کرناٹک: بی جے پی ایم ایل سی نے اپنی ہی حکومت پر لگایا21473 کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام

بنگلور:کرناٹک کے وزیر اعلی بی ایس یدیورپا کو عہدے سے برطرف کرنے کا مطالبہ کرنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل سی اے ایچ وشوناتھ نے جمعہ کو الزام لگایا کہ محکمہ آبپاشی نے 21473 کروڑ روپے کا ٹینڈر جلد بازی میں تیار کیا تھا، بغیر کسی مالی منظوری کے اور اس میں گھوٹالہ ہواہے۔ انہوں نے یدیورپا کے بیٹے اور ریاستی بی جے پی کے نائب صدر بی وائی وجیندر پر سرکاری کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا۔ وشوناتھ نے ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ محکمہ آبپاشی میں 20 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا معاہدہ تیار کیا گیا ہے جو بھدرا نہرپروجیکٹ اور کاویری آبپاشی پروجیکٹ سے متعلق ہے۔ کوئی مالی منظوری نہیں لی گئی ، بورڈ کا کوئی اجلاس نہیں ہوا۔ یہ عجلت میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب ٹھیکیداروں سے رشوت لینے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ وشوناتھ بی جے پی سے قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کے ممبر ہیں اور دو سال قبل جنتا دل (ایس) سے تعلقات توڑنے کے بعد بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ کیا یہ ایسی حکومت ہے جو ٹھیکیداروں کے مفادات کے بارے میں سوچتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کے وزراء سمیت پوری ریاست وجیندر کی انتظامیہ میں مداخلت کی بات کررہی ہے۔ وشوناتھ نے کہاکہ آج کون سا وزیر مطمئن ہے؟ وجیندرکا ہر شعبہ میں مداخلت ہے۔ وشوناتھ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری اور کرناٹک کے انچارج ارون سنگھ ریاست کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ کچھ ارکان اسمبلی کے یدیورپا کی برطرفی کے مطالبہ کے تناظر میں سنگھ لیڈروں سے بات چیت کرنے کے لیے کرناٹک میں ہیں،وہ جمعہ کو اپنا دورہ ختم کرنے سے پہلے پارٹی کی کور کمیٹی میٹنگ میں شریک ہوںگے ۔