بہار میں اسکول اساتذہ کی بحالی اور اردو-پروفیسر مشتاق احمد

ان دنوں بہار میں پرائمری ،مڈل اور ثانوی اسکولوں کے اساتذہ کی بحالی کا چھٹا مرحلہ چل رہا ہے ۔پنچایت ،میونسپل کارپوریشن اور ضلعی اسکولوں میں جتنی جگہ خا لی ہیں حکومت بہار کا یہ فیصلہ ہے کہ ان تمام خالی جگہوں کو پر کیا جائے۔اس لیے اساتذہ بحالی کی خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے ۔لیکن سب سے بڑا مسئلہ درپیش یہ ہے کہ بیشتر مضامین میں جتنی جگہ خالی ہیں اتنے اساتذہ نہیں مل رہے ہیں ۔اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان مضامین میں اسٹیٹس یا سی . ٹیٹ پاس اساتذہ کی کمی ہے ۔ساتھ ہی ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ دورافتادہ علاقے کے اسکولوں میں آس پاس کے امیدوار ہی رہنا چاہتے ہیں مگر وہ بی ایڈ ہونے کے باوجود اسٹیٹ یا سی ۔ٹیٹ پاس نہیں ہیں۔بیشتر امیدوار شہری یا میونسپل علاقے کے اسکولوں میں رہنا چاہتے ہیں۔نتیجہ ہے کہ پنچایتی سطح کے اسکولوں میں جتنی جگہ ہیں وہ پر نہیں ہو رہی ہیں ۔
جہاں تک اردو کا سوال ہےتو بیشتر جگہوں پر اردو کے سی ٹیٹ اسٹیٹ پاس امیدوار نہیں مل پا رہے ہیں ۔محکمہ تعلیم حکومت بہار کی جانب سے اس خصوصی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے ۔اجتماعی کونسلنگ کا اہتمام کیا جا رہا ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ کونسلنگ کے دن ہی منتخب امیدواروں کو تقرری نامہ بھی دیا جا رہا ہے ۔اخباروں میں اس کی کی تفصیل بھی دی جا رہی ہے۔ جہاں کہیں بھی اردو کی سیٹیں خالی رہ رہی ہیں وہاں اردو آبادی میں ایک طرح کی پریشانی دیکھی جا رہی ہے کہ برسوں کے بعد اساتذہ کی بحالی ہو رہی ہے اور اس میں بھی اردو کے اساتذہ کی جگہ پر نہیں ہو پا رہی ہیں ۔در حقیقت جتنی اردو زبان کے اساتذہ کی سیٹیں ہیں اتنے امیدوار ریاستی اساتذہ اہلیتی مقابلہ جاتی امتحان یا قومی سطح کے سی ٹیٹ مقابلہ جاتی امتحانات میں پا شدہ نہیں ہیں ۔ظاہر ہے کہ جب اساتذہ بحالی کے لیے بی ایڈ کے ساتھ ساتھ مذکورہ دونوں مقابلہ جاتی امتحانات میں سے کسی ایک میں پاس ہونا لازمی ہے تو ایسی صورت میں اردو آبادی کو چاہیے کہ بی ایڈ پاس اردو کے امیدواروں کو سی ٹیٹ یا ایس ٹیٹ مقابلہ جاتی امتحانات میں شامل ہونے کے لیے راغب کریں کیونکہ اس کے بغیر پرائمری سطح سے ثانوی درجہ تک کے اسکولوں میں بحالی کے لئے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اب امیدوار جب تک مقابلہ جاتی امتحانات کے ذریعے ایس ٹیٹ یا سی ٹیٹ پاس نہیں کریں گے اس وقت تک ان کی بحالی ہی نہیں ہوگی ۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو کے لیے کام کرنے والی انجمن یا ادارے اردو آبادی کے درمیان یہ بھی مہم چلایں کہ جو امیدوار اردو کے اساتذہ کہ عہد ے پر بحال ہونا چاہتے ہیں وہ اردو کے ساتھ اسٹیٹس یا سی سیٹ کے امتحان میں شامل ہوں ۔
واضح ہو کہ سال میں دو بار ماہ جون اور دسمبر میں قومی سطح کا سی ۔ ٹیٹ امتحان ہوتا ہے جبکہ ریاستی سطح پر بھی ایس ٹیٹ امتحان لیا جاتا ہے ۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس مقابلہ جاتی امتحانات میں اردو کے امیدوار کی کامیابی کا فیصد بہت کم ہوتا ہے ۔میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ اردو آبادی میں اس امتحان کے تئیں دلچسپی بہت کم ہے ۔جب کہ بہار میں محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود حکومت بہارکی جانب سے اس طرح کے مقابلہ امتحانات کے لیے مفت کوچنگ کا بھی اہتمام کیا گیا ہے ۔مگر اس کی جانب ہمارے ایسے امیدوار جو اساتذہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں وه بہت سنجیدگی سے اس امتحان کی تیاری نہیں کرتے ہیں ۔اور اب جب اس خصوصی اساتذہ کی بحالی کیلئے کونسلنگ ہو رہی ہے اور اردو کی سیٹیں خالی رہ گئی ہیں تو ہاے توبہ مچا ہے ۔کچھ لوگ سیاسی بیان بھی دے رہی ہیں کہ اردو کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا ہے ۔اس وقت اس طرح کی بیان بازی سے کوئی فائدہ نہیں ہے کہ اساتذہ کی بحالی کیلئے ایس ٹیٹ یا سی ۔ٹیٹ امتحان پاس ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔اس لئے ہماری کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ اس امتحان کی تیاری سنجیدگی سے کریں اور زیادہ سے زیادہ امیدوار کامیاب ہوں تا کہ اردو کے لئے مخصوص نشستیں خالی نہ رہ پاۓ۔ویسے دیکھنے میں یہ بھی آ رہا ہے کہ دیہی علاقوں میں اردو کی سیٹیں زیادہ خالی رہ جا رہی ہیں کہ وہاں امیدوار جانا نہیں چاہتے ۔میرے خیال میں اردو زبان سے محبت کرنے والے افراد کو چاہے کہ وہ اس خصوصی مہم میں جہاں کہیں بھی اردو کی سیٹیں ہیں وہاں بحال ہو جایں بعد میں ان کے مسائل کا حل نکل سکتا ہے لیکن شہری علاقوں کے اسکولوں کے انتظار اور دیگر سہولت کیلئے اس موقع کو نہیں جانے دیں کہ اگر شہری علاقوں میں بحالی کیلئے جگہ کم ہو گی تو ملازمت سے بھی محروم ہو جاینگے اور دوسری طرف دیہی علاقوں میں اردو کی جگہ خالی رہ جاۓگی جس سے اردو زبان کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کا نقصان ہوگا ۔کیوں کہ نہ جانے کب پھر اس طرح کی خصوصی مہم شروع ہو گی کہنا مشکل ہے ۔اس لئے اردو زبان کے فروغ کیلئے ہم سبھوں کو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
مجھے لگتا ہے کہ اگر اس وقت اردو زبان کے فروغ کیلئے کام کرنے والے افراد اور اداروں کو بھی اس مسلہ پر توجہ دینی چاہئے کہ ہمارے اردو کے امیدوار دیہی علاقے کے اسکولوں میں بھی کونسلنگ میں شامل ہوں ۔ انھیں ممکن تعاون بھی دی جائے تا کہ اس وقت وه جگہ پر ہو جاۓ ۔اس میں میں کوئی شک نہیں کہ بعد میں صرف اردو زبان کے اساتذہ کی بحالی کیلئے کوئی خصوصی مہم شروع نہیں ہوگی کہ اردو کے تیں ہمارے سرکاری افسران کئی طرح کے ذہنی تعصبات و تحفظات کے شکار ہوتے ہیں اردو کے نام پر طرح طرح کی سیاست بھی ہوتی رہتی ہیں ۔اس لئے اردو آبادی کے لیے یہ سنہری موقع ہے کہ وہ اس خصوصی مہم سے استفادہ کریں اور اردو کے لئے راستہ ہموار کریں ۔ہمارے ویسے امیدوار جو دیہی علاقے میں جانا نہیں چاہتے ہیں ان تک ہماری طرف سے کوشش ہونی چاہیے کہ ہم ان تک پہنچ کر اردو کے لیے دور دراز کے علاقوں میں بھی جانے کو تیار کریں۔کیونکہ ہماری ملاقات کئی ایسے اردو کے امیدواروں سے ہوئی ہے جو ا شہری علاقے یا کارپوریشن ایریا کے اسکولوں میں ہی رہنا چاہتے ہیں جب کہ اردو کی زیادہ سیٹیں بلاک اور پنچایت کے اسکولوں میں ہیں ۔خواتین امیدواروں کے لیے تو مشکل ہو سکتی ہے لیکن مرد امیدواروں کو چاہیے کہ وہ اپنی بے روزگاری دور کرنے کے لیے دیہی علاقوں کے پنچایتی سطح کے اسکولوں میں بھی جائیں تا کہ اردو اساتذہ کی سیٹیں پر ہو سکے اور اردو طلبہ کو اردو کی تعلیم کا موقع نصیب ہوسکے ۔کیونکہ اگر اس وقت اردو اساتذہ کی جگہ خالی رہ جاتی ہیں تو شاید برسوں وه جگہ پر نہیں ہوگی اور اس علاقے کے بچوں کو نقصان ہوگا ۔ اور ہم اس کے لئے حکومت کوقصور وار بھی نہیں ٹھہرا سکتے ہیں کہ اس وقت حکومت نے سبھوں کے لیے خصوصی مہم چلائی ہے ۔ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ایک طرف اردو امیدوار سی ٹیٹ یا اسٹیٹ پاس کم ہیں اور دوسری طرف جو پاس ہیں وہ دور دراز کے علاقوں میں جانا نہیں چاہتے ۔یہ ایک لمحہ فکریہ ہے اور اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ وقت نکل جانے کے بعد ہمارے حصے میں افسوس کے علاوہ کچھ بھی نہیں رہ جائے گا ۔