بہار کے تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں! – ڈاکٹر مشتاق احمد

رجسٹرار،للت نارائن متھلا یونیورسٹی، دربھنگہ(بہار)

عالمی سطح پر کورونا کا زور کم نہیں ہوا ہے اور اپنے وطنِ عزیز ہندوستان میں بھی اس مہلک وبا کے مضر اثرات کا دائرہ بڑھتا ہی جا رہا ہے کہ لمحہ بہ لمحہ کورونا متاثرین کے ساتھ ساتھ اس مہلک وباسے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔لیکن گذشتہ چھ ماہ سے ملک کے تعلیمی اداروں میں کلاس روم تعلیم کی پابندی کو اب مرحلہ وار آہستہ آہستہ ختم کیا جا رہاہے ۔قومی سطح پر بھی مختلف مقابلہ جاتی امتحانات بھی منعقد کئے جا رہے ہیں اور یونیورسٹیوں وکالجوں کے طلباء کے ملتوی امتحانات بھی لئے جانے لگے ہیں ۔اس کی وجہ سے اب تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں تیز ہورہی ہیں ۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے میں یہ ہدایتیں دی جاتی ہیں کہ اسکولی بچوں کے گارجین کی صواب دید پر منحصر ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجیں یا نہ بھیجیں۔ کیوں کہ آن لائن تعلیم کی سہولت ابھی بحال رکھی گئی ہے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ اب چھوٹے بچے گھروں میں بند رہتے ہوئے اوب چکے ہیںاور وہ اسکول جاناچاہتے ہیں ۔اس لئے ڈائرکٹر ہائر سکنڈری ، حکومتِ بہار کی جانب سے ایک نوٹی فیکیشن بھی جاری کیا گیا ہے جس میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ درجہ اول سے بارہویں تک کی تعلیم دینے والے ادارے اب کھلیں گے اور طلباء اپنے اساتذہ سے نصابی مسائل کے حل کے لئے رابطہ کر سکیں گے۔ اگرچہ اس نوٹیفیکشن میں بھی کوویڈ۔19کے اصول وضابطے کی پابندی کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور تعلیمی اداروں کے سربراہ سے یہ بھی گذارش کی گئی ہے کہ طلباء کو مختلف گروپوں میں تقسیم کرکے انہیں اسکول بلائیں تاکہ کیمپس میں بیک وقت تمام طلباء جمع نہ ہو سکیں۔ واضح ہو کہ حکومتِ بہار نے پہلے بھی تعلیمی اداروں کے لئے اس طرح کے ہدایت نامے جاری کئے تھے کہ اسکول اورکالجوں میں بڑی بھیڑ جمع نہ ہو سکے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ امتحان فارم بھرنے اور پھر رجسٹریشن وداخلے کے آغاز کی وجہ سے طلباء کی بھیڑ کا جمع ہونا فطری عمل ہے ۔ البتہ اب تک کلاسز ملتوی تھے اور اساتذہ آن لائن تعلیم دے رہے تھے۔ لیکن اس نئے نوٹی فیکشن کی روشنی میں اساتذہ کو بھی اسکول اور کالج آنا ہوگا کیوں کہ بہار کے اکثر کالجوں میں گیارہویں اور بارہویں درجے کی بھی پڑھائی ہوتی ہے ۔ البتہ فی الوقت گریجویشن کے طلباء کے لئے کلاس بند رہیں گے اور آن لائن کے ذریعہ ہی ان کی نصابی ضروریات پوری کی جائیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست بہار کی تمام یونیورسٹیوں میں اب نئے سیشن کے لئے داخلے کا عمل شروع ہوگیا ہے اور امتحانات کی تاریخ بھی طے ہونے لگی ہے ۔اکتوبر کے مہینے میں ملتوی امتحانات کو مکمل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔
بہار کی اکثر یونیورسٹیوں میں سیشن کے تاخیر ہونے کا اندیشہ ہے اس لئے کورونا کی وباء کے مضر اثرات کے خطرات سے واقفیت کے باوجود تعلیمی سرگرمیاں تیز کی گئی ہیں ۔ گذشتہ کل ریاستی سطح کے بی ایڈ میں داخلہ کے لئے انٹرنس امتحان کا اہتمام کیا گیا اور اس کے لئے پوری ریاست میں 278امتحان مراکز بنائے گئے تھے جن میں ایک لاکھ ،بائیس ہزار ، تین سو تیتس امیدواروں نے حصہ لیا ۔ واضح ہو کہ گذشتہ کئی سالوں سے اساتذہ تربیتی کالجوں میں داخلے کے لئے ریاستی سطح کا ٹسٹ لیا جانے لگا ہے ورنہ پہلے گریجویشن پاس کرنے والے طلباء اپنی خواہش کے مطابق بی ایڈ کالجوں میں داخلہ لیا کرتے تھے۔لیکن حکومت کا موقف ہے کہ بی ایڈ کی تعلیم کو معیاری بنانے کے لئے اس طرح کا قدم اٹھایا گیا ہے ۔ ریاست بہار میں بی ایڈ کورس میں 35ہزار سیٹیں ہیں اور اس کے لئے ہر سال لاکھوں امیدوار ہوتے ہیں ۔ جب کہ ریگولر موڈ میں اور فاصلاتی نظام کے ذریعہ بھی بی ایڈ کی پڑھائی ہوتی ہے لیکن دونوں کے لئے مشترکہ داخلہ ٹسٹ میں حصہ لینا لازمی قرار دیا گیاہے ۔ ہر سال یہ امتحان مارچ میں ہوتا تھا اور جون جولائی تک داخلے کاعمل پورا ہو جاتا تھا لیکن اس سال کورونا کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے لیکن جاری کیلنڈر کے مطابق30ستمبر کو اس کا نتیجہ آجائے گا اور 3اکتوبر سے23نومبر تک آن لائن کونسلنگ اور اسپاٹ کونسلنگ کے بعد 18دسمبر تک داخلے کے عمل کو پورا کرلیا جائے گا تاکہ جنوری سے ان طلباء کی پڑھائی شروع ہو سکے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مشترکہ داخلہ ٹسٹ کی وجہ سے بی ایڈ کالجوں کوبھی آسانی ہوگئی ہے کہ ٹسٹ کی بنیاد پر ہی انہیں داخلہ لینا ہے اور داخلہ کے لئے کامیاب ہونے والے طلباء کی لسٹ نوڈل ایجنسی کے ذریعہ کالجوں کو مہیا کرائی جاتی ہے۔اس امتحان کو صاف وشفاف بنائے رکھنے کے لئے ہر سال الگ ا لگ یونیورسٹیوں کو نوڈل ایجنسی بنایا جاتاہے۔ اس سال اس امتحان کے انعقاد کے لئے للت نرائن متھلا یونیورسٹی ، دربھنگہ کو نوڈل ایجنسی بنایا گیا تھا جس نے22ستمبر کو پوری ریاست میں 278امتحان مراکز بنائے تھے ان میں پٹنہ میں 84، گیا میں 19، بھاگلپور میں 26، مظفرپور میں 30، آرہ میں 17، چھپرہ میں 10، دربھنگہ میں36، مدھے پورہ میں24، مونگیر میں 10، پورنیہ میں22مراکز قائم کئے گئے تھے۔ ان تمام مراکز پر کوویڈ۔19کے اصول وضابطے کی پابندی کے ساتھ امتحان منعقد کئے گئے ۔
مختصر یہ کہ اب ریاست بہار کے تعلیمی اداروں میں امتحانات اور داخلے ورجسٹریشن کے آغاز کی وجہ سے طلباء کی آمد ہونے لگی ہے اور تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں ۔ گذشتہ مارچ سے اب تک بند تعلیمی اداروں میں سناٹے پھیلے ہوئے تھے ،اب طلباء کی آمد کے بعد حسبِ معمول زندگی لوٹ رہی ہے۔اساتذہ کی آمد بھی یقینی ہونے لگی ہے ۔یہ اور بات ہے کہ اب بھی ہر ایک چہرے پر کورونا کی خوفناکی نمایاں ہے کہ ہر روز اس وباء سے متاثرین اور مہلوکین کی تعداد میں اضافہ ہو رہاہے ۔ چوں کہ اب تک اس کی کوئی دوا بھی وجود میں نہیں آئی ہے اس لئے ہر شخص اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر ہی گھر سے باہر نکلنے پر مجبور ہے ۔بہار میں اسی نومبر ماہ میں اسمبلی انتخاب ہونا ہے اس کے لئے بھی انتخابی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں ۔ اسکول وکالج کے اساتذہ کو انتخابی عمل میں شامل کیا جاتا ہے جس کی ٹریننگ بھی شروع ہوگئی ہے۔ اس کی وجہ سے بھی اب سڑکوں پر بھیڑ دکھائی دینے لگی ہے ۔ مگر سرکاری ملازموں کی یہ مجبوری ہے کہ انہیں سرکاری احکامات کی تعمیل کرنی ہے ۔مگر سچائی یہ ہے کہ ہر شخص ڈرا سہما اور متفکرہے کہ نہ جانے کورونا کی وباء کب اسے اپنا شکار بنا لے۔اگرچہ حکومت اپنے ہر اعلامیے میں یہ ہدایت جاری کرتی ہے کہ گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک کا لازمی طورپر استعمال کریں لیکن سچائی یہ ہے کہ لوگ باگ کی جانب سے اس میں لا پرواہی بھی برتی جار ہی ہے اور طبی جانچ کا عمل بھی سست روی کا شکار ہوگیا ہے ۔ اس لئے بھی کورونا کا دائرہ بڑھتا جارہا ہے۔ظاہر ہے کہ حکومت کے پاس بھی کوئی ایسا نسخہ نہیں ہے کہ اس پر قابو پایا جا سکے اور سرکاری کام کاج کا ہونا بھی ضروری ہے کہ بہت دنوں تک سرکاری دفاتریا تعلیمی ادارے کو بند رکھنا بھی مضر ہے ۔ایسے وقت میں انفرادی حفاظتی انتظامات اور احتیاطی قدم ہی اس وباء سے بچنے کا بہتر حل ہے ۔اگرچہ حکومت کی جانب سے خصوصی مہم بھی چلائی جا رہی کہ لوگ ماسک کا استعمال لازمی طورپر کریں اور اس کے لئے ماسک نہ لگانے والوں سے جرمانہ وصول کیا جا رہاہے اور حکومت کو اس فنڈ میں کروڑوں کی آمدنی ہورہی ہے ۔ لیکن اب بھی صد فیصد لوگ ماسک کا اہتمام نہیں کررہیں ہیں۔ بالخصوص سرکاری اسپتالوں ، کورٹ کچہریوں ، ضلع اور بلاک دفاتر میں یومیہ کاموں کو انجام دینے کے لئے لوگوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے اور وہاں اکثریت ماسک کا استعمال نہیں کرتی ۔ ایسی صورت میں اس وباء کے مضر اثرات کا دائرہ بڑھنا یقینی ہے اس لئے صرف سرکاری احکامات سے ہی اس بیماری پر قابو نہیں پایا جا سکتا بلکہ عوام الناس کی جانب سے بھی یہ مہم تیز ہونی چاہئے کہ بغیر ماسک کے نکلنے والوں پر نکیل کسیں کیوں کہ یہ مہلک وباء صرف فردِ واحد کو بھی متاثر نہیں کرتی بلکہ ایک متاثر شخص پورے معاشرے کے لئے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔