بہار میں سیلاب کی آہٹ اور حکومت کی نا اہلی-احمد نہال عابدی

بہار میں سیلاب کی آمد کے آثار نظر آنے لگے ہیں ۔ ہر سال سیلاب سے تباہی بہار کا مقدر بن چکی ہے ۔ خاص کر شمالی اور جنوبی بہار صدیوں سے سیلاب کا گڑھ رہا ہے ۔ بہار کے سیلابی ضلعوں میں ارریہ ، پورنیہ ، کشن گنج، کھگڑیا ، سوپول ، سہرسہ ، سمستی پور ، دربھنگہ ، مدھوبنی اور سیتا مڑھی خاص کر قابل ذکر ہیں ۔ ان تمام سیلابی ضلعوں میں ہر سال سیلاب سے بھیانک تباہیاں ہوتی ہیں ۔ جانی و مالی نقصانات کے علاوہ لاکھوں افراد بے گھر ہو جاتے ہیں اور کھیتی باڑی کے علاوہ فصلیں الگ تباہ ہوتی ہیں ۔ برسات میں ہر سال طوفانی بارش روڈ اور باندھ کو توڑ پھوڑ دیتی ہے جس سے آمدو رفت میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں اور اد کے نتیجے میں سرکاری خزانوں کا ہر سال خاصا نقصان ہوتا ہے جو قابل افسوس ہے ۔ تعجب خیز امر یہ ہے کہ ہر سال سیلابی آفت سے ہونے والے نقصانات کو عوام حسرت اور مایوسی کے ساتھ دیکھتے آرہے ہیں اور حکومت بھی لاچاری اور بے بسی کامظاہرہ کرتی رہی ہے ۔ ایک زمانے سے بہار میں سیلاب کا مسئلہ ہنوز برقرار ہے مگر حکومت اس سے نمٹنے اور سیلاب کی روک تھام میں افسوس ناک حد تک نا کام ثابت ہوئی ہے ۔ حکومت کی خاموشی اور ناکامی اس بات کی دلیل ہے کہ حکومت یا تو اس معاملے میں بے بس ہے یا مسئلۂ سیلاب سے نپٹنے کے لئے حکومت بہار کے پاس ٹھوس اور مناسب منصوبوں کا فقدان ہے ۔ جب بہار کی راجدھانی شہر پٹنہ جو سرکاری نگہداشتوں کا گڑھ ہے وہ بھی سیلاب کی مصیبتوں سے بچ نہ سکا تو دیگر اضلاع کے دیہاتوں کا کیا عالم ہوگا؟ بہار کے بیشتر بڑے شہروں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے اس بات کا اندازہ لگا یا جا سکتا ہے ان شہروں میں پانی کی نکاسی کا معقول انتظام نہیں کے برابر ہے ۔ خاص کر وہ تمام شہر جو ندیوں کے کنارے آباد ہیں وہاں بارش کے ساتھ ساتھ ندی کا پانی شہروں میں داخل ہو جانے سے مزید تباہیاں مچتی ہیں جن میں بہار کا شہر پٹنہ قابل ذکر ہے ۔ دربھنگہ ، مدھوبنی اور سیتا مڑھی جیسے شہروں میں پانی کی نکاسی کا کوئی خاص انتظام نہیں ہونے سے وہاں بھاری برسات کے دوران پانی کا جمنا عام بات ہے ۔ واضح ہو کہ نیپال خطر ناک حد تک ہر سال پانی چھوڑتا آیا ہے جس سے دربھنگہ اور سیتا مڑھی کے دیہی علاقے زیر آب آ جانے کی وجہ سے ندیاں ابل پڑتی ہیں اور پانی کی زیادتی باندھ کے ٹوٹنے اور علاقے میں پھیلنے کا سبب بنتی ہے ۔ یہ عمل ہر سال نیپال دہراتا آرہا ہے مگر بہار کی حکومت آج تک اس مسئلے کا مناسب حل تلاش کرنے میں نا اہل ثابت ہوئی ہے ۔ ابھی جبکہ برسات صرف شروع ہوئی ہے تھوڑی دیر کی بارش سے گاؤں کے کھیتوں میں پانی گویا سمندر کا احساس دلا رہا ہے جبکہ ابھی پوری برسات اور جولائی یا اگست میں سیلاب کا آنا باقی ہے ۔ زمانۂ قدیم سے پانی کی نکاسی کے لئے مقامی طور پر تشکیل دیا ہوا نظام فرسودہ ہونے کی وجہ سے سیلاب کے خطرے مزید بڑھ گئے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیلاب کے خطرے سے بہار کے عوام کو بچانے کے لئے حکومت کو مضبوط اور ٹھوس قدم اٹھائے ۔