بہار میں نتیش کی جیت،مگر انسانیت کی شکست ـ سمیع اللہ خان

معاملہ ہے بہار کے ضلع ویشالی کا، گاؤں رسول پور حبیب کی رہنے والی گل ناز ۲۰ سال کی تھی جس کے والد مختار کا انتقال ہوچکاہے، ماں سمنا خاتون سلائی کا کام کرکے گھر چلاتی تھی، گل ناز چونکہ باپ کے سائے سے محروم تھی اور جوان بھی، گاؤں میں رہنے والے ستیش کمار نے اس کا جینا حرام کررکھا تھا، ستیش کمار، ونے راے کا لڑکا ہے، اس کے مظالم سے تنگ آکر بچی نے کئی بار ستیش کے گھر والوں سے فریاد بھی کی لیکن بجائے لڑکی کی مدد کرنے کے، ہریندر راے نے لڑکی کو ستیش کے آگے خود سپردگی کا مشورہ دیا اور بصورت دیگر جان چلی جانے کا ڈر دکھایا، لڑکی نے پھر بھی منتیں کیں کہ وہ ایک مسلمان لڑکی ہے کسی غیرمسلم ہندو۔یادو سے وہ نکاح یا پیار نہیں کرسکتی، لیکن ستیش کمار بے سہارا بچی کو مسلسل ٹارچر کرتا رہاـ
۳۰ اکتوبر کو شام ۵ بجے گل ناز کسی کام سے گھر کے باہر نکلی، بدمعاش غنڈہ ستیش اپنے ساتھی غنڈوں سکل دیو اور چندن کمار کےساتھ مل کر اسے پریشان کرنے لگا، گل ناز نے مزاحمت کی، ستیش نے غصے میں آکر دونوں غنڈوں کےساتھ ملکر گل ناز پر کیروسین کا تیل چھڑکا اور زندہ جلا دیا، گل ناز ۱۵ دنوں تک زندگی اور موت کے درمیان اذیت ناک جنگ لڑتی رہی اور پھر اس کی موت ہوگئی ـ
موت کے بعد اس کی ماں اور دیگر رشتےداروں نے مقتولہ کی نعش کو سڑک پر رکھ کر بھی انصاف کی بھیک مانگی جبکہ انصاف کا مطالبہ ان کا حق تھا، لیکن اب تک مجرمین آزاد ہیں، انصاف کا دور دور تک پتا نہیں ہے، مگر بہار میں موجود سیاسی لیڈرشپ سَنگھی نتیش کمار کی قیادت میں سیاسی گلیاروں میں مست ہے، مذہبی، سماجی اور ملی قیادت میں اتنی مجال نہیں ہوئی کہ اس بچی کو انصاف دلانے کے لیے نتیش کمار کے خلاف سڑک پر آ سکیں، کوئی جگہ نہیں ہے اس جھوٹ کے لیے کہ ایسے دردناک ظالمانہ واقعے کو پندرہ دن گزر گئے اور بہار کے حکمرانوں سمیت ملی و مذہبی لیڈرشپ کو اس کے بارےمیں خبر ہی نہیں ہوئی، پتا سب کو تھا لیکن اوپر سے آرڈر تھا کہ اس روح فرسا ظلم کو چھپا دیا جائے ورنہ نتیش کمار کی کرسی خطرے میں پڑجائے گی، اگر الیکشن کے وقت یہ معاملہ باہر آتا تو یقینًا ہماری بہن کو انصاف بھی ملتا اور نتیش کمار اپنے بےشمار سَنگھی مظالم کا حساب چکاتے، چنانچہ سب نے مل کر نتیش کمار کی کرسی بچانے کے لیے گل ناز کی دردناک موت سے سودا کرلیا، صرف پولیس نہیں ملی تنظیمیں، سوشل آرگنائزیشن، سیاسی پارٹیاں بلکہ بہار کا ہر ذمہ دار واقف کار اس بدبودار سودے بازی میں شریک ہےـ
میرا یہ ماننا ہے کہ عصمت دری، آپسی قتل و قتال، چوری، ڈکیتی یہ سماجی جرائم کے زمرے میں ہی رہنے چاہییں، سماجی جرائم کو مذہبی عینک یا منافرت کے زاویوں سے اچھالنا شکست خورده ذہنیت کا حصہ ہے، گل ناز کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہونے تک سماجی جرم، اور بدمعاشوں کا مجرمانہ معاملہ ہی ہے، لیکن اس کی موت کے بعد انصاف کا جس طرح قتل کیاگیا، اس کے جھلستے جسم کی سوزش کو جس طرح سیاست کی بھینٹ چڑھایا گیا اور اس کی مظلومیت کو عدالت سے محروم رکھنے کے لیے جو کھیل رچا گیاہے اس میں سے یقینًا تعصب کی بو آرہی ہے، مظلوم قوم کی بچی ہے اس لیے مظلومیت کو نظرانداز کیاگیا، ہمارا سسٹم اتنا سڑ گیا ہیکہ اگر مجرموں کے نام چندن، ستیش کمار کی جگہ مسلمانوں والے ہوتے تو اب تک بھونچال آچکا ہوتا، بہار کی پولیس نے نتیش کمار کو وزارت اعلیٰ کی کرسی تک پہنچانے کے لیے گل ناز کو اس کے حق سے محروم کیا اور آج نتیش وزیراعلیٰ کا حلف لے رہےہیں لیکن وہ سمجھ لیں کہ اس بچی کی آہیں اس کی ظالمانہ اور سَنگھی چیف منسٹری کو ایک دن تہس نہس کردیں گی، جن لوگوں نے نتیش کو بچانے کے لیے اب تک گل ناز سے آنکھیں موند رکھی تھیں وہ اب آئیں گے مذمتی قرارداد لے لے کر لیکن ان کے الفاظ اور بیانات نتیش کی نمک حلالی کے ساتھ ہوں گے،سپریم کورٹ صاحب کو اگر ارنب گوسوامی کی شخصی آزادی کی حفاظت سے فرصت ملی ہوتی تو شاید اس بچی کی طرف نظر پڑتی، پولیس سسٹم نے پھر سے مایوس کیا ہے، ایک بچی زندہ جلا دی جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ انصاف نہیں ہورہا کیونکہ وہ غریب ہے، وہ مسلمان ہے، وہ درندوں کی شکار ہوئی ہے، اور درندوں کی یہاں حکمرانی ہے، بتائیے ایسے بے حس سماج کو جگانے کے لیے کیسی آگ چاہیے ہوگی؟
ہمارا دل چور چور ہوگیا اپنی بہن کی جھلسی تصویر دیکھ کر، پھر گل ناز کو انصاف سے محروم رکھنے کےلیے جو کچھ کیاگیا اس پر ہم شرمسار ہوگئے کہ ہم بھی اسی سوسائٹی کا حصہ ہیں جسے آجکل انسانوں کی سوسائٹی کہا جاتاہے، گل ناز کی تصویر ہے، اپنی بے بسی اور سماجی بے حسی ہے، اور دل و دماغ سے ٹکراتے حبیب جالب ہیں :
یہ دیس ہے اندھے بہروں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*