بی جے پی کی جمہوریت پراڈوانی،جوشی اورسنہاسے رائے لینی چاہیے:رندیپ سرجے والا

نئی دہلی:کانگریس نے وزیرداخلہ امیت شاہ کے حملے پرسخت جواب دیتے ہوئے کہاہے کہ جن لوگوں نے زبردستی اپنے تجربہ کاررہنماؤں کوکنارے کیا اور ان کی توہین کی وہ کانگریس سے سوال کررہے ہیں۔بی جے پی میں داخلی جمہوریت کے بارے میں لال کرشن اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی اور یشونت سنہا جیسے قائدین سے پوچھا جانا چاہیے۔پارٹی کے مرکزی ترجمان رندیپ سورجے والا نے شاہ کے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جواپنی پارٹی کے سابق لیڈروں کے عہدے پر فائز ہوئے اور انہیں ریٹائر ہونے اور ان کو رسوا کرنے پر مجبور کیا۔انہوں نے اڈوانی ، جوشی،کیشو بھائی پٹیل ، سنجے جوشی اور بی جے پی کے کئی سینئررہنماؤں کے ناموں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ فہرست لمبی ہے۔جب کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا سے امت شاہ کے بیان کے بارے میں پوچھاگیاتوانہوں نے صحافیوں کوبتایاہے کہ بی جے پی میں داخلی جمہوریت کے بارے میں اڈوانی ،جوشی ،ارون شوری اوریشونت سنہاسے پوچھا جانا چاہیے۔میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتاہوں۔ایمرجنسی کے تناظر میں امت شاہ کے تبصرے پر ، کھیڑا نے کہاہے کہ تاریخ کے بارے میں بات کرنے والے لوگوں نے آج ملک کے اداروں کو کمزور کردیا ہے جو پہلے کبھی نہیں ہواتھا۔اہم بات یہ ہے کہ شاہ نے جمعرات کوکانگریس پر حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ایک کنبہ کے مفادات پارٹی اور قومی مفادات پرحاوی ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایاہے کہ کانگریس میں اب بھی ایمرجنسی مائنڈسیٹ کیوں موجودہے۔ایمرجنسی کے 45 سال پورے ہونے پر امت شاہ ،مودی اورنڈانے کانگریس پرحملے کیے ہیںاور دعوی ٰکیاہے کہ کانگریسی لیڈران اب اپنی ہی پارٹی میں گھٹن کااحساس کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ، اپوزیشن پارٹی کا عوام سے فاصلہ بڑھتا جارہا ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*