بہارمیں نوجوان ووٹرز کی تعداد پچاس فیصد سے زیادہ،اسمبلی انتخاب میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں

پٹنہ:اس بار اسمبلی انتخابات میں نوجوان ووٹرز کی ایک بڑی تعداد اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے جارہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے زیادہ سے زیادہ ووٹرز کی تعداد میں 18 سال کی عمر کو عبور کرنے والے ووٹرز کو اندراج کرنے کے لئے ایک مہم کا آغاز کیا ہے۔ انٹرنیٹ پر بھی نام شامل کیے جارہے ہیں۔ نوجوان ووٹروں کی ایک بڑی تعداد آگے آرہی ہے ، لیکن نوجوان رائے دہندگان کے سامنے ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے سے دو تین گنا بڑی عمر کے نمائندوں کا انتخاب کریں۔یکم جنوری 2020 کو تیار کی گئی ووٹر لسٹ کے مطابق ، ریاست میں 18 سے 39 سال کی عمر کے نوجوان ووٹرز کی تعداد تین کروڑ 66 لاکھ 34 ہزار سے زیادہ ہے ، یعنی کل ووٹرز میں نصف کے قریب 7 کروڑ 18 لاکھ ہیں۔ دوسری طرف ، موجودہ اسمبلی میں 25 سے 30 سال کی عمر میں صرف پانچ اراکین اسمبلی ہیں ، جبکہ 31 سے 40 سال کی عمر کے ارکان اسمبلی کی تعداد 32 ہے۔ آر جے ڈی کے تیجسوی یادو سب سے کم عمر ایم ایل اے ہیں۔ اسی کے ساتھ ان کی پارٹی کے شری ناراین یادو سب سے عمررسیدہ ہیں۔ عمر کے لحاظ سے قانونی دفعات کے مطابق کوئی 25 سال کا نوجوان اسمبلی انتخاب لڑ سکتا ہے ، لیکن آبادی کے تناسب سے سیاسی جماعتوں سے نوجوانوں کو سیاسی حصہ نہیں دیا جارہا ہے۔ جو نوجوان قائدین تحریک چلانے اور نعرے بازی کی راہ پر گامزن ہیں وہ اسمبلی انتخابات میں امیدواروں کی تلاش کے وقت سماجی اور دیگر مساوات کی آڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہاں تک کہ ان نوجوانوں میں بھی جن کو ٹکٹ ملا ، ان میں سے بیشتر کا سیاسی پس منظر ہے۔ 2015 کے اسمبلی انتخابات میں پانچ نوجوان ایم ایل اے میں تیج پرتاپ یادو ، تیجسو ی یادو اور راہل تیواری کے والد بھی سیاستدان رہے ہیں۔اس بار اسمبلی انتخابات میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوگا۔ نوجوان ووٹروں کی تعداد 53فیصد ہے یہ نوجوان ہی امیدوار وںکی قسمت کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچے کیلئے ایل جے پی سربراہ چراغ پاسوان اور بہار قانون ساز اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما تیجسو ی یادو نوجوانوں میں کافی مقبول ہیں۔ اس بار کے انتخاب میں مہاجر مزدوروں کا بھی اہم کردار ہوگا۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق 3فیصد مہاجر مزدور امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریںگے۔