بہار کا پنچایتی الیکشن اور سماجی انتشار ـ محمد اللہ قیصر

 

بہار میں سماجی تانے بانے کو بری طرح ادھیڑ کر رکھ دینے والے پنچایتی الیکشن کی تاریخیں قریب آرہی ہیں، ابھی سے جوڑ توڑ کے ساتھ سماجی تناؤ بھی بڑھنے لگا ہے، اس الیکشن کے ترقیاتی فائدے جو بھی ہوں لیکن سماجی ہم آہنگی کےلئے اسے باب الفتن کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا، مل جل کر رہنے والے لوگوں کو گاؤں، محلہ، برادری، خاندان، اور رشتہ کی سطح تک تقسیم کردیتا ہے، گالی، گلوچ، دھمکی، دادا گری، اپنے عروج پر ہوتی ہے، گاؤں کا غریب طبقہ لاچاری و ناداری، اور بے بسی کی تصویر بن کر دبنگوں کے خوف سے سہم کر جینے میں ہی عافیت سمجھتا ہے، اگر کوئی سماجی طور پر کمزور ہے، تو اس میں یہ ہمت کبھی نہیں آسکتی کہ کھل کر اپنی آزادی کا استعمال کرے، اور جسے چاہے اسے منتخب کرے، چونکہ اسی سماج میں اسے رہنا یے، لہذا وہ ڈرتا ہے کہ کہیں اسے فلاں دبنگ کے عتاب کا شکار نہ ہونا پڑے، حقیقت یہ ہے کہ گاؤں کی دنیا میں رہنے والے شریف اور مہذب لوگوں کے لئے بھی یہ زمانہ بڑی کشمکش کا ہوتا ہے، وہ دبنگوں کی دبنگئی کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں لیکن الجھ کر وقت کے ضیاع سے بچنا چاہتے ہیں، لہذا اپنے "کمفرٹ زون” میں بچ بچا کر رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں، میرا خیال ہے غریبوں کی گردن پر پاؤں رکھ کر کرسی کے لالچی، جھوٹی شان، اور "فرضی”طاقت کے نشہ میں چور، ظلم کے خوگر کی زیادتیوں پر خاموشی بذات خود ایک جرم ہے، سماج کے شریف اور تعلیم یافتہ طبقہ کو ایسے مسائل میں کھل کر بولنا چاہئے، اور اگر کوئی زیادتی کی کوشش کرتا ہے تو اسے سبق سکھانے کی ہر ممکن اور جائز کوشش ہونی چاہئے، تاکہ کمزور طبقہ محفوظ رہ سکے، نام کیلئے کچھ سیٹیں سماج کے دبے کچلے اور کمزور طبقہ کیلئے مخصوص ہوتی ہیں، لیکن حرام خوری کے رسیا، سیاسی شعبدہ باز یہاں بھی ایسی چالیں چلتے ہیں کہ پاور ان کے ہاتھ میں رہے، وہ رشوت، لالچ، دھمکی، سب کچھ آزماتے ہیں،

پنچایتی الیکشن میں کسی شریف اور پڑھے لکھے کی کامیابی تقریبا محال ہے، عموما سماج کے چھٹے بد معاش چند پیسہ کمانے کے بعد، شہرت کی بھوک مٹانے اور اقتصادی حالت مزید مضبوط کرنے کیلئے اس الیکشن میں حصہ لیتے ہیں،

یوں تو کسی بھی الیکشن میں شر وفساد کا ایک سیلاب ہوتا ہے، لیکن اس چھوٹے الیکشن میں سماجی تانا بانا جس قدر تتر بتر ہوتا ہے اس کی کوئی نظیر نہیں، سماج کئی اکائیوں میں تقسیم ہوجاتا ہے، ہر شخص دوسرے کی نگاہ میں مشکوک، جو ووٹ نہیں دے اس کی حیثیت دشمن جیسی، اس کا ہر قدم مشتبہ، نشست و برخاست، شناساوں سے ملاقات، حتی کہ مریض کی عیادت اور موت پر تعزیت بھی شک کے گھیرے میں آجاتی ہے، بعض جگہ ایسا دیکھا گیا ہے، کہ لوگوں کی شخصی آزادی تقریبا چھن جاتی ہے، کیوں کہ مخالفین کی نگاہ آپ کے ہر قدم پر ہوتی ہے، اس کی ہر تنہائی کا حساب لیا جاتا ہے، جو انتہائی کرب ناک صورت ہوتی ہے، دنیا بھر میں "شخصی آزادی” پر گفتگو ہوتی ہے، ہر کوئی اس کی حفاظت میں دلائل دیتا ہے، پرسنل فریڈم کو چلینج کرنے کی کہیں بھی اجازت نہیں، لیکن یقین کیجئے کہ اس پنچایتی الیکشن میں لوگوں کی شخصی آزادی بالکل داؤ پر لگ جاتی ہے، کمزور انسان چاہ کر بھی اپنی شخصی آزادی کا دفاع نہیں کر سکتا، حکومت اور سماج کو اس پر سخت نوٹس لینی چاہئے، ووٹ کی آزادی نام کیلئے ہوتی ہے، آپ اگر کمزور ہیں تو اپنے من چاہے امیدوار کو ووٹ دینے کا خیال دل سے نکال دیجئے، دبنگ جسے چاہے گا اسے منتخب کرنے پر آپ کی مجبور ہوں گے۔

منافقت کی حقیقی شکل دیکھنی ہو تو اس الیکشن میں دیکھئے، ہر کوئی اس خوف سے کہ کہیں دوسرا ناراض نہ ہوجائے، ہر کسی کو وفاداری کا ثبوت پیش کرتا نظر آتا ہے،

حکومتی ترقیاتی کاموں کو سماج کے نچلے درجہ تک پہونچانے کا، ایک بہترین فارمولہ ہے یہ الیکشن، حکومت نے استحصال روکنے اور صاف ستھرے الیکشن کیلئے قوانین بھی بنائے ہیں، لیکن سارے قوانین دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، برائی زہریلے ناگ کی طرح پھن پھیلائے ڈراتی رہتی ہے، جب تک سماج میں بیداری نہیں آئے گی، کوئی قانون اپنا کام نہیں کرسکتا۔

ان تمام بیماریوں کے سد باب کیلئے حکومت کے پاس قوانین ہیں، لیکن سماجی بیداری کے بغیر کوئی قانون کسی برائی کو نہیں روک سکتا، ان برائیوں کے سد باب کےلئے سب سے پہلے سماج کو بیدار ہونا پڑے گا، ظلم و زیادتی اور دھمکیوں کے آگے سرنگوں ہونے کی بجائے ڈٹنا ہوگا، اگر سماج کا ہر فرد ٹھان لے کہ کسی دبنگ، اور سماجی انتشار کا سبب بننے والوں کو منتخب نہیں کرنا ہے، تو سماج بہت ساری برائیوں سے محفوظ ہو سکتا ہے۔