بہار میں اردو مثنوی-حقانی القاسمی

سرزمین بہارنے اصناف ادب میں اوّلیت نہ سہی مگر افضلیت کا معیار ضرور برقرار رکھا ہے۔ہر ایک صنف میں یہاں کچھ ایسے تخلیق کار رہے ہیں جنہوں نے نہ صرف امتیازی نقوش قائم کیے بلکہ بعض اصناف کونئی جہتوں اور زاویوں سے آشنا بھی کیا بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ یہاں کے فنکاروں نے بَہار کے امکان روشن کیے ہیں کہ دراصل بِہار اور بَہار کا بہت گہرا رشتہ ہے۔ غلام یحی حضور عظیم آبادی کا قابل توجہ ایک شعر ہے:
جو لوگ بولتے ہیں صوبہ بِہار ہے یہ
بکسر بے غلط العام ہے بَہار ہے یہ
بِہار کی وجہ سے گلستان شعر و ادب میں بَہار ہے، اس سے اب کہاں کسی کو انکار ہے— نثری بیانیہ ہو یا شعری، بِہارکے بیانیہ کی قوت کا اعتراف ایک جہان کو ہے۔ مثنوی جیسی مربوط بیانیہ شاعری میں بھی بہار کے ارباب نظم و شعر نے کمال ہنرکا ثبوت دیا ہے اور اس مفید کارآمد، تمام انواع شاعری سے زیادہ وسیع اور ہمہ گیر صنف کو وسعتوں سے ہمکنار بھی کیا ہے۔ یہی وہ بلدہ بہار ہے جہاں سب سے پہلی سیاسی مثنوی شادعظیم آبادی نے ”مادر ہند“ کے عنوان سے لکھی تو علامہ جمیل مظہری نے ”مثنوی آب وسَراب“ کے ذریعہ عشق موج پیچاں سے باہر نکال کر اسے گہری فلسفیانہ فکر سے آشنا کیااور مثنوی کو ایک نیا محور و منہج عطا کیا عبدالمجید شمس عظیم آبادی نے مثنوی ”حیات وکائنات“ کے ذریعہ سائنسی علوم و فنون سے بہرہ ور کیا۔ بہار کی مثنویوں سے ایک نئے لسانی نظام کی تشکیل ہوئی اورعلاقائی الفاظ اور محاورے سے مثنوی کا دامن گہربار ہوا۔ بہارکی مثنویوں سے لسانی تباین (Linguistic variation) کی ایک نئی صورت بھی سامنے آئی اور بہت سے وہ الفاظ جو کسی دوسرے مقام کی مثنویوں میں جگہ نہیں پاسکتے تھے انھیں ان مثنویوں نے معتبر مقام دیا۔ اس طرح اردو مثنوی میں مگہی، میتھلی، کیتھی، برج، بھاکا اوردوسری علاقائی بول چال کے الفاظ بھی شامل ہوئے۔اس ’لسانی امتزاجیت‘ سے مثنوی کا لطف دوآتشہ اورحسن بھی دوبالا ہوا۔لسانی اور موضوعی اسالیب کی سطح پر بہار کی مثنویوں کے امتیازات روشن ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ اردو مثنوی کے حوالے سے اب تک جتنی بھی تحقیق یا تنقید ہوئی ہے ان میں معدودے چند کو چھوڑ کر بہار کی مثنویوں کو نظرانداز کرنے کی روش عام ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ان مثنویوں تک رسائی کی کوئی صورت نہ نکل پائی ہو۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ، گیان چند جین اور مثنوی کے دیگر محققین نے بھی بہار کی چند ہی مثنویوں کا ذکر کیا ہے۔ خود بہار کے اہل علم و دانش نے بھی مثنوی پر تحقیق کی اور کچھ کتابیں لکھیں مگر وہ بھی مثنوی کے موضوعات میں محدود ہو کر رہ گئے۔ مثنویات کے لسانیاتی تجزیے کی اس طرح کوشش نہیں کی گئی جس سے اس کے لسانی خصائص سامنے آسکیں اور یہ واضح ہوسکے کہ اسلوبیاتی سطح پر ان مثنویوں کا کردار کیا رہا ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ بہار کی بہت سی مثنویاں مخطوطے یا قلمی نسخے کی شکل میں لائبریریوں، خانقاہوں یا دیگر افراد کے پاس محفوظ ہیں جن کی تحقیق اور تدوین کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ شخصی یا انفرادی طور پر کچھ لوگوں نے اس کا بیڑہ ضرور اٹھایا مگر ادارہ جاتی یا جامعاتی سطح پر سرد مہری چھائی رہی۔ یہاں افسوسناک بات یہ ہے کہ جامعات میں ایک ہی شخصیت پر یا ایک ہی موضوع پر درجنوں تحقیقی مقالے تو لکھے جاتے ہیں مگر ایسے مخطوطات کو تحقیق کا موضوع نہیں بنایاجاتا جن میں علوم وفنون کا خزینہ محفوظ ہے۔ ایسی صورت حال میں بہار میں اردو مثنوی جیسے موضوع پر لکھنے کا جواز بنتا ہے کہ اس تعلق سے جو بھی کام کیے گئے ہیں ہنوز تشنہ تکمیل ہیں۔ اب ان گمشدہ نادر و نایاب مثنویوں کی جستجو ہی نہیں بلکہ ان مثنویوں کی تعیین قدر بھی ضروری ہے جو ناقدر شناسی کی وجہ سے مرحوم ہوتی جا رہی ہیں۔ ناقدری زمانہ کی شکایت تو میر و غالب کو بھی تھی۔ مگر پس مرگ ان کی شکایتیں رفع کر دی گئیں۔ لیکن بہار کی ناقدری نے توکتنوں کو جیتے جی مرحوم کر دیا۔ ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ بہار میں پیدا ہوئے۔ اس کنعان میں کتنے یوسف ہیں جن کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ مصر کا بازار نہ ہو تو یوسف کی طرح ان کو بھی کوئی خریدار نہ ملے۔ شاد عظیم آبادی کا یہ شکوہ بجا ہے کہ:
میں وہ موتی ترے دامن میں ہوں اے خاک بہار
آج تک دے نہ سکا ایک بھی قیمت میری
لگا سکے میری قیمت نہ جوہری اے شاد
وہ کم نگاہ تھے اور لعل بے بہا ہم تھے
میں نخل کمال تھا وطن میں
سرسبز ہوا نہ اس چمن میں
یہ صرف شاد کا شکوہ نہیں ہے یہ ہر اس شخص کی شکایت ہے جو ناقدری زمانہ کا شکار ہے۔
بہار میں مثنوی لکھنے والوں کو اور بھی محرومی اور ناقدری جھیلنی پڑی کہ ان کی مثنویوں کو فرسودہ، پامال، چربہ اور نقل قرار دیا گیا صفیر بلگرامی کی مثنوی فتنہئ عشق بقول گیان چند جین بہار عشق اور فریب عشق کی نقل ہے تو راسخ کی مثنویاں میر تقی میر کا چربہ۔ کبھی موضوع کو بلند کہا گیا تو بیان کو پست۔ شاد عظیم آبادی کی مثنوی ’چشمہئ کوثر‘ کے بارے میں یہ رائے دی گئی کہ موضوع تو بلند ہے مگر بیان پست ہے۔ عشقیہ مثنویوں کی بابت یہ رائے دی گئی کہ ان میں مہ جبینوں، نازنینوں، قمر طلعتوں کے ذکر کے سوا کیا ہے۔ یہ سب مثنویاں غنچہ لب، گل بدن، سروقد، رشک گل، رشک قمر، ماہ طلعت، رشک ماہ، گل چہرہ کے ارد گردہی گھومتی ہیں اور ان میں آغاز وانجام میں اتنی یکسانیت ہے کہ جنون عشق سے زیادہ وحشت میں مبتلا کردیتی ہے۔ کہیں شوق لکھنوی کے زہر عشق کا رنگ ہے تو کہیں میر تقی میر کا سا انداز۔ عاشق کا وہی اضطراب والتہاب، معشوق کی وہی بے کلی، برہ کی وہی آگ اور آخر میں عاشق و معشوق کا ملن۔ موضوعی سطح پر یہ یکسانیت عشقیہ مثنویوں کی یقینا بڑی کمزوری ہے۔مگر مختلف لسانی اظہار کی وجہ سے ان مثنویوں کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ مثنویوں کا مطالعہ صرف موضوعی نقطہ نظر سے نہیں بلکہ لسانیات کے تناظر میں بھی کیا جانا چاہیے کہ خیال کی یکسانیت، اظہار کے تنوع کی راہ میں حائل نہیں ہوتی اور پھر عشق تو وہ کیفیت ہے جس سے اظہار ہی نہیں اسرار کے بند دروازے بھی کھل جاتے ہیں۔ اسی عشق سے تو افلاک میں گردش ہے اسی کی وجہ سے تا قیامت کھلا ہے باب سخن۔ بہار ہی کے ایک مثنوی نگار شاہ رکن الدین عشق کے یہ شعر ہیں:
زمیں عشق ہے زماں عشق ہے
مکیں عشق ہے اور مکاں عشق ہے
نہاں عشق ہے اور عیاں عشق ہے
زباں عشق ہے، داستاں عشق ہے
وفا عشق ہے اور جفا عشق ہے
بلا عشق ہے، مبتلا عشق ہے
اور یوں بھی عشق مرفہ الحال معاشرہ کے مزاج کا حصہ رہا ہے۔ ایک زمانہ تک معاشرے کے ذہن پر عشق کا ہی زور تھا۔ یوں نہ ہوتا تو نواب مرزا شوق لکھنوی کی مثنوی زہر عشق، نور نامہ کے بعد سب سے زیادہ نہ پڑھی گئی ہوتی اور نہ ہی اس مثنوی کو پڑھ کر لوگ خود کشی پر اس قدر مجبور ہوتے کہ اس کی اشاعت کا امتناعی حکم جاری کرنا پڑتا۔ ایسی اثر پذیری شاید ہی کسی اور مثنوی کو ملی ہے۔ ایسی عشقیہ مثنویوں کی مقبولیت نے ہی بہار کے مثنوی نگاروں کو بھی مہمیز کیا ہوگا۔ اور پھر بہار میں مثنوی کی موضوعی کائنات عشق تک ہی تو محدود نہیں ہے۔ اس میں تصوف و معرفت کے مسائل بھی ہیں، حیات و کائنات کے رموز و اسرار بھی۔ زوال تہذیب کا نوحہ بھی ہے، انسان کے داخلی کرب کا اظہار بھی، معاشرتی المیوں اور اقتصادی محرومیوں، سیاسی مجبوریوں کا بیان بھی ہے۔ بہار میں مثنوی کا نقطہ آغاز ہی قاضی عبدالغفار غفا کی مثنوی ’جواہر الاسرار‘ہے جو تصوف پر مبنی ہے۔ان کے بعد کے مثنوی نگاروں میں اشرف علی خاں فغاں، شاہ رکن الدین عشق، غلام یحییٰ حضور،شاہ کمال علی کمال مانپوری،شاہ سعد اللہ عشق شاہ، محمد جعفر خاں راغب، شیخ محمد روشن جوشش، لالہ جگر ناتھ سنگھ، نصیر الدین نصیر، مرزا محمد علی فدوی، غلام علی راسخ، مہاراجہ کلیان سنگھ عاشق، الفت حسین فریاد، بی بی راضیہ خاتون جمیلہ، حضرت شاہ امیرالدین، عنایت، صفیر بلگرامی، شاد عظیم آبادی، شاہ عطا کریم عطا، شہزادہ زبیر الدین زبیر، نواب سید تجمل حسین خاں سلطان عظیم آبادی، حاجی بشارت حسین احقر، شوق نیموی، جمیل مظہری،سریر کابری وغیرہ کے نام ملتے ہیں۔یہ وہ نام ہیں جو بہار میں اردو مثنوی کا ارتقاء کے مصنف ڈاکٹر احمد حسن دانش نے تحریر کئے ہیں۔ نہ جانے اور کتنے نام ہوں گے جو گوشہ گمنامی میں ہیں۔ ان میں سے بیشتر مثنوی نگاروں کی مثنویوں کا ذکر تذکروں میں تو ملتا ہے مگر ان کی مثنویاں نہیں ملتیں اور اگر ملتی بھی ہیں تو ابھی تک تشنہئ تحقیق ہیں۔
بہار میں جن مثنوی نگاروں پر مربوط یا مبسوط گفتگو ہوئی ہے، ان میں شاہ آیت اللہ جوہری، غلام علی راسخ، شاد عظیم آبادی،شوق نیموی،صفیر بلگرامی، جمیل مظہری، شمس عظیم آبادی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
آیت اللہ جوہری کی ”گوہر جوہری“ ایک اہم مثنوی ہے۔ اس مثنوی میں ہندوستانی تہذیب ومعاشرت کی عکاسی کے علاوہ خوبصورت منظر نگاری و جذبات نگاری بھی ہے اور سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس مثنوی میں بہار میں بولے جانے والے بہت سے الفاظ ملتے ہیں۔ گیان چند جین نے بھی اسے ایک قابل قدر مثنوی قرار دیا ہے۔ یہ بہت اہم مثنوی ہے جس پر حسن عسکری نے رسالہ اردو میں ایک مبسوط مضمون بھی شائع کروایا تھا۔ انھیں اس مثنوی کا مخطوطہ ایک ہندو گھرانے سے ملا تھا۔افضل جھنجھانوی کی ”بکٹ کہانی“ کے طرز پر لکھی گئی اس مثنوی میں اکبر آبادکے راجہ رام اور کنول دئی کے عشق کی داستان ہے۔ یہ دونوں عاشق ومعشوق شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں۔ وصال کی منزلیں طے ہوتی ہیں اور پھر فراق کا مرحلہ آجاتا ہے۔ راجہ کسی کام سے باہر جاتا ہے اور ہجر کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوجاتا ہے۔ اور یہی سلسلہ ئ ہجر بارہ ماسہ کے ذریعہ کنول دئی کے اظہار جذبات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔کنول دئی مختلف موسموں میں اپنی تڑپ اور بے چینی کا اظہار کرتی ہے:
پیا بن میں بھری برسات روؤں
نہ ہے بر ساتھ کیوں کر سات سوؤں
کنول دئی راجہ رام کے ہجر میں نحیف ولاغر ہوتی جاتی ہے۔ علاج سے بھی افاقہ نہیں ہوتا بالآخرموت کے آغوش میں چلی جاتی ہے مگر مرنے سے پہلے اپنے عاشق کو یاد کرتے ہوئے سلامتی کی دعا بھی دیتی ہے:
کوئی ساعت آوے گی قیامت
میں جاتی ہوں سدا تو سلامت
یہ ہے حقیقی جذبہ عشق و وفا،کنول دئی جب راکھ کے ڈھیرمیں تبدیل ہوتی ہے توکچھ دنوں بعد راجہ رام کو پتا چلتا ہے کہ راکھ سے ایک شعلہ سالپکتا ہے اور وہ راجہ رام، راجہ رام پکارتا ہے۔راجہ رام راکھ کے پاس جاتا ہے اور شعلے سے ہم آغوش ہوکر وہ بھی فنا ہوجاتا ہے۔ اس مثنوی میں عشق کے جذبہ صادق اور فنائیت کی بہت عمدہ تصویر ہے کہ عشق دو جسموں کا وصال نہیں بلکہ دو روحوں کے ملن کا نام ہے۔
بہار کے دوسرے اہم مثنوی نگاروں میں میر تقی میر کے شاگرد غلام علی راسخ ہیں۔ راسخ نے ’کشش عشق‘، ’اعجاز عشق‘ کے عنوان سے عشقیہ مثنویاں لکھی ہیں۔ ڈاکٹر ممتاز احمد نے انھیں مرتب کرکے ایک قابل تحسین کام کیا ہے۔گیان چند جین نے تو ان کی عشقیہ مثنویوں کومیر کا چربہ قرار دیا ہے مگر راسخ کی ایک اہم مثنوی”انقلاب زمانہ شکایت فلک مجملاً احوال مقیمان بلدہئ عظیم آباد“ ہے۔راسخ کی یہ مثنوی اس لحاظ سے بہت اہمیت کی حامل ہے کہ اس سے عظیم آباد کے عروج اور زوال کی تصویریں سامنے آتی ہیں۔ یہ عظیم آباد کی تاریخ وتہذیب کے حوالے سے ایک دستاویز ہے اور اس مثنوی میں راسخ کا رنگ میر تقی میر سے بالکل جداگانہ ہے۔ یہ نہ تو میر کی نقل ہے اور نہ ان کا چربہ، یہ ان کے ذاتی مشاہدات اور داخلی تجربات پر مبنی ایک مثنوی ہے جس سے بلدہ عظیم آباد کی مکمل تصویر سامنے آجاتی ہے اور یہ احساس ہوتا ہے کہ جب قدریں بدلتی ہیں تو شہروں کے تہذیبی اطوار و اقدار بھی تبدیل ہوجاتے ہیں اور شہروں کی اس تبدیلی کا اثر وہاں کے مکینوں کی سائکی اور نفسیات پر بھی پڑتا ہے۔ اس مثنوی کو آج کے تناظر میں پڑھا جائے تو معنویت کی کچھ اور تہیں روشن ہو سکتی ہیں۔ راسخ نے عظیم آبادکے مشائخ،معلم، شعرا، وکلاء، زراعت پیشہ، تجار،اطبا، غرض کہ ہر شعبہ حیات سے وابستہ افرادکی حالت زارکا نقشہ کھینچا ہے۔راسخ نے کلکتہ، بنارس اور لکھنؤ جیسے شہروں کا بھی وصف بیان کیا ہے مگر عظیم آباد کے تعلق سے ان کا تاثر ہی الگ ہے۔ ان کے نزدیک عظیم آبادجیسے شہر بہت کم ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے:
نظر مجھ کو پڑے ہیں جا بجا شہر
نہ دیکھا پر عظیم آباد سا شہر
مگر اسی عظیم آباد کے بارے میں وہ اپنی مثنوی میں کہتے ہیں:
جہاں اک عجب باغ تھا دل کشا
ہر اک گل تھی اس کے بوئے وفا
یہ گلزار اب ہوگیا خارزار
خزاں ہوگئی ہائے اس کی بہار
وہ آرائش اس کی ہوا ہوگئی
وہ خوبی خدا جانے کیا ہوگئی
اب اس باغ کا کچھ عجب رنگ ہے
قفس سے بھی تاریک ہے تنگ ہے
عنادل کے نغموں کی آگے تھی دھوم
اب اس میں ہے زاغ وزغن کا ہجوم
عجب طرح کی چلی ہے ہوا
نہیں ہے کسو کا کوئی آشنا
حسد، بغض، کینہ ہے یا نفاق
کہ وہ دوستی ہے نہ وہ اتفاق
کدھر عیش وعشرت کہاں سیر باغ
کسے یہ دماغ اور کس کو فراغ
ہوئے بادشاہ اور وزیر اب فقیر
نہیں ملتی بھیک ان کو تھے جو امیر
راسخ نے مختلف زمرے کے افراد کی بے بسی اور بے کسی کی کہانی بھی لکھی ہے۔ زمرہئ مشائخ کے تعلق سے لکھتے ہیں:
گئے سارے درودووظائف کو بھول
کیا ایسا فکر شکم نے ملول
تاجروں کے تعلق سے لکھا ہے:
تجارت کا مایا کسو میں کہاں
کہ باقی نہیں کچھ بجز نقد جاں
پٹنہ شہر کی تعریف کرتے ہوئے اس شہر کے بدلتے طور وطرز کے حوالے سے راسخ گویاہیں:
یہ پٹنہ عجب دل کشا شہر تھا
طلسمات تھا واہ کیا شہر تھا
تھے صدق وصفا پیشہ اس کے مقیم
طریق وفا پر بہت مستقیم
اب اس شہر کا طور ہی اور ہے
مقیموں کا اس کے برا طور ہے

کوئی ان میں غماز ونمام ہے
کسو کا سخن چینی ہی کام ہے
کسو سے کوئی برسر جنگ ہے
عجب طور ہے، عجب ڈھنگ ہے
عظیم آباد یہاں ایک علامت بھی ہے کہ اکثر شہروں میں اقتداری نظام کی تبدیلی سے قدریں بھی تبدیل ہوجاتی ہیں۔ اور ان قدری ترجیحات کی تبدیلی کا اثر وہاں کے مکینوں کے آداب واطوار اور اخلاقیات پر بھی پڑتا ہے۔ راسخ نے عظیم آباد کو ایک علامت بنا کر شہروں کی تبدیل ہوتی سائیکی، ثقافت اور طرز معاشرت پر گہرا طنز کیا ہے۔ یہ تصویر ہر اس شہر کی ہو سکتی ہے جہاں مادیت اور صارفیت کا غلبہ ہے اور جہاں تکاثر کا جذبہ انسانوں سے اس کی ساری اخلاقی قدروں کو سلب کرلیتا ہے۔ لکھنؤ میں لکھی گئی مثنویوں میں بھی لکھنؤ کے تہذیبی زوال کی تصویر کشی کی گئی ہے، راسخ نے اسی طرح کی تصویر عظیم آباد کے حوالے سے کھینچی ہے۔
فخرالادباء ملک الشعراء خاں بہادر سید علی محمد شاد عظیم آبادی بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔ مگر انھوں نے مثنویاں بھی لکھی ہیں جن میں ”نالہئ شاد، فغان درویش، چشمہئ کوثر“ قابل ذکر ہیں۔ان مثنویوں میں چشمہئ کوثر کواس اعتبار سے اہمیت حاصل ہے کہ یہ ایک طویل مثنوی ہے جس میں قوم وملت کو خواب غفلت سے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس کا اسلوب بہت عمدہ ہے مگر بقول گیان چند جین: ”موضوع میں بلندی نہیں ہے۔“ان کی دوسری اہم مثنوی مادر ہند ہے جسے اردو کی پہلی سیاسی مثنوی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اس مثنوی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ہندوستان کی سیاسی تاریخ شاعرانہ لطف ولطافت کے ساتھ بیان کی گئی ہے اور انداز سخن میں بھی انوکھا پن ہے۔ ملکہئ وکٹوریہ کی پہلی جوبلی پر لکھی گئی اس مثنوی میں ہندوستان کے بدلتے سیاسی سماجی منظرنامے کی بہت عمدہ عکاسی کی گئی ہے۔اس سے جہاں شاد عظیم آبادی کی حب الوطنی اور تصور اتحاد واخوت پر روشنی پڑتی ہے وہیں ان کے سیاسی شعور کی پختگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ انھوں نے اس مثنوی میں ہندوستان کی عظمت، شان وشوکت، جاہ وجلال اور پھر نفاق کے نتیجے میں اس کے زوال کی فن کارانہ تصویر کشی کی ہے۔ اس مثنوی کے دو کردار ہیں رام اور رحیم اور انھیں دونوں کرداروں کے ذریعے ہندوستان کی سیاسی تاریخ، اس کے مدوجزر، نشیب وفراز اور کمال وزوال کی داستان بیان کی گئی ہے۔آج کے تناظر میں اس مثنوی کی اہمیت یوں بڑھ جاتی ہے کہ شاد عظیم آبادی نے جن اسباب زوال کی طرف اس مثنوی میں اشارے کیے ہیں آج پھر زوال کی وہی صورت ہے۔ شاد عظیم آبادی کی یہ مثنوی اپنے ملک اور مٹی کو ایک بہترین خراج عقیدت ہے۔اس کی سطر سطر میں ہندوستانیت کی خوشبو رچی بسی ہے۔مثنوی میں ہندوستان کی عظمت کا ایسا نقشہ کھینچا ایک سچا، محب وطن ہی کھینچ سکتا ہے جسے ہندوستان کے ذرے ذرے سے محبت ہو۔والہانہ شیفتگی اور وارفتگی کے بغیر اس طرح کے خیالات ذہن میں جنم ہی نہیں لے سکتے۔سچی محبت ہی اس طرح کے تصورات اور خیالات کو جنم دے سکتی ہے:
اک ملک جو ایشیا کی ہے جاں
فردوس بریں ہو جس پہ قرباں
عظمت میں ہے کنشت سے فزوں تر
خوبی میں بہشت سے فزوں تر
بت خانہئ چین وہاں کے بازار
ہر ایک دکان دکان عطار
دیکھے اگر اس زمیں کی گرد
آتش کدہ عجم بھی ہو سرد
ہر گوشہ زمیں کا رشک گلشن
جس نخل کو دیکھیے وہ چندن
باغوں میں پرند ہر طرح کے
جنگل میں چرند ہر طرح کے
شاد عظیم آبادی نے جناب عالیہ متعالیہ،عصمت مآب مادر ہند کے دو پسر کا ذکر کیا ہے اور یہ دونوں پسر رام اور رحیم تھے۔ مادر ہند کے یہ دو پسر اس طرح ایک دوسرے سے گھلے ملے تھے کہ:
کہتا تھا یہ دیکھ کے زمانہ
دونوں سے ہے گھر نگار خانہ
تھا رام و رحیم میں زبس حب
معدوم تھا مذہبی تعصب
برتاؤ تھا یہ برادرانہ
ہر کام تھا ان کا مخلصانہ
از بس کہ دلوں میں تھی صفائی
دستار بدل تھے دونوں بھائی
مثنوی نگار نے رام رحیم کے اتحاد میں جہاں ہندوستان کی خوش حالی اور عظمت وجلال کا حال بیان کیا ہے وہیں دونوں میں دراڑ پڑ جانے کی وجہ سے ہندوستان کی غربت ونکبت کا نقشہ بھی کھینچا ہے۔ اس نفاق کی وجہ سے مادر وطن کا کلیجہ چھلنی ہوجاتا ہے۔ ماں دونوں فرزند کو سمجھاتی ہے،وہ تصویر الم بن جاتی ہے مگر دونوں چھوٹے بڑے فرزندوں کی وجہ سے ملک کے حالات بگڑتے جاتے ہیں پھر بھی ماں بار بار سمجھاتی ہے کہ:
آپس میں نہ اب ملال رکھو
مجھ ماں کا تو کچھ خیال رکھو
مگر دونوں ہی فرزندایک بھی بات نہیں مانتے اور بالآخر ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت قائم ہوجاتی ہے اور انگریز اس ملک کو اپنی حکمت عملی سے بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ چھاپہ خانہ، ریل، برقی نظام اور تعلیمی اداروں کے ذریعہ اس ملک کی تقدیر اور تصویر بدل دیتے ہیں۔ مادر ہنداس عنایت خاص کے لیے ممنون ہوتی ہے اور دربار میں التجا کرتی ہے کہ اس کا وجود سلامت رہے۔ ماں کہتی ہے:
پاتے تھے نہ سو بھی جس زمیں سے
ملتی ہے اب کروڑ وہیں سے
اگتی تھی جس زمیں میں نہ کاہ
رتبے میں ہوگئی وہ فلک جاہ
مشغول ہے بس کہ معدلت میں
رونق تھی عجیب سلطنت میں
اس مثنوی میں انھوں نے برطانیہ کے فیوض وبرکات کا ذکر کیا ہے اور آزادی کا مژدہ بھی سنایا ہے اور ملکہ معظمہ کی تعریف وتوصیف بھی کی ہے، ان کے اس سیاسی نظریہ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر شاد عظیم آبادی نے مادر ہند کے زوال کے تعلق سے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ یقینی طور پر آج بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ رشید احمد صدیقی نے بھی اس مثنوی کی تعریف کی ہے اور لکھا ہے کہ برطانیہ سے اظہار عقیدت جذبہئ حب الوطنی کی راہ میں مزاحم نہیں ہے۔ یقینی طور پر یہ مثنوی انھیں تصورات کی عکاسی کرتی ہے جو آج بھی بہت سے ذہنوں میں ہیں کہ دراصل ہندو مسلم تنازع کی ہی وجہ سے ہی ملک ان حالات سے دو چار ہوا اور اس کی عظمت رفتہ کھو سی گئی۔ اس مثنوی کو آج کے پولیٹیکل ڈسکورس کا حصہ بنا کر اس کا مکمل مطالعہ کیا جائے تو ہندوستان کی سیاسی تاریخ کے بہت سے زاویے روشن ہوسکتے ہیں۔ مثنوی مادر ہند ہمارے آج کے حالات کے لیے بھی ایک آئینہ ہے۔ اس آئینے میں ہم اپنے ماضی اور حال ہی نہیں بلکہ مستقبل کا بھی چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ ارباب سیاست کے لیے اس مثنوی میں پیغام چھپا ہوا ہے۔ اگر ارباب سیاست شاد عظیم آبادی کے اس سیاسی رمز کو سمجھ جائیں تو پھر سے ہندوستان سونے کی چڑیا بن سکتا ہے۔لسانی نقطہ نظر سے بھی اس مثنوی کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا کہ اس میں ہندی کے بہت سے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اردو اور ہندی زبانوں کی لفظیات کے امتزاج سے اس مثنوی کی تشکیل ہوئی ہے جو نہ صرف فرقہ وارانہ تنازعہ کو ختم کرنے بلکہ غیر ضروری لسانی تنازعہ کو ختم کرنے پر بھی زور دیتی ہے۔اتحاد ویکجہتی کے نقطہ نظر سے یہ مثنوی بہت اہم ہے۔ اس مثنوی کی اشاعت ہندی زبان میں ہوجائے تو ہندوستانی معاشرہ پر اس کے مفید نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔
علامہ شوق نیموی بھی بہار کے ایک اہم مثنوی نگار ہیں۔جنہوں نے یقینی طور پر زمین شعر کو رشک آسماں کیا ہے۔ وہ ایک فقیہ اور محدث تھے۔ آثار السنن جیسی کتاب کے مصنف مگر اس حسن تضاد کا جواب نہیں کہ انھوں نے سوز و گداز کے عنوان سے عشقیہ مثنوی لکھی اور عشق کے وہ سارے رموز ونکات بھی بیان کردیے جو عام طور پر محدثین جیسے محتاط وضع والوں کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ انھوں نے اس مثنوی میں عشق کی جو داستان لکھی ہے وہ یقینی طور پر پراثرہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا داغ دہلوی جیسے فصیح الملک نے بھی اس مثنوی کی تعریف کی اور یہ لکھا کہ:
مثنوی جس کا نام سوز وگداز
اس سے بہتر نہیں فسانہئ شوق
حضرت شوق کی ہے یہ تصنیف
باعث رونق زمانہئ شوق
تو بھی داغ لکھ مصرع تاریخ
سنو دل سے ہے یہ ترانہئ شوق
علامہ شوق نیموی نے اس میں حسن اورشام سندر جیسے دو کرداروں کے ذریعہ سچی داستان عشق تحریر کی ہے۔ حسن ایک مسلم کردار ہے اور شام سندر غیر مسلم کردار۔ انھوں نے دونوں کرداروں کے وصال سے خوب صورت پیغام دینے کی بھی کوشش کی ہے۔ انھوں نے عاشق آشفتہ جاں اور معشوق سیم تن کی تڑپ وبے قراری کو بہت ہی خوبصورت اور فن کارانہ انداز میں پیش کیا ہے اس میں ایک مسلمان عاشق اپنے معشوق کے لیے برہمن کا روپ بھی دھارتا ہے۔ وہ مذہب کی ساری دیواروں کو توڑ کراپنی محبت کوحاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ حسن شام سندر پرجاں نثار ہے۔ دونوں کے درمیان قربتیں پیدا ہوتی ہیں مگر شام سندر کی شادی کسی اور سے ہوجاتی ہے کسی طرح حسن اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ دونوں کی شادی ہوجاتی ہے مگر اچانک حسن کی کشتی الٹنے کی خبر سے شام سندر غش کھاکر گرتی ہے اور مر جاتی ہے۔ حسن جب گھر واپس آتا ہے تو اسے شام سندر کی موت کی خبر ملتی ہے وہ اس کی قبر پر جاکر لیٹ جاتا ہے اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ روز رات میں ہودج نور جمع ہوتا ہے جس سے حسن حسن کی صدا اٹھتی ہے وہ ایک رات جاتا ہے اور وہ آواز سنتا ہے۔ اور پھر ہودج نور کے ساتھ وہ بھی غرق ہوجاتا ہے اور اس طرح دونوں کا روحانی وصال ہوتا ہے۔یہ عشق کا ایک روایتی تصور ہے مگر اس میں نہایت ہی پاکیزہ پیغام ہے کہ محبت کسی مذہب سے مشروط نہیں ہوتی اور سچی محبت تمام مذہبی موانع کو توڑ کر ایک وحدت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ مثنوی سوز وگداز میں آغاز حمدومناجات سے ہوتا ہے۔وہی مثنوی کا روایتی طریقہ لیکن شوق نیموی نے جس طرح کی منظر نگاری، محاکات آفرینی کی ہے وہ قابل رشک ہے۔ زبان میں بھی فصاحت ہے اور بیان میں بھی بلاغت اور رعنائی خیال الگ۔ مثنوی کے کچھ ٹکڑوں سے شوق نیموی کی قدرت کلامی اور بلاغت بیانی کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ اس میں مقامی رنگ بھی ہے اور محاورے بھی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ شوق نیموی نے اس مثنوی کے ذریعہ یہ ثابت کردیا ہے کہ ان کو ہندو مذہب کی تعلیمات ورسومات سے بھی آگہی تھی۔ انھوں نے اس میں ویاس،تلسی اور والمیکی کا بھی ذکر کیا ہے۔شوق نیموی کی سراپا نگاری کا یہ انداز دیکھیے:
نظر آیا یکایک شور محشر
پڑی آنکھ اک بت کافر ادا پر
پری وش ماہ سیما مہر طلعت
بلاقامت قیامت قہر آفت

شرارت مست آنکھوں میں بھری تھی
سبو میں مے کہ شیشے میں پری تھی
مثنوی کے مطابق شام سندر کو احساس ہے کہ ان کے درمیان مذہبی دیوار حائل ہے:
تڑپتی ہوں میں دن رات اپنے گھر میں
غضب کی ہوک اٹھتی ہے جگر میں
مگر یہ کیا ترے دل میں سمائی
کہ مجھ سے ہے خیال آشنائی
کبھی یکجا ہوئے ہیں کفرو اسلام
ملی ہے صبح روشن سے کہیں شام
مگر اس صبح روشن سے شام کاملن ہوتا ہے اور حسن کی محبت میں شام سندر چھت سے گر جاتی ہے۔ شام سندر تمام تر محبتوں کے باوجود یہ سوچتی ہے:
حسن کا بھی عبث ہے مجھ کو ارماں
کہ میں ہندو کی لڑکی وہ مسلماں
بہم ہے اختلاف دین ومذہب
ملے کس طرح دن سے تیرہ گوں شب
شوق نیموی نے ان دونوں مختلف مذہبی وجود کی پاک محبت کا ذکر کیا ہے کہ جب وہ شام سندر کو اپنے گھر لے کر آتا ہے تو کہتا ہے کہ:
میرے دل کو ہے تجھ سے الفت پاک
ہوس کچھ اور اگر ہو تو جل کے ہوں خاک
تیرے گھر لے چلوں تجھ کو یہاں سے
ملا دوں تجھ کو تیرے باپ ماں سے
جبھی ہے عشق صادق کی مرے جانچ
نہ تری آبرو پر آئے کچھ آنچ
یہ سن کر شام سندر نے بھری آہ
قدم پر گر پڑی وہ غیرت ماہ
کہا بیشک تمہیں ہے پاک الفت
اسی نے تو بنائی یہ مری گت
کیا مجھ کو برنگ برق بے تاب
بنایا دل میرا مانند سیماب
جو کھینچا جذبہئ وحشت نے مجھ کو
گرایا چھت سے اس الفت نے مجھ کو
ہوا جب نشہ الفت دوبالا
گلے کا دے دیا انمول مالا
مہینوں میں رہی حاضر کتھا میں
رہی سرگرم دیدار اس سبھا میں
دکھایا آسمان نے پھر یہ نیرنگ
یکایک بیاہ شادی کا بندھا رنگ
کہوں میں کیا جو دل پرچوٹ کھائی
جو بیٹھی مانجھے میں کیا کوفت کھائی
سمائی تھی مرے دل میں یہی بات
کہ کھا جاؤں گی میں کچھ تخت کی رات
محبت میں نہ کھوتی شان اپنی
میں دے دیتی مکرر جان اپنی
یہ دیکھو گوشہئ چادر میں کیا ہے
ابھی تک پاس میرے سنکھیا ہے
پاکیزہ عشق کی یہ داستان اور آگے بڑھتی ہے اور پھر طربیے کا المیہ انجام ہوتا ہے کہ حسن جذبہ الفت سے مجبور ہوکر ہودج نور میں غرق ہوجاتا ہے اور دونوں پھر ایک جان ہوجاتے ہیں۔یہ عشق کی المیہ داستان ہے اور اس میں ایک پاکیزہ محبت کا خوبصورت کلائمکس ہے کہ دو الگ الگ دین دھرم سے تعلق رکھنے والے عشق میں ایک دوسرے کے لیے اپنی جان تک قربان کردیتے ہیں۔ وفا کے باب میں دونوں کردار مثالیہ ہیں۔ یہی عشق کی اصل روح ہے کہ یہ عشق روح کو جنوں سے ملا ہے۔یہ مثنوی لو جہاد سے پہلے لکھی گئی تھی آج یہ مثنوی لکھی جاتی اور ایک مسلم عاشق اور ہندو معشوق کی داستان تحریر کی جاتی تو شاید فرقہ پرست طاقتیں آگ بگولہ ہوجاتیں مگر یہ مثنوی اس زمانے کی ہے جب ہندومسلم مشترکہ تہذیب کی روایت زندہ تھی اور اس طرح کے عشقیہ جذبات عام تھے۔ علامہ شوق نیموی نے اس مثنوی کے ذریعہ یہ پیغام دیا ہے کہ ہندوستان کی اصل روح یہی جذبہ عشق ہے۔ شوق نیموی نے اس مثنوی میں جس وصل یا امتزاج کی بات کی ہے وہ ایک مسلم عاشق اور ہندو معشو ق کا نہیں بلکہ دو مذہبوں کا روحانی ملن بھی ہے۔ یہ دو مذاہب کی تہذیبی وحدت کا اشاریہ بھی ہے کہ ہندوستان کا تہذیبی جلال و جمال اس وحدت میں مضمر ہے۔
علامہ جمیل مظہری بھی بہار کے ایک اہم مثنوی نگارہیں۔ ان کی مثنوی”آب وسراب“کو اس لحاظ سے امتیاز حاصل ہے کہ یہ بقول ہلال نقوی ”اردو مثنوی کے ارتقائی مدارج کا ایک بہت اہم موڑ ہے۔“یہ مثنوی دراصل جس فکر وفلسفے پر مبنی ہے اردو مثنویوں میں اس فکر وفلسفے کو کبھی معروضی ومنطقی انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ سچ کہا جائے تو ہلال نقوی کی یہ بات بجا ہے کہ ”جمیل مظہری نے مثنوی کوایک نیا فکری مزاج دیا اور یہ آب وسراب ان کی فکری حیات کا تعارف نامہ ہے۔“
یہ مثنوی دراصل ایک مذہبی کلامیہ ہے جس میں انسان کی روحانی تشنگی اور اس کے اضطراب والتہاب کو فلسفیانہ اندازمیں سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے مگر المیہ یہ ہے کہ اس مثنوی پر تشکیک کا لیبل لگا کراس کی معنویت مسخ کردی گئی جب کہ”آب وسراب“ ان افکار وتصورات پر مبنی ہے جو اکثر متجسس اور معقول ذہنوں میں جنم لیتے رہے ہیں۔ اس مثنوی میں تشکیک نہیں تجسس کی وہ چنگاریاں ہیں جو انسانی ذہن کو حقائق کی منزل تک پہنچاتی ہیں۔ یہ عرفان ذات اور تلاش حقیقت سے عبارت ہے۔ یہ مثنوی سوالات کے وہ سلسلے قائم کرتی ہے جس کے ذریعہ حیات وکائنات کی حقیقتوں کا انکشاف ہوسکتا ہے۔اس مثنوی میں مسلمات کا انکار نہیں ہے جو کفر والحاد کو مستلزم ہے بلکہ ان مفروضات،مزعومات اور مظنونات پر طعن وطنز ہے جو مذہبی مسلمات کی صورت اختیار کیے ہوئے ہیں اور یوں بھی مسلمات کے بارے میں سوال کرنا یا اس کی تفہیم وتعبیر کی منطقی ومعروضی صورت تلاش کرنا کفر والحاد نہیں ہے۔ مذہبی تصورات کو عقل کی میزان پر پرکھنا تشکیکی عمل نہیں بلکہ تحقیقی عمل ہے۔یہ بات نہ ہوتی تو مولانا اشرف علی تھانوی جیسے جید عالم کو ”المصالح العقلیہ والنقلیہ“ جیسی کتاب تصنیف نہ کرنا پڑتی اور نہ ہی رازی جیسے مفسرین کو منطقی وسائنسی انداز میں قرآن کی تفسیر لکھنی پڑتی۔ علامہ جمیل مظہری نے بہت سے افکار اور تصورات کا گہرا مطالعہ کیا تھا اور ان تصورات کی وجہ سے ان کے ذہن میں بہت سارے سوالات نے جنم لیا، انہی سوالات کو انھوں نے ایک مثنوی کی شکل میں پیش کیا ہے۔ یہ مثنوی دراصل بقول ہلال نقوی ”جمیل مظہری کے ذہنی کرب کی تلخیص ہے۔ گمان وآگہی، تشکیک ویقین، آب وسراب اور تیرگی وتجلی کی ملی جلی فضا میں انسان کا چہرہ اس مثنوی میں نظرآتا ہے۔“مولانا سعید احمد اکبر آبادی جیسے جید عالم دین کا یہ خیال مبنی بر حقیقت ہے کہ”اس مثنوی کے شاعرکا طائرفکر دراصل راز کن فکاں کی تلاش میں تخیل کے بال وپر لگا کر اڑتا ہے۔ ایک چیز اور ایک ایک منظر دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ کسی شئے کی حقیقت وہ نہیں جو نظرآرہی ہے بلکہ کچھ اور ہے۔ اچھا وہ نہیں تو پھر کیا ہے۔ شاعر اسی فکر وجستجو کا برابر سفر جاری رکھتا ہے اور آخر جب حقیقت مطلقہ کا سراغ نہیں ملتا تو اس کو یہ ساری کائنات آب وسراب کا ایک ہنگامہ نظرآتی ہے۔“ جمیل مظہری نے اس مثنوی میں ہر ایک شئے کو تشنہ وپیاسا قرار دیا ہے۔
ہر جذبہ ناصبور پیاسا
دانش پیاسی شعور پیاسا
مزدوری وبندگی بھی پیاسی
دارائی وخواجگی بھی پیاسی
پیاسا ہے جنوں بھی خرد بھی
پیاسا ہے غرور بھی حسدبھی
جمیل مظہری نے اس میں ازلی تشنگی اور روح کی تشنہ لبی کا ذکر کیا ہے۔ تجسس کی یہی پیاس ہے جو ہر شے کو تشکیک کی نظرسے دیکھتی ہے۔ یہ تشکیک حقیقت سے انکار کے لیے نہیں ہے بلکہ حقیقت کے اثبات کے لیے ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے ہیں:
کہ پانی نہیں عکس آب تھا وہ
جو کچھ ملا سَراب تھا وہ
جمیل مظہری کو جس پانی کی تلاش ہے وہ پانی نہ دیر وحرم کی سجدہ گاہوں میں ہے نہ مدرسے نہ خانقاہوں میں۔ انھیں فکر ونظر کے بادہ خانے سہمے ہوئے شوق کے ٹھکانے نظرآتے ہیں اور اسی لیے وہ کہتے ہیں:
ان جہل کدوں میں قفل ڈالو
ذہنوں کو عذاب سے نکالو
ہے جہل اس آگہی سے بہتر
ظلمت اس روشنی سے بہتر
ان کا یہ سوال بہت اہم ہے کہ آخر حضرت آدم کو گناہ کی سزا کے بجائے انعام کیوں دیا گیا، کیا گناہ اور بغاوت وجہ بزرگی وفضیلت بن سکتے ہیں۔ آخر اس کا راز کیا ہے۔ انھوں نے اس مثنوی میں مادی حرارت کی جیت اور فطرت کی غلامی کے بارے میں لکھا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ آج کا انسان حقیقت انسان کی تفہیم میں ناکام ہے، اسے قدرت نے خلیفہ اور حاکم بنایا تھامگر وہ مادیت کا محکوم بن کر رہ گیا ہے۔انھوں نے بغض وعداوت، بخل وخساست، کینہ حسد اور تکبر کو امراض کہن قرار دیتے ہوئے محبت کی تعلیم دی ہے۔ جمیل مظہری کا کہنا ہے:
نفرت کا علاج ہے محبت
بیمار کو ہے اسی کی حاجت
انھوں نے گوتم بدھ کنفوشش کے افکار کا بھی حوالہ دیا ہے، جنھوں نے قندیل خرد جلائی اور یہ بتایا کہ نیک وبد کیا ہے اور دلوں میں ہیبت پیدا کرنے کے بجائے محبت کا چراغ روشن کیا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ خدا سے بیوپار نہیں کرنا چاہیے، آزادوں کی اطاعت اور عبادت کا مفہوم کچھ اور ہے، رکوع کی عاجزی اور خشوع گریہ گری ایک رسم ہے، مسخ شدہ خدا پرستی سے بندگی کو آلودہ کرنا غلط ہے،انھوں نے سجودخادمانہ، صلاۃ تاجرانہ کے خلاف لکھا، طاعت غیر اختیاری کو عمل کارباری قرار دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ لالچ اور خوف کی وجہ سے کی جانے والی اطاعت غلط ہے اور وہ سارے مدارس ومکاتب کو دانش ومعرفت کے بازار اوربیوپار قرار دیتے ہیں، ان کے نزدیک تنظیم بھی تاجرانہ ہے اور تعلیم بھی تاجرانہ غرض کہ انھوں نے وہی تصور پیش کیا ہے جو علامہ اقبال کی شاعری میں ملتا ہے۔ انھیں دراصل مذہب کی حقیقی روح کی جستجو ہے اور اسی روح کی جستجو میں وہ تشکیک کے مرحلے سے بھی گزرے۔ انھیں صرف اس ابر کی تلاش ہے جو ان کی روح کی پیاس کو بجھا سکے،انسان کی روح تشنہ ہے اسے عکس آب نہیں پانی چاہیے اور جمیل مظہری نے اس مثنوی میں اسی پانی یعنی آب حیات تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ یقینی طور پر جمیل مظہری کی یہ مثنوی ایک مذہبی ڈسکورس کی حیثیت رکھتی ہے، صحیح تناظر میں اس کی تفہیم کی جائے تو جمیل مظہری متشکک نہیں بلکہ ایک متجسس کے طور پر نظرآئیں گے۔ ان کے ذوق جستجو نے ان سے یہ مثنوی تحریر کرائی اور انھوں نے انسانی ذہن میں پنپنے والے سوالات کو ایک نئی شکل دے کر یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ جب تک ان سوالات پر غور نہیں کیا جائے گا اور حقیقت روح تک رسائی نہیں ہوگی تب تک انسانی روح تشنہ ہی رہے گی اورسراب کو آب سمجھتی رہے گی۔ جمیل مظہری کی یہ مثنوی زبان وبیان کے اعتبار سے بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے اس میں جو انداز بیاں اختیار کیا گیا ہے وہ یقینا متاثر کرنے والا ہے۔غالب نے اس تمام عالم کو حلقہ دام خیال کہا تھا اور جمیل نے اس پوری کائنات کو سراب کہا ہے۔ اس طرح جمیل مظہری کا سلسلہئ فکر غالب سے بھی جاکر مل جاتا ہے اور علامہ اقبال سے بھی، جنہوں نے کہا تھا کہ:
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لاالہ الا اللہ
جمیل مظہری نے اس مثنوی کے ذریعہ اس جمود کو توڑنے کی کوشش کی ہے جس سے تجدید اور احیا کی راہیں مسدود ہوجاتی ہیں۔جمیل مظہری نے اس مثنوی میں جس خیال کو پیش کیا ہے آج کے شاعر عرفان ستار نے اسی خیال کو یوں باندھا ہے۔
جسے سمجھ رہے ہو آگہی فسون جہل ہے
جسے چراغ کہہ رہے ہو اس میں روشنی نہیں
شمس عظیم آبادی کی مثنوی ”حیات وکائنات“ اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس میں ارتقائے انسانی کی کہانی بیان کی گئی ہے، اس مثنوی میں مختلف سائنسی علوم مثلاً طبعیات، کیمیا، ارضیات، حیوانیات کے حوالے سے فلسفہئ ارتقا کو پیش کیا گیا ہے۔ وجود کائنات اور تخلیق کائنات سے متعلق یہ ایک عمدہ مثنوی ہے، موضوع سائنسی ضرور ہے مگر بیان میں سادگی اور روانی ہے، سائنسی نظریہ ارتقا کو انھوں نے بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ان کا بنیادی زور ارتقا پر ہے اور یہی نظریہ ارتقااس مثنوی کا محور ومرکز ہے، سائنسی موضوع کو کتنی سلاست کے ساتھ بیان کیا ہے ذرا دیکھیے:
فطرت کا جو ارتقا ہے جاری
تخلیق کا معجزہ ہے جاری
انسان کو خرد سے بلندی
قدرت سے ملی جو فتح مندی
آخر ہونے لگا ہویدا
پانی میں وجود زندگی کا
یہ راز ابھی نہیں کھلا ہے
تخم شجر حیات کیا ہے
قطرہ قطرہ ہوا ہے دریا
ذرہ ذرہ بنا ہے صحرا
ہے کوہ جو آج، کل تھا دریا
گلشن جو ہے آج تھا صحرا
اس کے علاوہ انھوں نے ”جلوہئ صد رنگ“ کے عنوان سے ایک مثنوی لکھی، اس میں مناظر فطرت کی خوبصورت عکاسی ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں دیہی بول چال اور معاشرت کی بہت خوبصورت تصویر کشی ہے جس میں پھولوں کا بھی ذکر ہے اور پھلوں کا بھی۔
یہاں مرتضی اظہر رضوی کے مثنوی خور و خواب کا ذکر بھی ضروری ہے کہ جمیل مظہری نے تشنگی کی داستان لکھی تھی تو رضوی کے ہاں گرسنگی کی کہانی ہے۔
ان مثنویوں کے علاوہ بہار میں بہت سی ایسی مثنویاں ہیں جن کا ذکر عموماً کتابوں میں نہیں ملتا، انھیں میں مولوی محمد سلیمان کی مثنوی”حسنیٰ سیہ فام“ اور مراد حسین یتیم کی مثنویاں مثنوی آب حیات، مثنوی سلک گہر، مثنوی مئے احمر ہیں کہ دراصل یہ تخلیق کار حاشیائی بستیوں سے تعلق رکھتے ہیں اور حاشیے کو مرکز میں آتے آتے صدیاں بیت جاتی ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ حاشیائی تخلیقات فطری جذبات اور انداز بیاں کی وجہ سے زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ ان دونوں کا تعلق سیمانچل سے ہے جو صوبہ بہار کا ہی ایک حصہ ہے مگر المیہ یہ ہے کہ بہار میں مثنویوں پر کئی گئی تحقیق میں ان دونوں کے حوالے شامل نہیں رہتے، یہ ہمارے لیے یقینا لمحہ ئ فکریہ ہے کہ ہم جب کلیت کی بات کرتے ہیں تو اپنے حاشیائی بستیوں کے تخلیق کاروں کو کیوں کر نظرانداز کردیتے ہیں۔
بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے اوائل میں بھی کچھ مثنویاں لکھی گئی ہیں جن کا مجھے علم نہیں، میری دانست میں اکیسویں صدی میں بہار سے ایک اچھی مثنوی وجود میں آئی وہ ہے غضنفر کی مثنوی”کرب جاں“جوبنیادی طور پر کرب جہاں سے عبارت ہے۔ اس میں مثنوی کے فنی لوازم کا التزام بھی ہے اور اس کا کینوس بھی وسیع ہے۔ انھوں نے اپنے شخصی حوالوں، مشاہدوں اور تجربوں کے ذریعہ ایک پورے عہد کو اور خاص طور پر آج کے سیاسی،سماجی حالات اور بدلتی تہذیب کے منظر نامے کو مثنوی کا محور ومرکز بنایاہے۔ یہ مثنوی عصری حسیت سے معمور ہے اور اسے آج کے حالات کی ایک سماجی اورتاریخی دستاویز کے طور پر بھی پڑھا جاسکتا ہے۔
بہار میں مثنوی نگاری کی زرّیں تاریخ ہے اور یقینی طور پر اس صنف میں بھی اہل بہار نے بیش قیمت اضافے کیے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ مثنویاں فنی لوازم کی تکمیل کرتی ہیں یا ان میں خواجہ الطاف حسین حالی کے بتائے ہوئے آٹھ اصولوں کا التزام ہے؟یہ سوال بہت اہم ہے۔ اور اب اس پر سنجیدگی سے غور و فکر کی ضرورت ہے کہ آخر بہار کی مثنویوں کو اتنی شہرت و مقبولیت کیوں نہیں ملی جتنا قبول عام مثنوی ’سحرالبیان‘، گلزارِ نسیم‘ یا ’زہر عشق‘ کو حاصل ہوا۔ ان میں تسلسل بیان، ربط خیال، لسانی والہانہ پن اور وارفتگی کی کمی ہے یا محاکات آفرینی، منظرنگاری، کردار نگاری میں کچھ سقم ہے یا موضوع کی فرسودگی ان مثنویوں کی شہرت میں مانع رہی۔اس پر گفتگو ہوتی رہے گی۔ فی الحال تو اتنا کہا جاسکتا ہے کہ بہار کے مثنوی نگاروں نے اپنے تخیل سے جو نگار خانہ آباد کیا ہے وہ ان کے تخیلی ذہن کی وسعت اور قوت کابین ثبوت ہے۔ بہار میں اردو مثنویوں نے فکر ونظر کی ایک نئی کائنات آباد کی ہے اور اس میں تنقیدی اور تخلیقی سطح پر کچھ نئے سلسلوں کا اضافہ ہوگا تو اس صنف میں بھی اہل بہار کی اہمیت مرکز بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا۔
آج بہار کے صرف مثنوی نگار نہیں بلکہ ہر صنف کے فنکار زبان حال سے یہ کہتے نظر آرہے ہیں:
آج بام حرف پر امکان بھر میں بھی تو ہوں
میری جانب اک نظر اے دیدہ ور میں بھی تو ہوں
جن فنکاروں نے اپنے جگر کو لہو کیا ہے، انہیں کم از کم ان کی ریاضتوں کا اتنا صلہ تو ملنا ہی چاہئے کہ قومی سطح پر ان کے تخلیقی وجود کا ا عتراف کیا جائے۔ اسی اعتراف ہنر سے تخلیقی امکانات کے نئے چراغ روشن ہوں گے اور چراغوں سے چراغ جلتا جائے گاتو اس سے تیرگی کم ہوگی، اورکچھ اجالا بڑھے گا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*