بہار کے انتخابی نتائج:پکوڑے میں دَم ہے!-محمد شرافت علی

بہار کے انتخابی نتائج آگئے۔این ڈی اے پھرجیت گئی اورعظیم اتحاد یعنی ’مہا گٹھ بندھن‘ کے حصے میں ہار ملی۔اپوزیشن کے ذریعے انتخابی نتائج میں دھاندلی اور گڑبڑی کے الزامات بھی لگائے گئے،مگراسی درمیان بی جے پی نے ’کمزور‘ نتیش کی تاجپوشی کااعلان رات گئے یہ کہتے ہوئے کر دیاکہ 122 کے جادوئی نشان کو این ڈی اے نے عبورکرلیاہے اور جیت کا سرٹیفکیٹ بھی اسے الیکشن کمیشن سے مل گیا ہے،لہٰذااب وہ سرکار بنانے جارہی ہے۔گرچہ حزب مخالف نے الیکشن کمیشن میں اپنی شکایت بھی درج کرائی،لیکن اسے ادائیگیئ رسم سے زیادہ اور کچھ نہیں کہاجاسکتا کہ الیکشن کمیشن کا مزاج و انداز اوراطوار و آداب کسی خوش فہمی کا ہمیں شکار ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ ووٹ شماری کاسلسلہ جس انداز میں آگے بڑھا اور جس طرح کی سیاسی آنکھ مچولی پورے دن دیکھی گئی،اسی سے یہ اندازہ ہوچلا تھاکہ آگے کیا ہونے والا ہے یا ہوسکتاہے اور ہوا بھی ٹھیک ویسا ہی۔ رات کے اندھیرے میں این ڈی اے کی جانب سے اپنی جیت کااعلان کردیا گیا،جس پر کسی تبصرے کی ضرورت اس وجہ سے نہیں کہ الیکشن کمیشن کا دعویٰ ہے کہ انتخابی عمل غیر جانبدارانہ، منصفانہ، شفاف و قابل اعتبار انداز میں انجام پذیر ہوا۔آپ کوکمیشن کے اِس روایتی جملہ پر اعتراض ہو تویہ آپ کی بدبختی ہوسکتی ہے،کمیشن کی ہرگز نہیں!!!۔ غیر جانبداری اور شفافیت کا شدید فقدان جنہیں دکھائی دیتا ہے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ شفافیت نظربھی آئے،یہ بالکل بھی ضروری نہیں!۔ویسے بھی یہ ہندوستان ہے،امریکہ نہیں کہ ہار نے والا صدر چلاتا پھرے کہ میرا ووٹ چوری ہورہاہے،میں ہی جیت کر صدر بن رہا ہوں،پھر بھی اس کی چیخ و پکاربے معنی ثابت ہوجائے۔ ہمارے یہاں قابل اعتبار وہی ہے،جو الیکشن کمیشن کہہ دے،بھلے ہی ہارنے والا شکایتیں لے لے کر دوڑلگاتا پھرے،چلاتا رہے کہ ہماری جیت چوری کرلی گئی!۔برسبیل تذکرہ امریکہ کے صدارتی الیکشن کاقصہ درمیان میں آگیاکہ حال میں وہاں ’جس کی لاٹھی،اُس کی بھینس‘ کے محاورے کو ہم سبھوں نے بے معنی ہوتے ہوئے دیکھ لیا۔ورنہ سچی اور پکی بات یہ ہے کہ کسی بھی زاویے سے ہندوستان یا بہار کے الیکشن کا امریکی صدارتی انتخاب سے موازنہ کیا ہی نہیں جاسکتا۔ ویسے بھی یہ ہمارے پیارے ملک ہندوستان کاہی خاصہ ہے کہ جہاں جس سیاستداں پررائے دہندگان پھبتیاں کستے ہیں،عوامی جلسوں میں جس لیڈر پربڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف بہ طور احتجاج پیاز کی بارش کی جاتی ہے،وہی قائد جیت کا شاندار ریکارڈ بھی اپنے نام کرجاتا ہے۔ ایساکیوں ہوتا ہے؟اس سوال کا جواب دینے کیلئے دفتر درکار ہے۔
خیر آئیے اب بہار کی جانب لوٹ چلیں اور دیکھیں کہ رائے شماری کے بعد یہاں کی کیا سیاسی تصویر ابھری ہے۔نئی اسمبلی میں راشٹریہ جنتادل سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے،جس نے اپنے جواں سال قائد تیجسوی یادو کی محنت اور کوششوں کے نتیجہ میں 75نشستیں حاصل کی ہیں۔بی جے پی دونمبری پارٹی ہے،جس نے74سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی پارٹی تین نمبری بن گئی ہے،کیونکہ جے ڈی یومحض43حلقوں میں کامیاب ہوسکی ہے۔کانگریس چوتھے پائیدان پر ہے،جس کے منتخبہ امیدواروں کی تعداد 19ہے۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مالے لبریشن)نے12،آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے5،ہندوستانی عوامی مورچہ(سیکولر) اوروکاس شیل انسان پارٹی نے4-4،سی پی آئی اور سی پی آئی ایم نے2-2،بہوجن سماج پارٹی،ایل جے پی اور آزادا میدوارنے ایک ایک سیٹ اپنے نام کیا ہے۔اس الیکشن میں آرجے ڈی نے کل 144حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے،75پراسے کامیابی ضرورملی لیکن پچھلے الیکشن کے مقابلے اس بار اس کے اراکین کی مجموعی تعدادمیں 5کی گراوٹ آگئی۔ بی جے پی نے 110سیٹوں پر الیکشن لڑااوراسے پچھلے الیکشن کے مقابلے21 سیٹوں کا فائدہ ہوا،جبکہ اس کی اتحادی جماعت جنتادل یونائیٹیڈنے 115حلقوں میں مقابلہ آرائی کی اور اس کو28سیٹوں کاخسارہ جھیلنا پڑا۔کانگریس نے ریاست کی70سیٹوں پر زور آزمائی کی،اسے 19حلقوں میں کامیابی ملی۔کانگریس کو اس الیکشن میں 8سیٹوں کا نقصان جھیلنا پڑا۔ سی پی آئی(ایم ایل)نے 19سیٹوں پر سیاسی جنگ لڑی،12نشستوں پر فتح کا پرچم لہرایااوراس طرح اسے9سیٹوں کا فائدہ ملا۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے20نشستوں پراپنے امیدوار اتارے،5سیٹوں پراسے کامیابی ضرور ملی،لیکن یہ تجزیہ کاموضوع ہے کہ اس کے باقی ماندہ15 امیدواروں کی وجہ سے کہاں کہاں کس کس امیدوار کو جیت ملی اور کس کس کو ہار۔
ویسے اس انتخابی نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ کہاجاسکتاہے کہ این ڈی اے اپنی جملہ ناکامیوں کے باوجود عوامی سطح پر اپنی گرفت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ٹھیک اسی طرح مہا گٹھ بندھن حالات کے سازگار ہونے اور عوامی جلسوں میں اپنے حق میں ماحول خوشگوار ہونے کے باوجود رائے عامہ کو اچھے انداز میں اپنی جانب متوجہ کرپانے اور اِسے ووٹ کی شکل میں تبدیل کرنے میں پوری طرح کامیاب نہ ہوسکا۔حالانکہ انتخابی نتائج کے حوالے سے جب مکمل تفصیل میڈیاکے سامنے آئے گی اور جب حلقہ وار صورتحال کا تجزیہ ہوگا، تب یہ تصویر واضح ہوگی کہ اس الیکشن کو مہا گٹھ بندھن اپنے حق میں کیسے مزید بہتر کرسکتا تھااور کس طرح اس کے بہت سے امیدوار جنہوں نے ناکامی جھیلی،اُن کی شاندار کامیابی ممکن ہوسکتی تھی۔سر دست یہ ضرور کہاجاسکتا ہے کہ نتیش کمار کی قیادت والی جے ڈی یو اور بی جے پی کو اقتدار مخالف لہروں کا سامناتھا۔ اس کے باوجود انہوں نے حالات کا مقابلہ کیااور اس طرح بہار کے انتخابی نتائج ان کے حق میں دھول چٹانے والے ثابت نہ ہوئے۔
راشٹریہ جنتادل کیلئے بالخصوص اور مہا گٹھ جوڑ کیلئے بالعموم یہ الیکشن اِس لحاظ سے خاصا اہم تھا کہ اسے ایک ایسی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کیلئے عوامی تشہیر کی ضرورت تھی،جو کورونا اور لاک ڈاؤن کے پورے عہدمیں اپنی نااہلی کے اگلے پچھلے تمام ریکارڈتوڑ چکی تھی اور نتیجتاًرائے عامہ کے غیظ و غضب کو جھیل رہی تھی۔لاکھوں لاک ڈاؤن متاثرین کی بیرون ریاست سے گھر واپسی کے عمل میں بہ طورخاص جس انداز میں ریاستی حکومت تماشائی بنی رہی یاپھر ان کی گھر واپسی کی راہیں مسدود کرتی نظر آئی، اس سے عوامی سطح پر لوگوں میں ناراضگی بڑھی اور پہلی بار عام لوگوں کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور اُن کے ’سیاسی گٹھ جوڑ‘کے خلاف کھل کر آواز بلند کرتے دیکھاگیا۔راشٹریہ جنتادل کے وزیر اعلیٰ کے امیدوارتیجسوی یادو نے بہ طور خاص انتخابی مہم میں ایام کوروناکی مصیبتوں کا باربار تذکرہ بھی غالباًاسی لئے کیا،تاکہ متاثرین کے زخم تازہ ہوں اور یوں ایسے لوگ جنہیں ذہنی وجسمانی لحاظ سے دردوغم نے چھلنی کردیاتھا، وہ موجودہ حکومت کے غیرذمہ دارانہ رول کو بھول نہ جائیں اورووٹنگ کے دوران ایسی حکومت کے حق میں ایک بار پھر ووٹ نہ ڈالیں،جس نے عالم پریشانی میں عوام کی ناراضگیوں سے لاتعلقی اختیار کی تھی۔عہد کورونا میں لاک ڈاؤن کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی آبائی ریاست لوٹنے والے بہارکے اِن مزدوروں کی تعداد بعض میڈیا رپورٹ کے مطابق 25 لاکھ سے زائد تھی،جنہیں لاک ڈاؤن کے نفاذ کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ مزدوری کے مواقع سے محروم ہونا پڑابلکہ جب انہوں نے گھر واپسی کا سلسلہ شروع کیاتو ریاست کارویہ ان کے تئیں ظالمانہ قرارپایا۔اس کا نتیجہ یہ سامنے آیاکہ اِن لاکھوں متاثرین کاغصہ مرکز کے ساتھ ساتھ ریاست کے خلاف کھل کر دیکھاگیا۔ستم بالائے ستم یہ بھی کہہ لیجئے کہ جب ان محنت کشوں نے اپنی آبائی ریاست کارخ کیاتھاتو حکومت بہار کی یہ پوری کوشش تھی کہ کسی بھی طرح انہیں گھر آنے سے روکا جائے۔ مصیبت کے ماروں نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری اوریوں دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ کوئی پیدل ہزار کلو میٹر کی مسافت طئے کرتاہوا کھائے پئے بغیر گھر لوٹا تو کسی نے دوہزار کلومیٹرکی دوری سائیکل اور رکشہ کے ذریعہ بھی طے کی۔ اس دوران اپنوں کی خبر لینے کی توفیق نہ وزیر اعلیٰ بہار کو ہوئی اور نہ ہی اُن کی حکومت،نہ ہی ان کی پارٹی یا این ڈی سے وابستہ کسی دوسری جماعت کے کارکنوں اور قائدین کو غریب،پریشان حال اِن محنت کش طبقہ کے لوگوں کی عملی مددکرتے دیکھا گیا۔قربان جائیے میڈیا کی بے ایمانی اور بد تمیزی پر کہ دوسری ریاست سے اپنی ریاست اور اپنے گھروں کو واپس آنے والے اِن متاثرین کو’مہاجر‘ کہہ کہہ کر ان کی غریب الوطنی کا مذاق اُڑانے کی بھی کم کوشش نہیں کی گئی۔
چنانچہ جب ایام کورونا میں بہار میں الیکشن کے انعقاد کا الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا تو حزب مخالف نے پہلے تو الیکشن ٹالنے کامطالبہ کیا لیکن پھراس نے سیاسی چالاکی کا اچھا استعمال کیا اور بہار کے ان مزدوروں کی پریشانیوں کابطورخاص تشہیری مہم کے دوران تذکرہ بھی کیا۔قبل از انتخاب راشٹریہ جنتادل،کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے ذریعہ منظم ہونے والے’عظیم اتحاد‘نے کورونائی عہد کی ناکامیوں اور لاک ڈاؤن کی پریشانیوں کے ساتھ ساتھ بہار کی غربت،بدحالی اور بے روزگاری کا مسئلہ نہایت قوت کے ساتھ اٹھایا۔ساتھ میں 10لاکھ بے روزگاروں کو جب سرکاری نوکری فراہم کرانے کاعظیم اتحاد نے باضابطہ اعلان کیاتوبہ ظاہرجو تصویرمیڈیامیں ابھری، اُس کی بنیاد پر یہ بھی کہا جانے لگا کہ تیجسوی ریاست کے بے روزگاروں کی آواز بن گئے!۔
بہارکی انتخابی مہم کا قدرے قریب کا جائزہ لینے والوں نے اِسی بنیاد پر یہ رائے قائم بھی کر لی کہ ریاست کے الیکشن میں ’تیجسوی اینڈ کمپنی‘ بازی مار لے گی اور این ڈی اے کی سیاسی کشتی بھنور میں پھنس جائے گی۔جلد بازی میں یک رخی صورتحال کو دیکھ کر سیاسی رائے قائم کرنے والے لوگوں کو ممکن ہے کہ نتائج کی آمد کا سلسلہ شروع ہوتے ہی زور کا جھٹکا دھیرے سے لگا ہو لیکن یہ بھی ایک کڑوی سچائی ہے کہ انتخابی مہم کے دوران کسی خاص لیڈر یا جماعت کو سننے آنے والوں کی بھیڑکو مخصوص پارٹی کا ووٹر قرار نہیں دیا جاسکتا۔اسی طرح بہار کے سیاسی پس منظر میں ذات،برادری،طبقہ وفرقہ سے بلند ہوکررائے دہندگان بآسانی بے روزگاری کے ایشو پر آنکھیں موند کر کسی خاص محاذ کے حق میں ووٹ ڈال دیں گے،ایسا بھی نہیں سوچا جاسکتا۔اس کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کے ذریعہ قائم ہونے والے محاذ کی بنیاد پر یہ بھی طے نہیں کیاجاسکتا کہ فلاں فلاں جماعت نے انتخابی مفاہمت کے ذریعہ ’گٹھ جوڑ‘ قائم کرلیا ہے تو فلاں محاذکا سیاسی پلڑا بھاری رہے گا۔بہار کے حالیہ الیکشن میں کسی سیاسی گروہ کی جیت اور کسی سیاسی گروپ کی ہار کے دیگر اسباب کو بھی نظر انداز کرنے کی گنجائش نہیں تھی۔مثلاًاین ڈی اے سے ایل جے پی کا الگ ہو کر الیکشن لڑنااور کئی چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کا برساتی مینڈک کی طرح یکجاہوکرٹرٹرانابھی کسی کی شکست وکسی کی فتح کو یقینی بنانے کی وجہ تھے اور ہیں۔اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت تھی۔
جہاں تک راشٹریہ جنتادل کی قیادت والے عظیم اتحاد کی تشہیری مہم کا تعلق ہے تو بہ حیثیت مجموعی ’تیجسوی اینڈ کمپنی‘ نے چناوی مہم کے دوران متوازن انداز میں ’مہا گٹھ بندھن‘ کے موقف کو رکھا،مستقبل کے بہارکی تعمیر و ترقی کے حوالے سے کیا کچھ کرنے کاارادہ ہے،اِس تعلق سے بھی انہوں نے اچھانقشہئ راہ پیش کیا۔ساتھ ہی ساتھ غیر ضروری معاملوں میں الجھے بغیر متنازعہ امورسے پہلوبچانے کی اچھی کوشش بھی کی لہٰذایہ نہیں کہاجاسکتا کہ ’مہا گٹھ بندھن‘ کی جانب سے کوئی بڑی چوک تشہیری مہم کے دوران ہوئی۔اس کے برخلاف این ڈی اے کی جانب سے یکے بعد دیگرے کئی ایسی غلطیاں سرزد ہوئیں،جنہیں میڈیانے بھی نشان زد کیااور حزب مخالف کی جانب سے بھی اِن غلطیوں پر این ڈی اے کی کلاس لی گئی اور قومی جمہوری محاذ کی شریک جماعتوں کے قائدین کولاجواب بھی ہونا پڑا۔اس ذیل میں بطورخاص تیجسوی کے ذریعہ10 لاکھ نوکریوں کی فراہمی کے اعلان کا تذکرہ غیر ضروری نہیں ہوگا۔ جب مہا گٹھ بندھن کے جواں سال مکھیا نے ’بے روزگاری‘کے سیاسی کارڈکا استعمال کیا توجواباًڈپٹی وزیر اعلیٰ اور بی جے پی لیڈر سوشیل مودی نے سوال کھڑا کردیا کہ اس کیلئے پیسے کہاں سے آئیں گے،لیکن پھر جب اسی’بے روزگاری کارڈ‘کااین ڈی اے نے استعمال کیا اور19لاکھ افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کرانے کااعلان کیاتومہا گٹھ جوڑ کو این ڈی اے پر وار کرنے اور اسے کٹہرے میں کھڑا کرنے میں تھوڑی بھی دیر نہیں ہوئی۔اسی طرح این ڈی اے نے باشندگان بہار کوکورونا ویکسین کی مفت فراہمی کااعلان کرکے ایک نئی پریشانی مول لی۔یہ الگ بات ہے کہ اس اعلان پر الیکشن کمیشن کا ڈنڈانہیں گھوم سکا اوریوں این ڈی اے کی پریشانی ایک طرح سے ٹل گئی لیکن میڈیا میں بی جے پی و این ڈی اے کا مضحکہ خوب اڑایاگیا۔یہ اور اس طرح کے غیر متوازن اعلانات بی جے پی و این ڈی اے کیلئے ہرچند کہ مفید ثابت نہ ہوئے لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ قومی جمہوری محاذ کے خیمہ میں ایسے بے تکے بیانات واعلانات پرسامنے آنے والے تبصروں کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔رہی سہی کمی وزیر اعظم نے پوری کی۔سچ ہے کہ انہوں نے اس بار بہارکی بولی نہیں لگائی اور حاضرین سے یہ نہیں پوچھا کہ کتنا پیکیج دے دوں لیکن تیجسوی کے تلخ و تند سوالات کا جواب دینے کی بجائے انہیں ’جنگل راج کے شہزادہ‘ کے خطاب سے ضرور نواز دیا۔وزیر اعظم اس معاملہ میں اکیلے نہیں رہے بلکہ خود وزیر اعلیٰ بہارنے لالو اوررابڑی کے15سالہ دور کا ڈرعوام کو خوب خوب دکھایا۔اشاروں اشاروں میں نہیں بلکہ صاف صاف لفظوں میں این ڈی اے کے لیڈروں کے ذریعہ بہار کے عوام کو یہ سمجھاجاگیا کہ وہ کسی فریب میں نہ آئیں،روزگار کی فراہمی کے لالچ کا شکار نہ ہوں،کیونکہ اگرتیجسوی بہار کے وزراعلیٰ بن گئے تو بہار میں جنگل راج واپس آجائے گا۔راشٹریہ جنتادل، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں نے ہرچند کہ یہ کوشش کی کہ نتیش سرکار کی جملہ ناکامیوں کوانتخابی مہم کے دوران خوب خوب اچھالا جائے اور10لاکھ نوکری پرفوکس کیاجائے۔ خیر بہارکا نتیجہ جب ایسے سیاسی ماحول میں بھی این ڈی اے کے حق میں چلاگیا توہم پھریہی کہہ سکتے ہیں کہ ’پکوڑے میں دم ہے‘۔!

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*