بہار کا تعلیمی نظام:ہرآنکھ میں آنسو،ہر شخص پریشان-عبدالغنی

ریاست بہار میں پرائمری درجات سے لے کر سکنڈری،سینئر سکنڈری اور ٹین پلس ٹو اسکولوں میں سالہال سال سےاساتذہ کی ہزاروں اسامیاں خالی ہیں، جس سے طلبہ کا تعلیمی نقصان ہورہا ہے۔ کئی تعلیمی سیشن کا آغاز اور اختتام بغیر اساتذہ کے ہی انجام پاگیا ہے اور تعلیمی نظام کی خستہ حالی کا یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے، جس سے بہار کا تعلیمی منظرنامہ اور متعلمین کا بیڑہ غرق ہوگیا ہے۔ تازہ معاملہ رواں سال کے جنوری ماہ میں منعقدہ بہار اہلیتی امتحان برائے اساتذہ کی منسوخی کا ہے ،اٹھائیس جنوری کو منعقد ہونے والے اس امتحان میں شریک امیدواروں کی بحالی سے خالی پڑی اسامیاں کافی حد تک پر ہوسکتی تھیں۔ جس سے طلبہ کے ساتھ ساتھ ریاست کے تعلیمی نظام میں نکھار پیدا ہوتا اور بےسمتی کے شکار نظام کہن میں تازگی پیدا ہوتی، مگر اے کاش!
ریاست کے زیرانتظام اور مخلتف اداروں کے زیراہتمام منعقد ہونے والے بیشتر مسابقاتی امتحانات میں امیدواروں کو مخلتف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ،کہاجاتاہے کہ بہار میں بحالی کے لیے امیدواروں کوکئی ایک جاں گسل مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے ،یعنی امیدوارں کو پہلے امتحان میں کامیاب ہونا ہوتا ہے پھر نتائج جاری ہوتے ہیں ،اس کے بعد کورٹ میں مقدمہ دائر ہوتا ہے تب جاکر بحالی ہوتی ہےاور پھر بحالی ہوبھی جائے تومعاملہ اتنا گنجلگ ہوتا ہے کہ بالآخر امیدواروں کی بحالی ہو ہی نہیں پاتی ہے۔ بہار کے تعلیمی نظام پر ہر حساس شہری خون کے آنسو رونے پر مجبور ہے کہ یہاں تعلیم کے نام پرشعبدہ بازی کئی سالوں سے جاری ہے ۔استاد معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ،ملک کے مستقبل کی تعمیر کا بھاری بھرکم بوجھ انہی اساتذہ کے کاندھے پر ہوتا ہے ۔ بہار علم و آگہی کا مظہررہا ہے۔ یورپ کی آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی سے بھی کئی صدی قبل ریاست بہار کی نالندہ یونیورسٹی تعلیم و تعلم کا ایک اہم اور عالمی مرکز ہوا کرتی تھی۔ گویا بہار تعلیم کا عالمی مرکز تھا اور اس وقت نالندہ یونیورسٹی،وکرم شیلا یونیورسٹی دنیا کے ممتاز تعلیمی مراکز میں شامل تھیں۔ مگر اب حالات یکسر تبدیل ہوگئے ہیں۔ تعلیمی ترقی کے دور میں بھی ریاست کی تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ نہیں ہوسکا ہے اور تعلیم کا شعبہ دن بدن روبہ زوال ہورہا ہے۔اس میں اساتذہ کی اسامیوں کو پرکیا جانا،نصابی کتب کی دستیابی اور بنیادی انفراسٹرکچر جیسے اہم ایشوز ہیں جو بہار کے لئے کبھی موضوع بحث نہیں بنے۔ کیونکہ جات پات کی بنیاد پر الیکشن میں شہ اور مات کے کھیل کھیلنے والے سیاسی بازیگروں کے لئے ہنوز” تعلیم” ترجیحی اہداف میں شامل نہیں ہے۔ بہار کی اسکولی تعلیم کی خستہ حالی کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ قومی سطح پر جو رپورٹیں پیش کی جاتی ہیں، ان میں بہتری آسکے ،فی الحال صورتحال یہ ہے کہ بہار میں اسکولی نظام تعلیم کے تعلق سے منفی رپورٹ کے سبب طلبہ نفسیاتی عوارض کے شکار ہورہے ہیں۔ محکمۂ فروغ انسانی وسائل حکومت ہند کی ایک رپورٹ کے مطابق حق تعلیم ایکٹ 2009 کی فہرست میں پرائمری اور اپرپرائمری اسکولوں میں طالب علموں اور ساتذہ کا تناسب طے کیا گیا ہے، اس کے مطابق پرائمری کلاس ایک سے پانچ تک کے کلاس کے لئے 30 طالب علموں پر ایک استاد ہونا چاہیے کلاس 6 سے 8 میں کم از کم 35 طالبعلموں پر ایک استاد ہونا چاہیے، بہار میں کلاس پانچ تک 38 پر ایک استاد اور اپر کلاس میں 39 طالبعلموں پر ایک استاد ہیں ۔ یعنی طلبہ اور استاد کے تناسب کو برابر کیا جانا نہایت لازم ہے۔ سال 2018 میں ریاست کے 2569 مڈل اسکولوں کو ہائی اسکول میں اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ انصاف کے ساتھ ترقی کا نعرہ دینے والے نتیش حکومت کے عزائم میں شامل ہے کہ بہار کی ہرایک پنچایت میں ایک ہائی اسکول قائم ہونا چاہیے۔ لہذا آنا فانا میں مڈل اسکولوں کو ہائی اسکول میں اپ گریڈ تو کردیا گیا۔ مگر انفراسٹرکچرکا ڈیولپمنٹ اور ان نو اپ گریڈیڈ اسکولوں میں اساتذہ کی بحالی ہنوز نہیں ہوسکی ہے، جس سے ان اسکولوں میں زیرتعلیم لاکھوں طلبہ کو نقصان ہورہا ہے ۔ دوسری طرف یہ اہل اور قابل ہنرمند اساتذہ امیدواروں کے ساتھ بھدا مذاق بھی ہے، حکومت ٹریننگ یافتہ صلاحیت مند اساتذہ کی خدمات نہیں لے پارہی ہے اور ریاست کے بیش قمیتی اذہان کسمپرسی اور بیروزگار کی مار جھیل رہے ہیں۔
مہلک وبا کورونا وائرس کی وجہ سے جاری لاک ڈاؤن اور معاشی ایمرجنسی کے دور میں امید ہی ایک واحد سہارا ہے لوگوں کا۔ مگر بہار اسکول اگزامنیشن بورڈ نے گزشتہ 16 مئی کو ایک دھماکہ خیز آرڈر جاری کرتے ہوئے ہزاروں ایسے لوگوں کے ارمانوں کا خون کردیا جنھوں نے دن رات محنت کرکے ایس ٹی ای ٹی 2019 کا امتحان دیا تھا۔ مذکورہ امتحان میں شریک امیدوار نتائج کے تعلق سے ادھیڑبن میں تھے۔ جب بورڈ کی جانب سے آنسر کی جاری ہوگئی، تو امیدواروں کی آس بندھی کہ دیر سویر ہی سہی ریزلٹ آجائےگا مگر ہوا اس کے برعکس، بورڈ نے لیٹر جاری کرتے ہوئے بہار میں ایس ٹی ای ٹی کا امتحان منسوخ کردیا ہے ۔اس سے بہار کے ہائی اسکولوں میں مختلف مضامین کے 34 ہزار اساتذہ کی بحالی ایک بار پھر معلق ہوگئی ہے ۔ بورڈ کے ذریعے جانچ کمیٹی کی رپورٹ میں کئے گئے انکشافات سے حکومتی اقدامات کو شدید دھچکا لگا ہے ۔ حکومت بہار معیاری تعلیم کے لئے ہزار جتن کررہی ہے ، مگر بورڈ کے اہلکاروں اور کرسی کے نشے میں مخمور امتحانی پرچہ ترتیب دینے والے افسران الم غلم سوالات ترتیب دیتے ہیں ،جس سے تعلیمی پسماندگی کی کھائی مزید گہری ہوگی اور یہ ریاست کے لئے نیک فال نہیں ہے۔ سابق آئی ایس افسر نیل کنول کی صدارت میں تشکیل شدہ چار رکن کمیٹی نے جو رپورٹ پیش کی ہے وہ چونکا دینے والی ہے۔ بہار بورڈ نے یہ فیصلہ رواں سال 28 جنوری کو منعقدہ امتحان میں بدعنوانی کے پیش نظر لیا ہے،اس میں 2 لاکھ 43 ہزار 141 امیدواروں نے شرکت کی تھی ۔ بورڈ نے امتحان کو از سر نو منعقد کرنے کے حوالے سے حکومت کو ایک تجویز بھیجی ہے۔ اب محکمۂ تعلیم اس بات کا حتمی فیصلہ کرے گا کہ دوبارہ ایس ٹی ای ٹی کا امتحان کب لیا جائے۔ کمیٹی نے اپنی جانچ رپورٹ میں سہرسہ ،گیا ،پٹنہ اور گوپال گنج میں امتحان کے دوران بدنظمی کا ذکر کرتے ہوئے سوالات کے وائرل ہوجانے کا ذکرکیا ہے ،اسی کے ساتھ امتحان کی منسوخی کی توجیہ پیش کرتے ہوئے ہےکہا ہے کہ سائنس مضامین کے امیدواروں سے سائنس ، نباتیات ، زولوجی اور طبیعیات کے سوالات پوچھے گئے ہیں، گریجویشن سطح پر کیمسٹری ، نباتیات اور حیاتیات کا مطالعہ امیدوار کرتے ہیں، اسی طرح انٹرمیڈیٹ سطح پر بھی تمام امیدواروں کو فزکس کا مطالعہ کرنا ضروری ہے ،ایسی صورتحال میں سائنس کے ان تمام مضامین سے سوالات کرنا مناسب ہوگا۔ ریاضی کے مضمون کے امیدواروں کے لئے انڈرگریجویٹ سطح پر ریاضی ،طبیعیات اور کیمسٹری کا مطالعہ کرنا ضروری ہے اور یہ بالکل مناسب ہے اگر صرف ریاضی کے مضامین سے ریاضی کے مضامین پوچھے جائیں۔ سنسکرت کے مضمون میں ہندی یاسوشل اسٹڈیز کا سوال نہیں پوچھا گیا ہے۔51 سے 150 تک کے تمام سوالات سنسکرت کے مضمون کے نصاب سے متعلق ہیں۔ جہاں تک سماجی سائنس کا موضوع ہے جس میں امیدواروں کومعاون سبجیکٹ کے تحت ہسٹری ، جغرافیہ ، پولیٹیکل سائنس اور اکنامکس کے کسی بھی دو مضامین میں شرکت کی ضرورت ہوتی ہے ، جس میں ایک مضمون ہسٹری یا جغرافیہ کا ہونا ضروری ہے۔ سوالیہ پیپر چاروں مضامین سے پوچھا گیا ہے جو مناسب ہے ، لیکن سوال پیٹرن کو چار گروپوں میں تقسیم کیا جانا چاہئے تھا ، جس میں امیدوار کے لئے لازم ہے کہ وہ تاریخ اور جغرافیہ کے کسی بھی مضمون کا جواب دے۔ باقی تین مضامین میں سے کسی ایک مضمون کا جواب دینے کا اختیار ہوگا ، تاہم سوالیہ پیپر ترتیب دینے والوں نے چاروں مضامین کو الگ الگ گروپوں میں تقسیم نہیں کیا اور سوشل سائنس کے تمام سوالات کو ایک گروپ میں ڈال دیا جو نہایت غلط ہے۔
جانچ کمیٹی نے دیانت داری کے ساتھ امتحانات میں بدنظمی اور بدعنوانی کے پیش نظر امتحان کو منسوخ کرنے کی سفارش کی جس پہ بہار بورڈ نے فیصلہ بھی لے لیا ہے ۔ بہار اسکول اگزامنیشن بورڈ کی کارکردگی پہ انہی وجوہات کے سبب سوالیہ نشان لگتا رہا ہے اب جبکہ امتحان منسوخ ہوگیا ہے ،اس میں کئی ایک پہلو قابل غور ہیں۔ اول یہ کہ جب امتحان کو رد ہی ہونا تھا تو انسر کی(جوابی کنجی) ریلیز کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ دوئم بورڈ کے چیئرمین کی جانب سے باربار یقین دہانی کرانا کہ جلد ہی ریزلٹ جاری کردیا جائےگا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے ،اس میں دولاکھ سے زائد امیدواروں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے ،جبکہ برسوں سے ہائی اسکولوں کے خالی عہدوں کے پر ہونے کا امکان بھی معدوم ہوگیا ہے۔ لاکھوں افراد استحصال کی چکی میں پس جائیں گے ۔ امیدواروں کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے ۔ چونکہ یہ آواز بھی اٹھ رہی ہے کہ سرکار نے حیلہ بہانہ سے امتحان رد کروایا ہے۔ لہذا حکومت بہار کو مدبرانہ انداز میں منعقدہ امتحان کی منسوخی،عدم منسوخی اور نئے سرے سے امتحان کے انعقاد کے مضمرات پہ فیصلہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں خاطی افسران کے خلاف سخت کارروائی کی اشد ضرورت ہے۔ اگر بروقت تادیبی کارروائی نہیں ہوئی، تو محکمۂ تعلیم اپنے دامن سے دیوار پہ چڑھ کر نقل نویسی جیسے بدنما داغ کو دھو نہیں پائےگا نیز مزید تاخیر سے بہار کے اسکولوں میں تعلیم و تعلم کا بحران پیدا ہوجائےگا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)