووں اور تدریسی خدمات کے تذکرے پر مشتمل ہے، جبکہ دوسرا جز حضرت علیہ الرحمہ کی خود نوشت ہے اور تیسرا جز 1982 سے لے کر 2021 تک "الداعی” میں شائع ہونے والے مولانا کے مضامین کا اشاریہ پیش کیا گیاہےـ
قبل ازاں پروگرام کا آغاز مولانا مظہر الاسلام قاسمی بالاساتھوی کی تلاوتِ کلام اللہ سے ہوا اور مولانا حمیداللہ قاسمی نے نعتیہ کلام پیش کیا ـ افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مولانا زکریا قمر قاسمی نے کہا کہ "اک شخص دل ربا سا ” مولانا نور عالم خلیل امینی کی حیات و خدمات پر ان کے شاگرد رشید عزیزی نایاب حسن قاسمی کی بہترین تصنیف ہے، جو ان کے لیے خراج عقیدت بھی ہے اور معیار کے اعتبار سے یہ ایک دستاویزی اور حوالہ جاتی کتاب ہے، جس سے کئی نسلیں استفادہ کریں گی ـ مولانا نایاب نے ان کی زندگی کے ہر پہلو کو اس کتاب میں یکجا کر دیا ہےـ حضرت مولانا انور جمال قاسمی نے مولانا امینی کے علمی و ادبی امتیازات پر روشنی ڈالی ـ مولانا قاضی محمد عمران قاسمی نے نایاب حسن سے اپنے جذباتی لگاؤ کا اظہار کیا اور اپنے شاگرد سے بے پناہ محبت کی وجہ سے خود ہی اس تقریب کی نظامت فرمائی،اس دوران انہوں نے کہا کہ اس کتاب کی مقبولیت نایاب حسن کی محبوبیت کا ثبوت ہےـ انھوں نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے بحیثیت سرپرستِ تقریب تمام مہمانوں کا استقبال کیا اور مولانا امینی کی حیات و خدمات کے روشن پہلووں پر بلیغ انداز میں اظہارِ خیال فرمایاـ اس تقریب سے مولانا عبدالمنان قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں سرمایے کی بہت سی قسمیں ہیں،مگر ان میں وقت اللہ کی ایک ایسی نعمت ہے کہ دنیا کی تمام دولت و ثروت اس کے ادنی درجہ کا بدل نہیں ہو سکتی، وقت کی قدر کی وجہ سے ہی مولانا نور عالم خلیل امینی علم کی بلندی پر پہنچے اور عظیم خدمات انجام دیں ـ مولانا اظہار الحق مظاہری نے اپنے تاثرات میں کہا کہ مولانا نور عالم خلیل امینی کا ہم سب پر قرض تھا، جس کو مولانا نایاب حسن قاسمی نے اتارنے کی عمدہ کوشش کی ہےـ اس تقریب کی صدارت کرتے ہوئے مولانا مفتی ثناءالہدی قاسمی نے کہا کہ آج اس کتاب کو دیکھ کر مولانا نور عالم خلیل امینی سے وابستہ مختلف خوب صورت یادیں میرے ذہن میں تازہ ہو رہی ہیں ، انھوں نے مولانا کی علمی، فکری، ادبی، صحافتی و اصلاحی خدمات کو وقیع الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا امینی علامہ شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، مولانا مناظر احسن گیلانی اور مولانا علی میاں ندوی جیسے اکابر اہل علم و قلم کے سلسلے کی زریں کڑی تھےـ انھوں نے کتاب کے مصنف نایاب حسن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی طرزِ تحریر کو سراہا اور خصوصا کتاب کے نام کی انفرادیت و ادبیت کی خوب تحسین فرمائی ـ
آخر میں سرپرستِ تقریب حضرت مولانا قاضی محمد عمران قاسمی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ـ اس تقریب کے نظم و انتظام اور اسے کامیاب بنانے والوں میں مولانا و قاری عزیر اختر قاسمی، نوجوان سیاسی و سماجی کارکن محمد ثاقب، جناب ظفیر احمد، مولانا سرفراز قاسمی،مشیر احمد، توقیر احمد، مولانا عبدالماجد ولی قاسمی،مولانا عمر منظور، حافظ عبدالسلام اور تمام اہلِ بیشی نے اہم رول ادا کیا، جبکہ اس پروگرام میں سیاسی، سماجی و مذہبی قائدین کےعلاوہ علاقہ کی علمی و سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی ـ