بہار این ڈی اے میں خلفشار، اتحادی پارٹیوں میں ’دلت خیر خواہی‘ کو لے کر رسہ کشی!

پٹنہ:بہارمیں برسراقتدار این ڈی اے میں دلت ووٹ بینک کو خوش کرنے کو لے کر داخلی طور پر ہی رسہ کشی شروع ہو گئی ہے۔ این ڈی اے میں شامل پارٹی بی جے پی اور ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) براہ راست طور پر کسی کا نام تو نہیں لے رہے ہیں لیکن اشاروں ہی اشاروں میں ایک دوسرے پر تنقید کرنے سے پرہیز نہیں کر رہے ہیں۔ اس درمیان آج ’ہم‘ نے تو بی جے پی کے کچھ لیڈروں پر سیدھے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کا الزام تک لگا دیا اور این ڈی اے میں کو آرڈنیشن کمیٹی بنانے تک کا مطالبہ کر ڈالا۔’ہم‘ کے ترجمان دانش رضوان نے کہا کہ ’’بی جے پی کے کچھ لیڈر حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ این ڈی اے میں اب کوآرڈنیشن کمیٹی بننی چاہیے، نہیں تو حالات خراب ہو سکتے ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ایسے لیڈر حکومت کے خلاف بیان بازی کر اپوزیشن کو موقع دے رہے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ نتیش حکومت کے بی جے پی کوٹہ کے ایک وزیر جنک رام نے اخباری بیان کے ذریعے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست کے اقلیتی فرقے کے لوگ ریاست کے دلت مہادلت کے بچیوں کو جبراً مذہب تبدیل کرکے ان سے شادی کررہے ہیں جو بہت ہی افسوسناک ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے گوپال گنج اور جموئی کے ایس پی کو خط لکھ کر کاروائی کی ہدایت بھی کی تھی۔ دوسری طرف بھاجپا کے ریاست کے صدر سنجے جیسوال نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر چمپارن میں مسلمانوں کے ذریعہ دلت طبقوں پر مظالم ڈھائے جانے کے بات کہی تھی۔ تو دوسری طرف این ڈی اے کی اہم حلیف ہم نے کہا تھا کہ دلت مسلم اتحاد دیکھ کر کچھ لوگوں کے پیٹ میں درد ہورہا ہے ان کا کہنا تھا کہ نتیش حکومت کو بدنام کرنے کےلیے لوگ اس طرح کی بیان بازی کررہے ہیں۔دوسری طرف آج ریاستی وزیر اقلیتی فلاح و بہبود زماں خان نے اس طرح کے بیانات کو افسوسناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ میں نے اپنی سطح سے پورے معاملے کی تحقیق کرائی ہے کہیں بھی جبراً اس طرح کی شادی خبر نہیں ملی ہے ، ہمارے بھائی بی جے پی کوٹہ کے وزیر کا بیان افسوسناک ہے انہیں اس طرح کے بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے۔مانا جا رہا ہے کہ دونوں پارٹیاں دلت ووٹ بینک کو اپنی طرف کھینچنے میں مصروف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں پارٹیاں ان ووٹروں کے لیے خود کو بڑا خیر خواہ بتانے میں لگے ہوئے ہیں۔ بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر سنجے جیسوال نے دو دن قبل کہا تھا کہ دلتوں کے خلاف اقلیتوں کی طرف سے لگاتار استحصال کے معاملے سامنے آ رہے ہیں اور ایسے میں پولیس کا کردار بھی بے حد افسوسناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ رام گڑھوا کے دھنگڑھوا گائوں میں خبر ملی کہ دلت سماج کے لوگوں کے راستے کو کچھ اقلیتی سماج کے لوگوں نے اینٹ کی دیوار بنا کر بند کر دیا ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ کچھ دنوں میں اس طرح کے واقعات کافی بڑھ گئے ہیں۔دوسری طرف ریاستی وزیر جنک رام نے کہا کہ ’’ریاست کے مختلف اضلاع میں مہادلت طبقہ کی لڑکیوں کو مبینہ طور پر اغوا کر جبراً مذہب تبدیل کر ان کا نکاح کرایا جا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں انھوں نے گوپال گنج اور جموئی کے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹس کو خط لکھ کر قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا ہے۔‘‘اِدھر ’ہم‘ کے سربراہ اور بہار کے سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی نے منگل کو اپنے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’پورنیہ کے واقعہ کے بعد وہاں کے مسلم سماج کے لوگوں نے دلت سماج کے بھائیوں کے حق میں کھڑے رہ کر بتا دیا کہ صوبے کے دلت-مسلم متحد ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہاہے کہ دلت-مسلم اتحاد سے جن لوگوں کے پیٹ میں درد ہو رہا ہے وہی بہار حکومت کے اوپر انگلی اٹھا رہے ہیں۔ بہار میں قانون اپناکام کر رہاہے۔