بہار:وزیرتعلیم کے استعفیٰ کے بعدڈپٹی چیف منسٹرپربدعنوانی اورعمرمیں غلط بیانی کاالزام

پٹنہ:آر جے ڈی پوری کوشش کر رہی ہے کہ نتیش کمار اور ان کی کابینہ کے وزرا پراین ڈی اے حکومت کوگھیراجائے۔اورجس کرپشن کابہانہ بناکرنتیش کمارنے مہاگٹھ بندھن سے بھاگنے کابہانہ ڈھونڈھاتھا،اس پرآئینہ دکھایاجائے۔میوہ لال چودھری کے بعد اب نائب وزیراعلیٰ تارکیشور پرساد پر کئی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔آر جے ڈی نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ کیا ہے۔ اس میں نائب وزیراعلیٰ تارکشور پرساد پر عمر گھوٹالے اور بدعنوانی کا الزام لگایا گیا ہے۔ آر جے ڈی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ بہارکے نائب وزیراعلیٰ ٹھیکیداروں کودھمکانے میں بھی ملوث ہیں اوران کے کنبے کے تمام افراد ٹھیکیدارہیں۔پوراکٹیہارجانتا ہے کہ وہ کمیشن کے بغیراس علاقے میں کام نہیں کرتے ہیں۔ اب پورابہاران کے کارناموں سے واقف ہوگا۔اسی طرح آر جے ڈی نے اپنے سرکاری ٹویٹرپربیان جاری کیاہے کہ تارکیشور پرساد کے انتخابی حلف نامے کے مطابق 2005 میں بہار کے نائب وزیراعلیٰ تارکیشور پرسادکی عمر48 سال تھی۔ 5 سال کے بعد وہ صرف 1 سال بڑھے اور49 سال کے ہوئے۔پھر 5 سال کے بعد ، 2015 میں ، ان کی عمر بڑھ کر 52 سال ہوگئی ، اور آخری 5 سال یعنی 2020 تک وہ 12 سال بڑھ کر 64 سال ہوگئی۔نائب وزیراعلیٰ کے بارے میں ٹویٹ نے آر جے ڈی کے انچارج کے ساتھ سیاسی گلیاروں میں بحث کو تیز کردیا ہے۔اعظم خان کے بیٹے عبداللہ پریہی الزام لگاتھاجس کے بعدان کی رکنیت گئی اوروہ جیل گئے۔