بی جے پی لیڈران کی دوسرے مذاہب میں شادی’ لوجہاد‘ہے یانہیں؟بھوپیش بگھیل کاتیکھاسوال

رائے پور:’لوجہاد‘کاڈرامہ ایک بار پھرکھڑاہوگیاہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی اس پر قانون بنانے کے حق میں نظر آرہی ہے ، کانگریس اس کی مخالفت کرتی نظر آرہی ہے۔ کانگریسی لیڈران اس کے بارے میں بی جے پی پر ہر روز حملہ کر رہے ہیں۔ اسی ضمن میں اب کانگریس کے لیڈر اورچھتیس گڑھ کے وزیراعلٰی بھوپش بگھیل نے بی جے پی پر حملہ کیا ہے۔ بھوپیش بگھیل نے کہاہے کہ بی جے پی لیڈران نے دوسرے مذاہب میں شادی کی ، کیا یہ بھی لوجہادہے؟چھتیس گڑھ کے سی ایم بھوپش بگھیل نے کہاہے کہ میں بی جے پی کے لیڈروںسے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا بی جے پی لیڈران جنہوں نے دوسرے مذہب کے لوگوں سے شادی کی ہے ، وہ لوجہادکے دائرے میں آتے ہیں۔بھوپش بگھیل سے پہلے راجستھان کے وزیراعلیٰ اشوک گہلوت نے بی جے پی پرحملہ کرتے ہوئے کہاتھاکہ لوجہاد ایک ایسی اصطلاح ہے جو ملک کو تقسیم کرنے کے لیے بی جے پی نے تشکیل دی ہے۔اشوک گہلوت نے کہا ہے کہ شادی ذاتی آزادی کا معاملہ ہے اور اس کو روکنے کے لیے کوئی قانون لاناسراسرغیرآئینی ہے۔