19 C
نئی دہلی
Image default
اسلامیات

بیماریاں اور شرعی ہدایات-اسعد اعظمی

ہر انسان اپنی زندگی میں چھوٹی بڑی مختلف قسم کی بیماریوں کا سامنا کرتا رہتا ہے، اور ان بیماریوں سے چھٹکارا پانے کے لئے مختلف تدابیر اختیار کرتا ہے، اسلامی تعلیمات پر ایمان رکھنے والے ہر مسلمان کو چاہئے کہ قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ میں مرض اور مریض سے متعلق جو ہدایات وارشادات موجود ہیں ان کی جانکاری رکھے، اور کسی بھی بیماری میں مبتلا ہونے پر ان ہدایات پر عمل کرے۔

صحت وعافیت کی نعمت:
بیماریوں سے محفوظ صحت مند انسان کو گویا امراض سے محفوظ رہنے کی عظیم نعمت ملی ہے، اس نعمت کی اسے قدر کرنی چاہئے، اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے، عام طور پر انسان عافیت اور سلامتی کی حالت میں خوب اکڑتا رہتا ہے اور بے فکری کی زندگی گزارتا ہے، بسا اوقات معاصی میں بھی غرق رہتا ہے، مگر جب امراض سے دوچار ہوتاہے تو گذرے ہوئے اوقات کو یاد کرکے آہیں بھرتا ہے، اور نیکیوں کی تمنا کرتا ہے جب کہ اس کے اعضاء کمزور ہو چکے ہوتے ہیں اور وہ زیادہ کچھ کرنے کے لائق نہیں رہ جاتا ۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
’’ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو:
(۱) موت سے پہلے زندگی کو (۲) بیماری سے پہلے صحت وعافیت کو
(۳) مصروفیت سے پہلے فرصت کے اوقات کو (۴) بڑھاپے سے پہلے جوانی کو
(۵) محتاجگی سے پہلے فارغ البالی کو ‘‘۔ (حاکم – صحیح الجامع : ۱۰۷۷ )
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
’’دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کے تعلق سے خسارے اور گھاٹے میں رہتے ہیں : ایک صحت، دوسرے فرصت ‘‘۔ (بخاری)
امراض سے عافیت اور جسمانی سلامتی کتنی بڑی نعمت ہے اس کا اندازہ لگانے کے لئے اس حدیث پر غور کریں :
حضرت عبید اللہ بن محصن انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ اپنے گھر یا قوم کے اندر وہ امن سے ہو ، جسمانی لحاظ سے عافیت میں ہو، اور ایک دن کی خوراک اس کے پاس موجود ہو، تو گویا اس کے لئے دنیا اپنے تمام تر ساز وسامان کے ساتھ جمع کردی گئی‘‘۔ (ترمذی -صحیح الجامع : ۶۰۴۲)
اسی لئے اس عظیم نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے،حدیثوں میں اس کی باقاعدہ تعلیم دی گئی ہے۔
چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
’’ جب تم میں کا کوئی آدمی سو کر اٹھے تو یہ دعا پڑھے :
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ فِیْ جَسَدِیْ وَرَدَّّ عَلَیَّ رُوْحِیْ، وَاَذِنَ لِیْ بِذِکْرِہٖ۔‘‘ (ترمذی -صحیح الجامع : ۳۲۹)
’’ تمام تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے جسمانی عافیت سے نوازا ، میری روح میرے لئے لوٹایا، اور اپنے ذکر کی مجھے توفیق بخشی ‘‘۔
یہی نہیں بلکہ انسان جب کسی مصیبت زدہ یا بیماری وغیرہ میں مبتلا شخص کو دیکھے تو اسے فورا اپنی عافیت وسلامتی کو یاد کرکے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے اس مصیبت یا بیماری سے اس کو محفوظ رکھا ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
جب تم میں کا کوئی آدمی کسی ( بیماری یا مصیبت وغیرہ میں ) مبتلا شخص کو دیکھے اور یہ دعا پڑھے :
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّا ابْتَلَاکَ بِہٖ، وَفَضَّلَنِیْ عَلَیْکَ وَعَلٰی کَثِیْرٍ مِنْ عِبَادِہٖ تَفْضِیْلاً۔
’’ تمام تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے اس بلا سے محفوظ وباسلامت رکھا جس میں اس نے تجھ کو مبتلا کیا، اور مجھ کو تم پر اور اپنے بہت سے بندوں پر فضیلت بخشی ‘‘۔
تو یہ دعا اس کے لئے اس نعمت کا شکریہ ہوگی ‘‘۔ (بیہقی- صحیح الجامع : ۵۵۵ )

بیماری سے گناہیں جھڑتی ہیں:
اس سلسلے میں متعدد احادیث مروی ہیں :
۱ – ’’ اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے کسی مصیبت میں مبتلا کرتا ہے‘‘۔ (بخاری ، مسلم )
۲ – ’’ مسلمان آدمی کو کوئی تکان ، بیماری ، فکر ، غم یا تکلیف لاحق ہوتی ہے یہاں تک کہ اگر اسے کانٹا بھی چبھتا ہے تو اس کی وجہ سے اللہ تعالی اس کی خطائیں معاف کرتا ہے‘‘۔ ( بخاری ومسلم )
۳ – ’’ کسی مسلمان کو کانٹے سے تکلیف پہنچے یا اس سے زیادہ تکلیف پہنچے تو اللہ تعالی اس کی وجہ سے ویسے ہی اس کی گناہیں معاف کرتا ہے جیسے درخت سے پتے گرتے ہیں ‘‘۔ (بخاری )
نبی اکرم ﷺ کے یہ ارشادات بیماری میں مبتلا شخص کو حوصلہ عطا کرتے ہیں کہ وہ بہت زیادہ آہ وبکا کرنے اور پریشانی کا اظہار کرنے سے اجتناب کرے ،اور اس حقیقت کو مدنظر رکھے کہ یہ بیماری بھی خیر کا ایک پہلو لیے ہوئے ہے اوراس کی وجہ سے اس کے گناہ جھڑ رہے ہیں، یہی چیز اس کو صبر وتحمل کا جذبہ بھی عطا کرتی ہے۔

بیماری میں صبر وتحمل:
کسی بھی مصیبت وپریشانی پر صبر کرنے کی تلقین کی گئی ہے ، اور یہ خوشخبری بھی سنائی گئی ہے کہ ’’صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ تعالی ہوتا ہے‘‘ (قرآن) اور ’’ صبر کرنے والوں کو بلا حساب اجر وثواب ملے گا ‘‘( قرآن ) اور نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: ’’ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے ، کیونکہ اسے ہر موقع پر خیر ہی خیر حاصل ہے، اور ایسا صرف مومن کے ساتھ ہوتا ہے ، وہ اس طرح کہ اگر اسے کوئی خوشی حاصل ہوتی ہے تو وہ اللہ کاشکر ادا کرتا ہے، یہ اس کے لئے خیر ہے، اور اگر اس کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے ، یہ بھی اس کے لئے خیر وبھلائی ہی ہے‘‘۔ (مسلم )
ایک حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ ’’ جب میں اپنے کسی بندے کی آنکھوں کے ذریعہ اسے آزماتا ہوں ( یعنی اس کی آنکھیں بیکار ہوجاتی ہیں ) اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو ان آنکھوں کے عوض میں اسے جنت عطا کرتا ہوں‘‘۔ ( بخاری )

خطرناک امراض سے پناہ طلب کرنے کی دعا:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ یہ دعا پڑھتے رہتے تھے :
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُوْنِِ وَالْجُذَامِ، وَسَیِّیِِٔ الْاَ سْقَامِ
(ابوداود، نسائی – صحیح الجامع : ۱۲۸۱)
ترجمہ: اے اللہ میں تیری پناہ پکڑتا ہوں برص سے ، دیوانگی سے ، کوڑھ سے اور تمام خراب بیماریوں سے ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ایک دعا یہ بھی تھی :
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ، وَتَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ، وَفُجَائَ ۃِ نِقْمَتِکَ، وَجَمِیْعِ سَخَطِکَ۔ (مسلم ، ابوداود)
ترجمہ: اے اللہ ! میں تیری پناہ پکڑتا ہوں تیری نعمت کے زائل ہونے سے ، تیری عافیت کے پھر جانے سے ، تیرے اچانک عذاب سے اور تیری ہر ناراضگی سے ‘‘۔
نبی اکرم ﷺ صحابہ کو اللہ تعالی سے عافیت طلب کرنے کی تاکید کرتے رہتے تھے، چنانچہ حضرت عباس بن مطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺسے کہا کہ اے اللہ کے رسول !مجھے کوئی چیز بتلا دیجیے جس کا میں اللہ تعالی سے سوال کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ سے عافیت کا سوال کریں‘‘، پھرمیں چند دن ٹھہرنے کے بعد گیا اور کہا مجھے کوئی چیز بتلا دیجیے جس کا میں اللہ تعالی سے سوال کروں، آپ نے مجھ سے فرمایا:’’ اے عباسـ ! اے رسول اللہ کے چچا! اللہ تعالی سے دنیا وآخرت میں عافیت کا سوال کیجیے ‘‘۔ (ترمذی بسندصحیح)
اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالی سے عفو اور عافیت طلب کرو، کیونکہ یقین (ایمان ) کے بعد عافیت سے بہتر چیز کسی کو نہیں دی گئی ‘‘۔ ( ترمذی ، احمد – صحیح الجامع : ۳۶۳۲)
حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے کہا کہ میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ ہر روزآپ یہ دعا کرتے ہیں:
’’ اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَدَنِیْ، اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ فِیْ سَمْعِیْ، اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَصَرِیْ،۔۔۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا اِلٰہَ اِلَّااَنْتَ‘‘۔
(ترجمہ: اے اللہ تو مجھے میرے بدن میں عافیت دے، اے اللہ ! تو میرے کان میں مجھے عافیت دے، اے اللہ ! تو میری آنکھ میں مجھے عافیت دے، اے اللہ ! میں کفر اور محتاجگی سے تیری پناہ پکڑتا ہوں، اے اللہ ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ پکڑتا ہوں، تیرے سوا کوئی معبود نہیں )
حضرت عبد الرحمن نے اپنے والد سے کہا کہ آپ روزانہ صبح وشام یہ دعا تین مرتبہ دہراتے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو دعا کرتے ہوئے سنا تھا ، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ کی سنت پر عمل کروں۔ (ابوداود:۵۰۹۰،باسناد حسن)
زیاد بن علاقہ کے چچا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے رسول اکرم ﷺ کی ایک دعا ان الفاظ میں بھی وارد ہے:
’’ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ مُنْکَرَاتِ الْاَخْلَاقِ والْاَعْمَالِ والْاَھْوَائِ والْاَدْوَائِ‘‘۔ (ترمذی – صحیح الجامع : ۱۲۹۸)
(ترجمہ: اے اللہ! میں تیری پناہ پکڑتا ہوں برے اخلاق ، برے اعمال ، بری خواہشات اور خراب بیماریوں سے )

بیماری میں مبتلا آدمی کے لئے شرعی تعلیمات:
چھوٹی بڑی کسی بھی طرح کی بیماری میں مبتلا ہونے پر ایک مسلمان کو صبر وضبط سے کام لینا چاہئے اور جزع فزع اور قدرت سے شکایت کا لب ولہجہ نہیں اختیار کرنا چاہئے، بلکہ اس بیماری کو اپنے گناہوں کے کفارہ کا ذریعہ تصور کرنا چاہئے، اور مناسب علاج شروع کرنے کے ساتھ اللہ تعالی سے شفا کی دعا میں لگ جانا چاہئے ،کیونکہ اصل شفا اسی کے ہاتھ میں ہے، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبانی قرآن میں کہا گیا ہے: {وَإِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیْن ِ-سورہ شعرائ: ۸۰}جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی ( اللہ ) مجھے شفا دیتا ہے ۔
اس سلسلے میں یہ معلوم ہو کہ اللہ کے نبی حضرت ایوب علیہ السلام جب سخت آزمائشوں میں مبتلا کئے گئے اور مختلف بیماریوں میں گھر گئے تو انہوں نے اللہ سے دعا کی ، اس واقعہ کو قرآن نے یوں بیان کیا ہے:
{وَأَیُّوبَ إِذْ نَادَی رَبَّہُ أَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ فَاسْتَجَبْنَا لَہُ فَکَشَفْنَا مَا بِہِ مِن ضُرٍّ وَآتَیْْنَاہُ أَہْلَہُ وَمِثْلَہُم مَّعَہُمْ رَحْمَۃً مِّنْ عِندِنَا وَذِکْرَی لِلْعَابِدِیْنَ-سورہ انبیائ: ۸۳ – ۸۴ }
یعنی حضرت ایوب علیہ السلام کی اس حالت کو یاد کرو جب کہ انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، تو ہم نے ان کی دعا سن لی اور جو دکھ انہیں تھا اسے دور کردیا، اور ان کو اہل وعیال عطا فرمائے بلکہ ان کے ساتھ ویسے ہی اور، اپنی خاص مہربانی سے، تاکہ سچے بندوں کے لئے سبب نصیحت ہو۔
حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا ایک مسلمان ان الفاظ میں پڑھ سکتا ہے : ’’رَبِّ اِنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ‘‘۔
(میرے پروردگار ! مجھے یہ بیماری / مصیبت لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے )
نبی اکرم ﷺ کا معمول تھا کہ روزانہ سونے سے پہلے سورہ اخلاص ، سورہ فلق اور سورہ ناس پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونکتے ، پھر ان دونوں ہتھیلیوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم مبارک پر پھیرتے ، پہلے انہیں اپنے سر ، منھ اور جسم کے سامنے کے حصے پر لے جاتے ، اس طرح آپ تین بار کرتے ، جب آپ بیمار ہوگئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ سورتیں پڑھ کر آپ کے مبارک ہاتھوں میں پھونکتیں پھر انہیں آپ کے جسم پر پھیرتیں۔ (بخاری ومسلم )
حضرت عثمان بن ابو العاص ثقفی سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے بدن کے ایک درد کی شکایت کی، اللہ کے رسول نے ان سے فرمایا کہ جس جگہ تمہارے جسم میں درد ہے اس جگہ ہاتھ رکھو اور تین بار ’’ بسم اللہ ‘‘ پڑھو اور سات بار ’’ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ وَقُدْرَتِہٖ مِنْ شَرِّ مَا اَجِدُ وَاُحَاذِرُ‘‘ پڑھو ۔ (مسلم )
(ترجمہ : اللہ کی اور اس کی قدرت کی پناہ چاہتا ہوں اس چیز کی خرابی سے جس کی تکلیف میں پاتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں)۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک مریض کو یہ دعا بتائی : ’’اَللّٰھُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‘‘۔
(اے اللہ ! ہم کو دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے، اور ہم کو جہنم کے عذاب سے بچا)
حضرت انس کا بیان ہے کہ اس شخص نے یہی دعا کی، اللہ نے اس کو شفا عطا فرمائی ۔ (مسلم ، احمد )

موت کی تمنا یا دعا سے ممانعت:
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
’’ تم میں سے کوئی شخص موت کی آرزو نہ کرے، کیونکہ یا تو وہ شخص نیکوکار ہوگا تو شاید وہ نیکیوں میں بڑھ جائے ( جو ایک مومن کا مقصود ومطلوب ہے ) یا گناہ گار ہوگا تو شاید وہ توبہ کرے ( اس طرح عمر میں اضافہ اس کے لئے خیر کا باعث ہوگا )۔ (بخاری ومسلم )
مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ’’ تم میں سے کوئی شخص موت کی آرزو نہ کرے اور نہ اس کے آنے سے پہلے اس کی دعا کرے، اس لئے کہ وہ جب مرجائے گا تو اس کے عمل کا سلسلہ ختم ہو جائے گا ، اور مومن کے لئے اس کی عمر میں اضافہ اس کے لئے بھلائی ہی میں اضافہ کا باعث ہے ‘‘۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی مصیبت یا تکلیف کی وجہ سے موت کی آرزو ہر گز نہ کرے، اگر اس کو ایسا کرنا ضروری ہی ہو تو ان الفاظ سے دعا کرے: (اَللّٰھُمَّ اَحْیِِنِیْ مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِیْ، وَتَوَفَّنِیْ اِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِیْ) ترجمہ: اے اللہ ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو اور مجھے اس وقت موت دیدے جب موت میرے لیے بہتر ہو‘‘۔ ( بخاری ومسلم )

اچھا عمل کرنے والے مریض کے لئے خوش خبری:
بندہ صحت وعافیت کی حالت میں بہت سے نیک عمل کرتا رہتا ہے ، لیکن بسا اوقات کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اعمال صالحہ انجام نہیں دے پاتا ، مگر قربان جایئے شریعت مطہرہ پر، اس نے ایسے مریض کو خوش خبری سنائی ہے کہ ان اعمال کا ثواب حالت مرض میں اسے ملتا رہے گا ، چنانچہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے :
’’جب بندہ بیمار ہو جاتا ہے یا سفر میں نکل جاتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لئے اتنا ہی اجر لکھتا ہے جتنا صحت اور مقیم ہونے کی حالت میں عمل کرنے پر اسے ملتا تھا‘‘۔ ( بخاری ، احمد )
ایک دوسری روایت میں یوں آیا ہے :
’’ جب بندہ بیمار ہو جاتا ہے تو اللہ تعالی لکھنے والے فرشتوں سے کہتا ہے کہ میرے بندے کے لئے اسی عمل کا اجر لکھو جو عمل وہ کیا کرتا تھا تا آنکہ میں اس کو وفات دے دوں یا عافیت عطا کردوں ‘‘۔ ( ابن ابی شیبہ – صحیح الجامع الصغیر: ۸۰۰ )

*بیمار آدمی کا وضو اور نماز:*
اللہ رب العالمین نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے : {لا یُکَلِّفُ اللّہُ نَفْساً إِلاَّ وُسْعَہَا-سورہ بقرہ : ۲۸۶} اللہ تعالی کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا، لہذا بیمار آدمی کے وضو کرنے یا غسل کرنے سے اس کی بیماری میں اگر اضافہ کا اندیشہ ہو یا مرض سے شفایابی میں اس کی وجہ سے تاخیر کا خوف ہو تو ایسی حالت میں تیمم کرکے نماز پڑھ لے گا ۔
چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار ہم لوگ سفر میں نکلے ، ہم میں سے ایک آدمی کو اس کے سر میں پتھر سے چوٹ لگ گئی ، پھر انہیں احتلام بھی ہوگیا ، انہوں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا میرے لئے تیمم کی کوئی گنجائش ہے ؟ انہوں نے کہا کہ پانی موجود ہوتے ہوئے تیمم کی گنجائش تو نہیں سمجھ میں آتی ، چنانچہ انہوں نے اسی زخمی حالت میں غسل کیا اور انتقال کرگئے، جب ہم لوگ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو اس واقعہ کے بارے میں بتایا گیا تو آپ نے فرمایا: انہوں نے اس کو مارڈالا ، اللہ تعالی ان کو غارت کرے، اگر انہیں معلوم نہیں تھا تو پوچھنا چاہئے تھا ، کیونکہ ناواقفیت کا علاج پوچھنا ہے، اس کے لئے اتنا کافی تھا کہ تیمم کر لیتا … ‘‘ ۔ (ابوداود – صحیح الجامع : ۴۳۶۲)
بیمار آدمی کو اگر اس کی استطاعت نہیں کہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ سکے تو اسے چاہئے کہ بیٹھ کر پڑھے، اگر بیٹھ کر پڑھنا بھی دشوار ہو تو لیٹ کر پڑھے، نبی اکرم ﷺ نے مرض الموت میں بیٹھ کر نماز ادا کی تھی ۔ ( صفۃ صلاۃ النبی ص۱۳۹)
اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے بواسیر کی بیماری تھی ،میں نے نبی اکرم ﷺ سے نماز کے بارے میں پوچھا ،تو آپ نے فرمایا : ’’کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو ، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو پر لیٹ کر پڑھو ‘‘۔ ( رواہ الجماعۃ الا مسلما )
ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے ایک مریض کی عیادت کی تو اسے تکیہ پر نماز پڑھتے(سجدہ کرتے) دیکھا ، آپ نے وہ تکیہ ہٹا دیا، پھر اس نے ایک لکڑی لے کر اس پر نماز پڑھنا چاہا تو آپ نے اسے بھی ہٹا دیا اور فرمایا : اگر ہو سکے تو زمین پر نماز پڑھو(سجدہ کرو)ورنہ اشارے سے کام لو ، اور سجدہ میں سر کو رکوع سے زیادہ جھکاؤ ۔ (طبرانی، بزار، بیہقی ، السلسلۃ الصحیحۃ (۳۲۳)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر زمین پر سجدہ کرنے میں دشواری ہو تو مریض ایسا نہ کرے گا کہ اپنے سامنے کوئی اونچی چیز رکھ کر اس پر سجدہ کرے، بلکہ بیٹھے بیٹھے کچھ جھک کر سجدہ کی دعائیں پڑھنے پر اکتفا کرے گا۔
کھڑے ہونے کے بجائے بیٹھ کر نماز پڑھنا ہو تو چار زانو ہو کر بیٹھے اور نماز پڑھے، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ سے منقول ہے (نسائی ، ابن خزیمہ ، صفۃ صلاۃ النبی ص :۱۴۱ ) تشہد کے مانند بھی بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے ۔ ( فقہ السنۃ : ۱ / ۱۹۹ )
پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھنے کی یہ شکل ہوگی کہ مصلی اپنا رخ قبلہ کی طرف کرے گا اور اس کا پاؤں اس وقت قبلہ کے بائیں جانب ہوگا ۔
اگر پہلو کے بل لیٹ کر پڑھنا بھی ممکن نہ ہو تو چت لیٹ کر پڑھے اور اپنا پاؤں قبلہ کی طرف کرلے، اگر ایسا کرنا ممکن ہو۔ (فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ۸ / ۷۰) احادیث کے ظاہری الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ اگر لیٹ کر اشارہ سے بھی نماز پڑھنا دشوار ہو تو اس کے بعد آدمی پر کچھ واجب نہیں ۔ ( فقہ السنۃ ۱ / ۱۹۹ )

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں ہے)

متعلقہ خبریں

Leave a Comment