بہارمیں دیہی علاقوں کے طبی مراکزبدحال،کہیں گائے توکہیں خنزیرکاقبضہ

مدھوبنی: کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران ملک کے دیہی علاقوں میں طبی نظام بے نقاب ہو گیا ہے۔سولہ سال کی نتیش حکومت کی ترقی کادعویٰ فیل ہے۔ اس طرح سے جہاں لوگوں کو شہروں میں علاج معالجے کے لیے بسترنہیں مل رہے ہیں ، وہیں نہ ہی دیہی علاقوں میں پرائمری ہیلتھ سنٹروں میں ڈاکٹر اور نہ ہی نرسیں دکھائی دے رہی ہیں۔ اس طرح کے بہت سے معاملات رپورٹ ہوئے ہیں۔سوشل میڈیاپرکئی اضلاع سے ایسی چیزیںسامنے آرہی ہیں۔ تازہ ترین معاملہ بہارکے مدھوبنی ضلع کھجولی کے سککی گاؤں کا ہے۔ یہاں کے ایک سرکاری طبی مرکزکی حالت زار یہ ہے کہ اسے گئوشالہ کے بطور استعمال کیا جارہا ہے۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ پچھلے سال سے اس طبی مرکز میں نہ تو کسی ڈاکٹر نے اور نہ ہی کسی نرس نے دورہ کیا ہے۔خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق ایک دیہاتی نے بتایاہے کہ گذشتہ سال سے کسی نرس یا ڈاکٹر نے اس طبی مرکز کا دورہ نہیں کیا ہے۔ لوگوں کو کھجلی کے پرائمری ہیلتھ سنٹر جانا پڑتا ہے۔سکی گاؤں کے ایک اور شخص نے بتایا ہے کہ اس سنٹرکے لیے ایک اے این ایم تعینات کیا گیا تھا لیکن کوویڈ 19 کے سبب یہ فی الحال اے این ایم پرائمری ہیلتھ سنٹر کھجولی میں تعینات ہے۔ یہ مرکز30 سال سے زیادہ عرصے سے یہاں کام کررہاہے۔