بی جے پی کا سب کچھ معاف-ابھیسار شرما

ترجمہ:نایاب حسن
بی جے پی کے سیاسی ماڈل سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ نیوز چینل چاہیں توبی جے پی ماڈل سے ٹی آر پی حاصل کرنے کا طریقہ سیکھ سکتے ہیں، فلم سازچاہیں تو باکس آفس پر فلمیں چلانے کا طریقہ سیکھ سکتے ہیں، یہی نہیں ، اپوزیشن جماعتیں خود کو زندہ رکھنے ، آگے بڑھنے کا طریقہ بھی بی جے پی سے سیکھ سکتی ہیں۔
مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں شاید ہی کوئی سیاسی پارٹی اتنی عجیب و غریب ہوگی،جتنی کہ اس وقت بی جے پی ہے، میں سچ کہہ رہا ہوں۔ اس سے پہلے کہ بی جے پی کے تئیں میری بھکتی دیکھ کر آپ کی آنکھیں نم ہو جائیں، میں کچھ واضح کردینا چاہتا ہوں۔ ایسے وقت میں جب ملک کو کورونا بحران کا سامنا ہے ، پارٹی نے بہار میں انتخابی بگل پھونک دیا، یعنی اس نے ایک ورچوئل انتخابی ریلی کا انعقاد کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اسے انتخابی جلسہ نہیں کہنا چاہتی۔ یہی نہیں ، امت شاہ نے پوری طاقت کے ساتھ مغربی بنگال میں بھی ریلی کر ڈالی۔ اس کا کیا مطلب ہے؟اس کا مطلب یہ ہے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے ، بی جے پی اپنی سیاست بند نہیں کرے گی۔ آپ کو یاد ہوگاکہ جب کورونا بحران شروع ہوا تھا ،تو بی جے پی نے ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں پارٹی کے 6 سالوں سے برسر اقتدار ہونے کا جشن منایا گیا تھا۔ اس نے ایک کروڑ افراد تک پہنچنے کا ایک اہم منصوبہ بھی بنایا ، جس کے کامیاب ہونے میں مجھے کوئی شک نہیں ہے۔ایسے وقت میں جب حکومت کی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ وہ دو بڑے بحرانوں (چین کے ساتھ سرحد پر تنازع اور کورونا ) کو کیسے حل کرے ، بی جے پی اپنی سیاست سے باز نہیں آرہی ہے۔ وہ مسلسل آگے بڑھ رہی ہے اور اسے کسی بھی قسم کا کوئی چیلنج بھی درپیش نہیں ہے۔
کورونا بحران کے درمیان ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایک ورچوئل انتخابی ریلی کا انعقاد کیا اور اس میں انھوں نےایسی بہت سی باتیں کہیں، جو سرکاری طور پر حکومت کے موقف سے مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر انھوں نے کہا کہ حکومت نے غریب مزدوروں کو ٹکٹ کا 85 فیصد کرایہ دیا ہے ، جب کہ صرف دو دن قبل سپریم کورٹ میں سرکارکے نمائندے نے یہ واضح کیا ہےکہ ٹکٹ کا پیسہ یا تو اس ریاست نے دیا جہاں سے غریب مزدور نکلے تھے یا اس ریاست نے ، جو مہاجر مزدوروں کی منزل تھی۔ملک کے وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ مودی حکومت نے تقریبا ایک کروڑ لوگوں کو ان کے گھر پہنچایا۔ اہلِ اوڈیشہ سے مخاطب اس ریلی میں امیت شاہ نے کہا کہ کچھ معاملات میں ہم سے غلطی ہوگئی ہوگی ، لیکن اپوزیشن بتائے کہ اس نے کیاکیا؟یعنی کہ ٹھیکرا اپوزیشن کے سرپھوڑ دیا؛لیکن امیت جی یہ بھول گئے کہ اس وقت جس ماڈل کی سب سے زیادہ چرچا ہے ، یعنی کیرالہ ماڈل ، وہاں بائیں بازو کی حکومت ہے اور آپ کی پارٹی کے تجربہ کار قائدین اور وزرا کیا کرتے ہیں؟ کیرالہ کے بارے میں ایک جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ایک ہتھنی کیرالہ کے مسلم اکثریتی ضلع ملا پورم میں ماری گئی ، جبکہ ہلاکت ضلع پلکڑ میں ہوئی تھی اور اس میں انھیں میڈیا کا مکمل تعاون حاصل ہوا۔ یہاں تک کہ دو چینلز یہ کہتے چلے گئے کہ حاملہ ہتھنی کو مارنے والے مسلمان تھے ، جبکہ یہ واضح ہوگیاہے کہ ملزم کا نام ولسن تھا؛ لیکن حیرت نہیں ہونی چاہیے، میں نے کہا نا ، گورو۔چیلا کی پرانی روایت ہے!شاہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اپوزیشن کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ حکومت نے غریب مزدوروں کو گھر پہنچادیا ہے، بالکل پہنچایاہے؛ لیکن وزیر اعلی کی منتوں کے ایک ماہ بعد۔ اوڈیشہ کی ورچوئل ریلی میں یہ کہنا کہ ہم نے غلطی کی ہو گی،کافی معنی رکھتا ہے۔ ان کے اس قول سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت تارکین وطن مزدوروں کے معاملے میں بیک فٹ پر ہے؛ لیکن وہ اب بھی اپنی غلطی کو کھل کر قبول نہیں کررہی ہے۔
مسئلہ یہ نہیں ہے کہ مودی جی نے لاک ڈاؤن سے پہلے محض 4 گھنٹے کا وقت دیا تھا۔ معاملہ اس اقدام کے پس پردہ موجود بے حسی کا بھی نہیں ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ اس سے قبلتھوڑی سی بھی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ اتنی بڑی حکومت کے اتنے بیوروکریٹس ، اتنے وزرا نے سوچا بھی نہیں کہ اگر ہم صرف 4 گھنٹے کا وقت دیں گے تو غریب مزدور اپنے گھر کیسے پہنچے گا۔آپ نے ا سے یہ تو کہہ دیا کہ آپ جہاں ہیں ،وہیں رہیں ،مگر وہ جہاں تھا ،وہاں اسے دال روٹی تک نصیب نہیں تھی ، اسے تنخواہ نہیں مل رہی تھی۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورتحال میں اس کے پاس گھر واپس لوٹنے کا ہی آپشن بچا تھا؛ چنانچہ وہ سڑک پر نکل گیا۔
احساسِ جرم کےایک آدھ لمحے کو ایک طرف رکھیں تو ملک کے وزیر داخلہ نے اپنے دونوں جلسوں میں اسے ایک کارنامہ قرار دیا۔ پھرانھوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ ہندوستان کی دفاعی پالیسی دنیا کے بہترین ممالک میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ اور اسرائیل سے کچھ ہی نیچے ہیں اور ہماری سرحدیں مکمل طور پر محفوظ ہیں۔وہ یہ بتانا بھول گئے کہ ہندوستان اور چین کے مابین تناؤ چل رہا ہے۔ لداخ سے مسلسل اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ چین نہ صرف لائن آف ایکچول کنٹرول کو عبور کرچکا ہے ؛بلکہ اس ٹکڑے پر بھی قبضہ کر رہا ہے، جسے ہندوستان اپنی سرزمین سمجھتا ہے۔
کرنل ایس ڈگنی (ایس ڈینی) سن 2015-2017 کے درمیان پینگونگ تسو جھیل میں ہندوستانی دستے کے سربراہ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ فنگر 4 یعنی وہ حصہ جسے بھارت اپنی زمین مانتا رہا ہے ،اس میں کچھ ایسے چینی ڈھانچے دیکھ رہے ہیں ، جو پہلےنہیں تھے۔ خودلداخ میں بی جے پی رہنما کونچوک اسٹانجن نے مجھے بتایا کہ چینی فوج نے ہندوستان کی سرزمین پر قبضہ کرلیا ہے اور فنگر 4 تک پہنچ گئی۔ بہ قول کونچوک یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس نے کتنی اراضی پر قبضہ کیا ہے۔دفاعی ماہر اجے شکلا بھی مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ چین نے ہندوستانی اراضی پر قبضہ کرلیا ہے۔ انھوں نے ٹویٹ کیا کہ 1962 میںکم از کم ہندوستانی فوج نے چین کا مقابلہ تو کیا تھا اور چین نے اس کی قیمت بھی ادا کی تھی؛ لیکن اس بار ہم نے اپنی سرزمین پر چین کے قبضے کو چیلنج تک نہیں کیا ہے۔
ہندوستانی وزارت خارجہ کی پریس ریلیز میں سرحدی تنازع اور چین کے جارحانہ رویے کا ذکر تک نہیں ہے۔ راج ناتھ مسلسل اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ صورتحال ٹھیک نہیں ہے؛ لیکن کسی میں اتنی سی ہمت نہیں کہ وہ اس مسئلے کی تھوڑی تحقیق کر سکے۔البتہ راج ناتھ سنگھ راہل گاندھی کے ساتھ شعروشاعری کررہے ہیں۔ جب راہل گاندھی نے غالب کے ایک شعر کے ذریعے طنز کیا تو راجناتھ نے بھی جواب میں ایک شعرداغ دیا۔
راہل گاندھی: سب کو معلوم ہے ’’سیما‘‘کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو ’’ شاہ -ید‘‘ یہ خیال اچھا ہے
اس کے جواب میں راج ناتھ جی نے بھی ایک شعر جڑ دیا:
ہاتھ میں درد ہو تو دوا کیجے
ہاتھ ہی درد ہو تو کیا کیجے ؟
راج ناتھ جی نے اصلاًمنظر لکھنؤی کا یہ شعر غالب کے سر منڈھ دیا۔مانا کہ اٹل جی کے بعد بی جے پی کے نیتاؤں کا ہاتھ شعر و شاعری کے ساتھ حقائق بیانی میں بھی تنگ ہے ؛ لیکن راج ناتھ جی لکھنؤ کے رکن پارلیمنٹ ہیں ، ان سے اس غلطی کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ خیر ، راہل کے طنز کی وجہ سے ہی سہی،کم از کم ردعمل تو آیا، ورنہ خاموشی ہی تھی۔
ملک کے وزیر داخلہ اتنی بڑی بات اور اکثر حقیقت کے بر خلاف بات آسانی سے کہہ دیتے ہیں؛کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی بات کو کوئی بھی چیلنج نہیں کرے گا، نہ میڈیا اور نہ ہی اپوزیشن۔ اپوزیشن اگر کرے گا بھی ، تو یا تو اس کی بات سنی نہیں جائے گی یا ملک کے عوام کو اس کی صداقت پر کوئی اعتبار ہی نہیں ہے؛لیکن یہ کوئی نئی بات تھوڑی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ لوک سبھا انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کی واضح ہدایت تھی کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے انتخابی جلسے میں پلوامہ کا ذکر نہ کرے ؛ لیکن اس کی خلاف ورزی کسی نے اور نہیں ؛بلکہ بی جے پی کے سب سے اونچے قد کے قائد ، وزیر اعظم نریندر مودی نے کی۔ انہوں نے عوام سے پوچھا تھا کہ کیا اس بار ہمارے پلوامہ کے شہدا کو آپ کا ووٹ مل سکتا ہے؟ جبکہ انھیں ایسا کرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں تھی۔
حال ہی میں جموں وکشمیر میں ایک پولیس افسر دیویندر سنگھ دو دہشت گردوں کے ساتھ پکڑا گیا تھا۔ بی بی سی کی خبر کے مطابق اس نے تفتیش کرنے والوں کو بتایا کہ یہ بہت بڑا کھیل ہے،مگر دیویندر سنگھ پر کہیں بھی بحث نہیں ہوئی، ہمیں نہیں معلوم کہ وہ دہلی یا جموں میں کونسا کھیل کھیلنے جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ دو دہشت گرد پکڑے گئے، وہ ایک پولیس افسر تھا، اس کا تعلق پارلیمنٹ پر حملے سے بھی تھا ؛ لیکن دیویندر سنگھ پر کہیں کوئی چرچا نہیں ہوئی۔
کل ہی میں ایک دوست سے بات کر تے ہوئے ان چیزوں کا ذکر کر رہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی ایسا صرف اس لیے کر رہی ہے کہ وہ اقتدار میں ہے اور اس نے اپوزیشن کو کچل دیا ہے،میں نے ان سے اتفاق نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ اب ملک کے لوگ بدل چکے ہیں۔ جس مذہب اور قوم پرستی کا دھتورا اسے چٹایا جا چکا ہے ، اس کے بعد وہ اپنے تمام دکھوں کا ذمے دارخود کو مانتے ہیں، وہ شاید اس پروپیگنڈے سے بھی متاثر ہوچکے ہیں کہ اگر بی جے پی اقتدار سے باہر ہوگئی، تو ملک میں پھر مغلوں کی حکمرانی واپس آجائے گی،یہ مذاق نہیں ہے، اپنے آس پاس کے لوگوں کو ٹٹول کر دیکھ لیجیے۔
مجھے معلوم ہے ، آپ میں سے بہت سے لوگ یہ کہیں گے کہ کیا ایمرجنسی کے دوران اندرا گاندھی نے اسی طرح نہیں کیا تھا؟ آپ اندرا گاندھی کے اقتدار کی زیادتیوں کو کیسے بھول سکتے ہیں؟ آپ بالکل ٹھیک ہیں؛ لیکن آپ بنیادی طور پر دو چیزوں پر غور کیجیے، اول اُس وقت جو لوگ اندرا گاندھی کی مخالفت کر رہے تھے ،انھیں صرف جیل رسید کیا جاتا تھا،انھیں ملک کا ایکبہت بڑاطبقہ غدار نہیں کہتا تھا۔ دوسری بات یہ کہ اُس وقت ملک میں واقعی معنوں میں ایمر جنسی لگی ہوئی تھی،مگر آپ بھی جانتے ہیں کہ جہاں تک حقائق پر بات کرنے کا سوال ہے،تو اس میں بی جے پی کے نیتاؤں کا ہاتھ ذرا تنگ ہے۔

(اصل مضمون نو بھارت ٹائمس میں شائع ہوا ہے)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*