بی جے پی اقلیتی سیل نے وسیم رضوی کے خلاف ایف آئی آردرج کرائی

مذہبی اشتعال انگیزی پررضوی کی گرفتاری اورسپریم کورٹ سے درخواست واپسی کامطالبہ
لکھنؤ:لکھنؤمیں شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی کے خلاف جم کراحتجاج جاری ہے۔وسیم رضوی پربدعنوانی کے الزامات ہیں۔شیعہ اورسنی دونوں گروہوں نے اسے خارج ازاسلام قراردیاہے۔ایساسمجھاجاتاہے کہ وہ اس سے بچنے کے لیے حکومتی خوشامدکے طورپرمتنازعہ حرکت انجام دیتارہاہے۔رضوی کے خلاف چوک کوتوالی میں تحریر دے کر ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے ۔ اسی دوران علماء نے اپنے حامیوں کے ساتھ رضوی کے گھر کے باہر بھی قرآن خوانی کی۔ وسیم رضوی نے ایک عرضی داخل کی ہے۔بی جے پی اقلیتی سیل کے ریاستی ترجمان شمسی نے رضوی کے خلاف تحریر دی ہے۔ چوک کے ایس ایچ او وشوجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ شکایت کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ تحقیقات کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اسی دوران بی جے پی اقلیتی سیل کے صدر ذیشان خان سمیت متعدد مولاناؤں نے کشمیری محلہ میں رضوی کے گھر کے باہر قرآن کریم کی 26 آیات کی تلاوت کی۔پرانے لکھنؤ میں دیر شام خواتین نے رضوی کے پوسٹر بھی جلائے۔شیعہ اور سنی مذہبی گرووں نے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کوٹھیس پہونچانے کاالزام عائد کرتے ہوئے رضوی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مذہبی رہنماؤں نے کہاہے کہ اس پٹیشن کے ذریعے ملک اور دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کو ہوا دی گئی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے درخواست خارج کرنے کی اپیل کی ہے۔عیش باغ عیدگاہ کے امام مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہاہے کہ قرآن پاک اللہ کی سب سے مقدس کتاب ہے۔ قرآن کسی انسان پر نہیں نازل ہوا تھا ،وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل ہواہے۔ 26 آیات کو ایک طرف چھوڑ دیں ، قرآن پاک میں سے ایک بھی زیر ،زبرکو تبدیل نہیں کرسکتا۔ اس سے ملک اور دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوئے ہیں۔ مولانا نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ عرضی خارج کردی جائے گی۔