بہار کونعرے بازی سے کیسے ملے گی نجات؟ -صفدر امام قادری

صدر شعبۂ اردو،کالج آف کامرس،آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ (بہار)

گذشتہ پانچ چھے ہفتوں کی گہما گہمی کے نتائج بعض کے حسبِ توقع اور بعض لوگوں کے تصوّرات کے بر خلاف سامنے آئے۔ الکشن کمیشن نے جو نتائج آخری طَور پر جاری کیے ، اس کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والے محاذ این۔ڈی۔اے کو واضح اکثریت حاصل ہوئی اور حکومت سازی کے لیے اس کی تیّاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ ایک بڑے حلقے میں چہ می گوئیاں جاری ہیں کہ یہ نتائج مرکزی حکومت کے اشارے سے سامنے آئے ہیں اور زبردستی راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس کے امّیدواروں کو دس بیس جگہوں پر ایک ہزار سے کم ووٹوں سے انتظامیہ نے شکست دلا کر حکومت سازی کا پروانہ این۔ڈی۔اے۔ کے سُپرد کر دیا۔ سب سے کم ووٹ سے راشٹریہ جنتا دل کے جس امّید وارکو شکست ہوئی، اسے این ۔ڈی۔اے سے محض بارہ ووٹ کم دکھائے گئے۔ ایسی شکایتیں اکثر اضلاع سے آئیں۔ پوسٹل ووٹوں کو گِننے اور نہیں گِننے کے بارے میں ضلعی حکم رانوں نے ہر طرح کی من مانی کی ۔ لوگ یہ الزام عائد کررہے ہیں کہ جہاں ان ووٹوں کی مدد سے این۔ڈی۔اے۔ جیت سکتا تھا، وہاں انھیں گِنا گیا اور جہاں این۔ڈی۔اے کی ہار ہو سکتی تھی، وہاں پوسٹل ووٹوں کو نہیں گِنا گیا۔
مگر اب فیصلہ سامنے آ چُکا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اپنی حتمی فہرست جاری کر دی ہے، حزبِ اختلاف کے افراد کی دوبارہ گنتی کی مانگ کو الکشن کمیشن نے قبول نہیں کیا۔ اس لیے اب یہ بات ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ہی کوئی نیا روپ حاصل کر سکے۔ ورنہ اب یہ طَے شدہ ہے کہ این۔ ڈی۔ اے۔ کا محاذ سب سے طاقت ور ہے۔حالاں کہ سب سے بڑی پارٹی کے طَور پر راشٹریہ جنتا دل سامنے آیا ہے۔ اب کی بار حکومت سازی حقیقتاً کانٹوں کا تاج رہے گی کیوں کہ پانچ ارکان اسمبلی ادھر سے اُدھر ہو جائیں یا کوئی چھوٹی پارٹی حلقے کو بدل لے یا کسی سیاسی پارٹی کے درجن بھر لوگوں سے استعفیٰ دلا دیا جائے تو اسی روز سرکار میدان سے باہر ہو جائے گی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے مدّھیہ پردیش میں اور اس سے پہلے کرناٹک میں اسے آزمایا ہے ۔ کون جانے کل کوئی ان کے خلاف بھی اسے استعمال کرلے۔ سیاسی مشاہدین کا کہنا ہے کہ اب کی بار جو حکومت بنے گی،اسے چین کی نیند حاصل نہیں ہو نی ہے۔ ہر رات یہ خواب دیکھتے ہوئے وزیرِ اعلا کو صبح کرنی ہوگی کہ وہ کسی ایک کو نامطمئن کرکے اقتدار پر قابض نہیں رہ سکتے۔
اس بار کے الکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی طاقت میں اضافہ ہوا ،تیجسوی یادو کی سیاسی لیڈر کے طور پر پہچان قایم ہوئی، کمیونسٹ پارٹی بالخصوص سی پی آئی ایم ایل کے وقار میں اضافہ ہوا ۔اِسی طرح نتیش کمار کی سیاسی قوّت میں اتنی گراوٹ آئی ہے کہ اب وہ بہادری کے ساتھ پہلے کی طرح کوئی بیان دیتے نظر نہیں آتے ہیں۔ اپوزیشن کی طرف سے کانگریس کی حالت اس سے بھی دگر گوں ہے۔ اب تو بہار کا کوئی لیڈر کچھ بولتا ہے اور نہ راہل گاندھی یا سونیا گاندھی اس سلسلے سے کوئی بیان دے رہے ہیں۔ اس انتخاب میں انھوں نے سب سے زیادہ اپنے وقار پر بٹّالگایا اور سارے کھیل ان کے خاندان کے خلاف ہو گئے۔ اس بار کا انتخاب ہر سیاسی جماعت نے لبھاونے نعروں کے سہارے لڑا۔ نریندر مودی نے تو پوری زندگی اسی طرح سے اپنی سیاست چلائی ہے تو وہ کوئی دوسراانتخابی حربہ کیوں آزماتے؟ ان کا ایک چھِپا ہوا مقصد نتیش کمار کی بولتی بند کرنا بھی تھا،وہ نتیش کمار کے ساتھ مل جل کر انتخابی تشہیر میں ساتھ ساتھ رہتے ہوئے اسے کرلینے میں کامیاب ہوئے۔ وہ پورے دیش کو نعروں پر چلا رہے ہیں۔ انھوں نے بِہارمیں خود کفیل بہار اور جنگل راج سے نجات کا پروانہ بانٹا۔ان کے دوسرے لوگ مندر مسجد اور ہندو مسلمان بھی کرتے رہے ۔ ان کی پارٹی کے صدر تو ہندستان پاکستان کرتے نظر آئے مگر مودی کے نعرے ہی چلے۔
نتیش کمار اپنے پندرہ برسوں کی کارکردگی کا رپورٹ کارڈ پیش کرتے رہے۔ شراب بندی اور اقتدار میں عورتوں کی حصّے داری کو وہ عوام کے سامنے پیش کرتے رہے۔ مودی اور نتیش کمار دونوں نے اپنی کسی ناکردگی پر ایک لفظ نہیں کہا۔ لاک ڈائون کے فیصلے سے ہندستانی عوام کو جو پریشانیاں ملیں، اس پر نریندر مودی نے کوئی بات نہیں کہی۔ نتیش کمار نے یہ بھی نہیںبتایاکہ پورے بہار میں شراب کی جو کالا بازاری چل رہی ہے، وہ کیا حکومت سے پوشیدہ ہے یا کرونا اور سیلاب کے معاملات میں حکومتِ بہار نے جس خوابِ غفلت کا مظاہرہ کیا، اس کا جواب ان کی کسی تقریر میں نہیں آیایعنی وہ نریندر مودی کی ہی طرح حقیقی سوالوں کو اپنے نئے لبھاونے نعروں میں دفن کرنے میں کامیاب ہوئے۔
نریندر مودی اور نتیش کمار کا انتخابی تشہیر میں راشٹریہ جنتا دل کی طرف سے سابق نائب وزیرِ اعلا تیجسوی یادو مقابلے کے لیے میدان میں اُترے۔ ابتدائی طور پر انھیں جیل میں قید سیاسی مجرم لالوٗ پرساد یادو کی محض اولا د تیجسوی سمجھا گیا اور خاندانی سیاست کے ترجمان کے طور پر ان کی امیج ظاہر کی گئی۔ نریندر مودی اور نتیش کمار بھی ان کی مخالفت میں جنگل راج کی یاد دِلاکر عوام میں اپنی بات پہنچانے میں کامیابی حاصل کرتے رہے مگر جیسے ہی تیجسوی یادو نے دس لاکھ بے روز گاروں کو ملازمت دینے کا اعلان کیا، یہ بات نوجوانوں کے دلوں میں اُترنے لگی ۔ دیکھتے دیکھتے تیجسوی یادو کے انتخابی جلسوں میں لاکھوں کی بھیڑ امڈنے لگی۔ ہفتہ روز قبل جسے نو آموز اور بے اثر سمجھا جا رہا تھا، اس کے لیے لاکھوں غریب اور جوان نعرے لگاتے ہوئے سڑک اور میدانوں میں نظر آئے۔ بھارتیہ جنتاپارٹی نے پہلے مذاق اُڑایا پھر ۱۹؍ لاکھ لوگوں کو روز گار دینے کا پھر دوسرا نعرہ لگایا۔ تیجسوی یادو کا نعرہ کام آ گیا اور اس انتخاب میں مرکز اور صوبائی حکومت کے ہزار جبر کے باوجود راشٹریہ جنتا دل سب سے بڑی پارٹی کے طَور پر اُبھر کر سامنے آئی۔
تیجسوی یادو نے دو سو سے زیادہ انتخابی جلسوں میں بے روز گاری کے سوالوں کو اُٹھایا اور بار بار یہ اعلان کیا کہ وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اپنی پہلی کابینہ میں دس لاکھ لوگوں کو ملازمت دینے کے فیصلے پر دستخط کریں گے مگر افسوس یہ ہے کہ انھوں نے اس سے آگے بڑھ کر کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ آخر یہ ملازمتیں کہاں کہاں دی جائیں گی اور یہ کیسے وضع ہوں گی؟ یہ سوال بھی بے جا نہیں تھاکہ آخر دس لاکھ لوگوں کو حکومت کہاں سے تنخواہ دے گی؟ کیا اس کے خزانے میں اتنی رقم جمع ہے مگر ایسے سوالوں کے جواب دینے کی کوشش نہیں ہوئی۔اب تو یہ مرحلہ مزید آسان ہو گیا کہ حکومت بھی انھیں نہیں ملی جس سے انھیں اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنچانے کا موقع مل سکے۔ اب ان سے بڑے نعرے باز این ۔ڈی۔اے کو بتانا ہے کہ ۱۹؍ لاکھ لوگوں کو کیسے ملازمت دی جائے گی؟
سیاسی اعتبار سے صوبۂ بہار جس قدر حسّاس اور سنجیدہ ہے مگر اس کا یہ عجیب مقدّر ہے کہ سب سے نکمّے سیاست دانوں سے اسے پالا پڑتا ہے۔ آزادی کے فوراً بعد کے دور میں صنعت کاری کی ایک خاص مہم چلی تھی مگر جب صوٗبے کا بٹوارہ ہوا، صنعت کے اعتبار سے سب سے بہتر علاقے جھارکھنڈ میں چلے گئے۔ گذشتہ دو دہائیوں میں نتیش کمار کی سربراہی رہی مگر یہ حقیقت ہے کہ صنعت کاری کے بارے میں نتیش کمار نے ایک لفظ نہ کہا اور نہ ایک قدم آگے بڑھے۔ بِہار میں جو گھریلوٗ صنعتیں ،ذاتی اور علاقائی سرمائے کے بنیاد پر صنعتیں مرمرکے جی رہی ہیں، نتیش کمار کو انھیں زندہ کرنے یا مُستحکم کرنے کے لیے آگے آنے کی کبھی ضرورت سمجھ میں نہیں آئی۔ اب بغیر صنعت کاری کے بے روز گاری سے مقابلہ کرنا آسمان سے تارے توڑنے کے مترادف ہوگا۔ نتیجے میں مزدوری کے لیے بھی لوگوں کو دَردَر کی ٹھوکریں اور دوسری ریاستوں میں بھٹکنے کے لیے مجبور ہونا پڑے گا۔
نتیش کمار کے عہد میں شعبۂ تعلیم کا سب سے بُرا حال ہوا۔ آدھے پیسوں پر اسکولوں میں اساتذہ کو ٹھیکے پر رکھنے کا باضابطہ آغاز ہوا۔ یہ تعلیم یافتہ بے روزگاروں کے خلاف انسان کُش اقدام تھا،یونی ورسٹیوں میں ۱۵؍ برس میں ۳؍ ہزار سے زیادہ لوگوں کو ملازمت نہیں دی جا سکی جب کہ یہ سچّائی ہے کہ پندرہ برسوں میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد یونی ورسٹیوںکی ملازمت سے سبک دوش ہوئے۔ اس زمانے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ وائس چانسلر کے انتخاب میں لاکھوں اور کروڑوں کے وارے نیارے ہو رہے ہیں۔ ایسی حالت میں انتخاب کیوں کر اچھّا ہوگا۔ آج یہ ایک عام بات ہے کہ اُتّر پردیش اور دوسرے صوبوں کے اساتذہ بڑی تعداد میں بہار کی یونی ورسٹیوں کے انتظام کاربنائے گئے ہیں۔ لوگ کھُلے بندوں یہ بات بھی کہتے سنے گئے ہیں کہ بنارس، لکھنؤ اور دلّی میں ہی لین دین کے کام پایۂ تکمیل تک پہنچ جاتے ہیں۔ ایک بار راجیہ سبھا میں ایک پارلیمنٹ کے ممبر نے بہار کے اُس زمانے کے گورنر یعنی چانسلر پر رشوت خوری کا الزام عائد کیا تھا۔ نتیش کمار کی حکومت نے یونی ورسٹیوں کو بیمار کے طَور پر چھوڑدیا ہے۔
نتیش کمار بڑی صاف ستھری زبان بولتے ہیں اور ممکن حد تک قواعد اور بیان کی غلطیوں سے پرہیز کرتے ہیں،اس لیے طرح طرح کے نعرے مختلف ادوار میں گڑھتے رہے۔ کبھی وہ مرکز میں وزیرِ زراعت ہوتے تھے۔ بہار میں انھوں نے زراعتی روڈ میپ کا منصوبہ لوگوں کے سامنے رکھا مگر بہار میں کوئی سبز انقلاب نہیں آ یا۔ زراعتی صوبہ ہونے کی وجہ سے اگر یہاں کے لوگوں کو حکومت کی پُشت پناہی حاصل ہوتی تو کسانوں کو اپنی زمینیں بنجر نہیںچھوڑنی پڑتی یا مزدوری کرنے کے لیے دوسرے صوبوں کا رُخ نہیں کرنا ہوتا۔ نتیش کمار کے پاس پندر ہ برس تھے مگر لالوٗ یادو کی ناکامیوں کا تذکرہ اور روز روز نئے نعروں کی پیش کش میں ہی اتنے دن نکل گئے۔
کون جانے کہ بہار کی سیاسی صورتِ حال میں واضح تبدیلیاںکب آ جائیں؟ حکومت تو شاید ہی کوئی پانچ سال چلا پائے۔ اُتھل پُتھل کے آثار ابھی سے نظرآرہے ہیں۔ان امکانات سے بھی انکار نہیں کرنا چاہیے کہ آخر آخر کہیں دوبارہ الکشن کے لییراستہ نہ ہموار ہو جائے مگر اب الکشن میں صرف نعروں سے شاید ہی کام چلے۔ اس بار کے انتخاب میں نریندر مودی اور نتیش کمار کو عوامی سطح پر بڑے پاپڑ بیلنے پڑے ہیں۔ ساری طاقت لگانے کے بعد بھی سیٹیں ناپ تول کرہی جمع کی جاسکیں۔ مطلب واضح ہے کہ آنے والے وقت میں ایک نئی احتسابی سیاست شروع ہو سکتی ہے ۔ نتیش کمار اگر یہ سوچیں کہ صرف چراغ پاسوان کی وجہ سے ان کی سیٹیں کم ہوئیں تو یہ اور خطرے کی بات ہوگی۔ راشٹریہ جنتا دل نے سامنے کی بہت ساری سیٹیں اس لیے ہاریں کیوںکہ ان کے روایتی ووٹروں نے اپنی ذات برادری کے علاوہ کسی دوسرے امّید وار کو ووٹ نہیں دیا۔یہ خطرہ اگلی بار بھی سامنے آئے گا اور اس سے اُلٹا بھی ہو سکتا ہے۔ کانگریس کو ابھی سے یہ تیّاری کرنی چاہیے۔ وہ کون سی دس بیس نئی جگہوں سے میدان میں اُتر سکتی ہے اور فتح یاب ہو سکتی ہے۔ بہار کے کانگریسی لیڈروں کو اب علاقائی پارٹی کی طرح میدان میں خود کو اُتارکر جیتنے کی تیّاری کرنی چاہیے ورنہ راہل گاندھی کی طرف تاکتے رہنے سے اگلی بار اب وہ دَہائی کی جگہ اِکائی میں سِمٹ جائیں گے۔ اگلا انتخاب سیاسی لیڈروں کا اصلی امتحان ثابت ہوگا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*