بہار میں آسمانی بجلی کاقہر-ڈاکٹر مشتاق احمد

ڈاکٹر مشتاق احمد(پرنسپل، سی ایم کالج، دربھنگہ)

یہ مثل مشہور ہے کہ مصیبت کبھی تنہا نہیں آتی کہ اگر کوئی شخص ایک مصیبت سے نکل بھی جائے تووہ پھر دوسری سے دوچار ہو جاتا ہے۔یہی صورتحال ان دنوں انسانی معاشرے کا ہے ۔ ایک طرف کورونا نے عالمِ انسانیت کے لئے مختلف النوع مسائل پیدا کردئے ہیں تو دوسری طرف قدرتی آفات بھی انسانی زندگی کے لئے مشکلیں پیدا کر رہی ہیں۔کورونا سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں وہ اظہر من الشمس ہے کہ زندگی کے تمام تر شعبے اس سے اثر انداز ہوئے ہیںاور لاکھوں افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور جو زندہ ہیں وہ بھی خوف وہراس کی زندگی میں مبتلا ہیں کہ کورونا کا دائرہ دن بہ دن بڑھتا ہی جا رہا ہے۔سیاسی قلابازیاں اپنے شباب پر ہے اور کورونا سے متاثرین کے مسائل روز بروز بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔اسی اثناء ریاست بہار میں آسمانی برق نے بھی قہر ڈھایا ہے۔ تاریخ میں یہ پہلا سانحہ ہے کہ ایک دن میں برقی قہر سے ۸۹؍ افراد کی جانیں تلف ہو گئی ہیں اور درجنوں بیہوشی کے عالم میں ہیں۔ واضح ہو کہ گذشتہ ۲۵؍ جون کو ریاست بہار کے مختلف اضلاع میں ایک ساتھ آسمانی بجلی نے کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو ایک لمحے میں موت کی نیند سلا دیا ۔ ظاہر ہے کہ اس قدرتی قہرسے بچنے کا کوئی ٹھوس انتظام ممکن بھی نہیں ہے کہ کب کہاں برقی قہر سے انسانی جانیں تلف ہو جائیں گی ۔سائنسدانوں کے ذریعہ الرٹ جاری کیا جاتا رہاہے لیکن ان کی طرف سے بھی حتمی طورپر یہ نہیں بتایا جاتا کہ بجلی کس علاقے میں اور کب گرے گی۔گذشتہ سال ایک ’’اندرا وجر‘‘ نام سے ایپ بھی جاری ہوا تھا کہ اگر انڈروائڈ موبائل میں اس ایپ کو ڈائون لوڈ کرلیا جائے تو آسمانی بجلی گرنے سے ۳۰۔۳۵منٹ پہلے موبائل میں الارم ٹون بجنے لگتا ہے۔ پہلی نظر میں تو یہ اطلاع خوش کن نظر آتی ہے لیکن عملی طورپر ایسا ممکن نہیں ۔ کیوں کہ کھیتوں میں یا میدانوں میں کام کرنے والے مزدوروں اور جانور چرانے والوں کے پاس انڈروائڈ موبائل کا ہونا بعید از قیاس ہے ۔وہ بیچارہ جو یومیہ مزدوری پر زندگی گذارتا ہے وہ بھلا ’’اندرا وجر‘‘ایپ سے استفادہ کیسے کر سکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہ موبائل ایپ مزدور طبقے کے لئے ناکارہ ثابت ہو رہا ہے ۔واضح ہو کہ آسمانی بجلی کی رفتار کتنی ہوتی ہے یہ کہنا بہت مشکل ہے البتہ سائنسی ایجادات نے یہ ضرور ثابت کیا ہے کہ اس برق میں ڈھائی لاکھ وولٹ کی طاقت ہوتی ہے ۔ اب آپ اس سے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس بجلی سے بچنا کتنا محال ہے ۔
بہر کیف!بہار کی تاریخ میں یہ پہلا حادثہ ہے کہ ایک ساتھ اتنی جانیں تلف ہوئی ہیں ۔ اگر چہ محکمہ موسمیات نے دو روز قبل یہ انتباہ ضرور دیا تھا کہ ریاست میں تیز بارش ہوگی اور بجلی کے گرنے کا بھی اندیشہ ہے ۔اس لئے عوام الناس باہر نکلنے سے پرہیز کریں۔مگر پیٹ کی آگ مزدوروں کو کیسے روک سکتی ہے۔اگر وہ مزدور کھیتوں میں کام نہیں کریں گے یا پھر بازاروں میں نہیں نکلیں گے ، رکشے ،ٹھیلے والے گھر میں رہ کر اپنی زندگی کیسے گذار سکتے ہیں ۔ اس لئے اس طرح کے سرکاری اعلانات محض کاغذی خانہ پُری ہو کر رہ جاتے ہیں اور عملی طورپر نتیجہ صفر رہ جاتاہے۔اگر واقعی محکمہ موسمیات کی اطلاع کو عملی جامہ پہنانا مقصد ہو تو ان تمام اضلاع میں مزدوروں کے باہر نکلنے کی پابندی کے بدل میں اسے سرکاری مراعات دی جانی چاہئے تاکہ وہ اپنی زندگی کا سامان پیدا کرسکیں۔کیوں کہ یومیہ مزدور گھروں میں رہ کر زندہ نہیں رہ سکتے۔ بالخصوص کورونا نے جس طرح زندگی کو مفلوج بنا دیا ہے ایسے حالات میں تو اور بھی مزدور طبقے کی زندگی اذیت ناک ہوگئی ہے۔بہار کے جن اضلاع میں برقی قہر سے معصوم مزدوروں کی جانیں گئی ہیں ان میں گوپال گنج میں تیرہ، مدھوبنی میں آٹھ، نوادہ میں آٹھ، سیوان میں چھ، دربھنگہ میں پانچ، مشرقی چمپارن میں پانچ، اورنگ آباد میں چار ، پورنیہ میں دو ، مغربی چمپارن میں دو مزدور شامل ہیں ۔حکومت بہار نے آسمانی بجلی سے جان گنوانے والے مزدوروں کے خاندان کو چار چار لاکھ روپے امداددینے کا اعلان کیا ہے اور تمام متاثرہ اضلاع کے ضلع کلکٹر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری متاثرہ خاندان کو یہ رقم فراہم کردیں۔یہ ایک اچھی پہل ہے کہ مزدور طبقے کے خاندانوں کو کچھ دنوں تک اپنی زندگی کی گاڑی کھینچنے میں سہولت مل جائے گی۔کیوں کہ برقی قہر سے مرنے والوں میں بیشتر یومیہ مزدور ہیں ۔بہار میں یومیہ مزدوروں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور اب جب کہ بڑے شہروں سے مزدوروں کی گائوں واپسی ہوئی ہے تو ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ گائو ںمیں روزگار کے مواقع کم ہیں اور اگر ہے بھی تو وہ زراعت کے شعبے میں ہے۔ اس لئے کھیتوں میں مزدوری کرنے والوں کو تو کام مل رہا ہے لیکن جو لوگ دس بیس سالوں سے ملک کے مختلف شہروں میں بجلی مستری، پلمبرنگ، موٹر گیراج، مکان تعمیر وغیرہ وغیرہ کاموں میں لگے ہوئے تھے وہ بیکار بیٹھے ہیں ۔ حکومت کی طرف سے کچھ راحت دی گئی ہے لیکن وہ راحت ان کے لئے ناکافی ہے۔اس لئے ان دنوں بہار میں یومیہ مزدوروں کی زندگی مزید مشکل ہوگئی ہے۔ریاست بہار کی ایک بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ تقسیمِ بہار کے بعد جتنے بھی معدنیات اور چھوٹے بڑے صنعتی کل کارخانے تھے وہ سب کے سب جھارکھنڈ کے حصے میں چلے گئے اور بقیہ بہار کے حصے میں صرف اور صرف میدانی علاقہ رہ گیا ہے اور ان میدانی علاقوں میں ہر سال کہیں بارش کم ہونے کی وجہ سے فصلیں برباد ہوتی ہیں تو شمالی بہار میں سیلاب کی وجہ سے ہر سال لاکھوں ہیکٹر کی فصلیں تباہ ہوتی ہیں اور لاکھوں خاندان کے سامنے سرچھپانے کا مسئلہ پیدا ہو تا رہاہے اوریہی موسم ہے کہ جولائی سے ستمبر تک شمالی بہار کے دس اضلاع سیلاب کی زد میں آتے رہے ہیں ۔ سیلاب کے نام پر سیاست بھی خوب پروان چڑھتی ہے ۔ حکومت اپنے بل بوتے پر راحت کاری اور بازآباد کاری کا دعویٰ بھی کرتی ہے لیکن یہ تلخ حقیقت ہے کہ شمالی بہار کے دس سیلابی اضلاع کے افراد سالہا سال سے سیلاب کا قہر جھیل رہے ہیں ۔
واضح ہو کہ شمالی بہار میں سیتا مڑھی، شیوہر، دربھنگہ، مدھوبنی، سپول، سہرسہ، مدھے پورہ ، پورنیہ، کشن گنج ، کھگڑیا، بھاگلپوراور سمستی پور سیلاب کی زد میں آتے رہے ہیں ۔کسی ضلع میں کم تو کسی میں زیادہ مگر سیلاب سے متاثر ضرور ہوتے ہیں اور اس کی وجہ نہ صرف تیز بارش ہے بلکہ سرحدی نیپال کی ندیوں کے پانی سے بھی خطرہ بڑھتا ہے ۔اگرچہ سیلاب کے موسم میں ہر سال مرکزی حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ حکومتِ نیپال سے معاہدہ ہوگیا ہے کہ سیلاب پر قابو پانے کے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے مگر ایسا ہونہیں پاتا۔ نتیجہ ہے کہ آزادی کے بعد سے ہی یہ اضلاع سیلاب سے جوجھتا رہاہے اور یہی وجہ ہے کہ ان اضلاع کے مزدوروں کی بڑی تعداد ملک کے مختلف حصے کی طرف کوچ کرجاتی ہے کہ یہاں ان کے لئے روزگار کے مواقع نہیں ہیں۔شمالی بہار میں ایک وقت تھا کہ زراعت پر مبنی صنعتیں چلتی تھیں ۔ مثلاً چینی ملو ں کا جال بچھا ہوا تھا مگر تین دہائی سے بیشتر ملیں بند ہوگئی ہیں اور ان ملوں سے وابستہ لاکھوں مزدور اور کسان اقتصادی خسارے کے شکار ہوگئے ہیں ۔ایسی صورت میں حالیہ برقی قہر نے یومیہ مزدوروں کے لئے ایک بڑی مشکل پیدا کردی ہے کیوں کہ محکمہ موسمیات نے پھر انتباہ کیا ہے کہ ریاست کے ۱۸؍ اضلاع میں تیز بارش اور آسمانی بجلی گرنے کے اندیشے ہیں ۔ ان اضلاع میں مظفرپور، کشن گنج، ارریہ، سپول، پورنیہ، مدھے پورہ، مشرقی چمپارن، مغربی چمپارن، گوپال گنج، سیوان، مدھوبنی ، سمستی پور ، سارن ، شیوہر، سیتا مڑھی ، دربھنگہ اور ویشالی شامل ہیں ۔یہی وہ اضلاع ہیں جو ماہ دو ماہ کے بعد سیلاب سے بھی متاثر ہوں گے ۔ لہذا مزدوروں کی فکر مندی یہ ہے کہ اگر وہ گھر سے باہر نہیں نکلیں گے تو ان کے خاندان کی پرورش کیسے ہوپائے گی ؟ شاید حکومت ان کی فکر مندی کے لئے بھی کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کرے گی کہ یہ وقت کا تقاضہ ہے کیوں کہ کورونا اور لاک ڈائون کے بعد ان مزدروں کی اقتصادی حالت بد سے بد تر ہوگئی ہے۔تقریباًتین مہینے سے تمام تر کام بند پڑے ہوئے ہیں ۔ اب تھوری سی راحت دی گئی ہے تو بازار کھلے ہیں اور کھیتوں میں ںبھی کام شروع ہوا ہے ۔اس لئے مزدور اگر باہر نہیں نکلیں گے تو ان کے لئے روزی روٹی ایک بڑا مسئلہ ہے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*