بہار مدرسہ بورڈ:پھر دھوکہ-محمد شارب ضیا رحمانی

بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے نئے اعلامیے میں پھر درج ہے کہ آزاد مدارس جو منظور ہیں ان کے فارغین مولوی کے امتحان میں شریک ہوسکتے ہیں یعنی ان کی سند میٹرک اور فوقانیہ کے برابر ہےـ اگر آزاد مدارس کی سند فوقانیہ یا میٹرک کے برابر ہے تو بہار کے ہر محکمہ میں اس کی منظوری ملنی چاہیے جیسے پاسپورٹ وغیرہ میں یا جہاں میٹرک کی سند برتھ سرٹیفیکیٹ کے لیے مستند ہے کیوں ‌کہ بہار سرکار کا ایک ادارہ اسے فوقانیہ کے برابر تسلیم کررہاہےـ

اس اعلامیے میں پھر وہی ہیرا پھیری کی گئی ہے یعنی یہ واضح نہیں ہے کہ آزاد مدارس کے فضلا کی بحالی کس پوسٹ کے لیے ہوگی کیوں کہ مدرسہ بورڈ ایکزام دینے کے لیے فوقانیہ تسلیم کررہاہے،مطلب صاف ہے کہ اس کے ذریعے ان مدارس کے فضلا کی بحالی کاراستہ روکا گیاہے،اب تک جس طرح فاضل کی سیٹوں تک بحالی ہوتی رہی ہے،نہیں ہوگی اور بہانہ بنایاجائے گا کہ آپ کی ڈگری تو مولوی کے برابر بھی نہیں ہے- اور اسے نام دیا جارہاہے نتیش کمار کی قیادت میں مدارس ملحقہ ترقی کا -یہ ترقی نہیں بلکہ تنزلی ہے-سنجیدہ ہوکر سوچنے اور توجہ دلانے کی ضرورت ہے-
عنوان اور اندر کی باتوں میں تضاد ہے،بلاجوازچمچہ گیری ہے،دھوکہ ہے،الیکشنی جھانسہ ہے،بے وقوف بنانے کی کوشش ہے-بہار سرکار کو نیا نوٹیفیکیشن لاکر اس کی وضاحت کرنی چاہیے کہ یہ تضاد کیوں؟اورتضاد نہیں تو بحالی کس پوسٹ کے لیے ہوگی؟اگر عالم، فاضل اور مولوی کی سیٹوں کے لیے بحالی نہیں ہوسکے گی تو یہ نتیش کمار کی قیادت میں تنزلی ہے یاترقی ہے؟

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*