بہار کے ہر طبقے کا اعتماد کھوچکے ہیں نتیش کمار،مہا گٹھ بندھن ہی بہتر متبادل:سیدطارق انور

مظفر پور:نتیش کمار کی حکومت بہار کے لیےتباہ کن ثابت ہوگی،انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں صرف اپنا اور اپنوں کا ہی بھلا کیا ہے،ان سے زیادہ ابن الوقت لیڈر دنیا کی تاریخ میں نہیں ملے گا،اس بار بھی وہ ریاست میں نفرت کو فروغ دے کر اپنی حکومت کی واپسی چاہتے ہیں۔بہار کے عوام کو ان کے خطرناک ارادوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے،موجودہ حالات کے پیش نظر صرف مہا گٹھ بندھن کی حمایت ہی ایک بہتر متبادل ہے۔بہار انتخابات میں تشہیری مہم کے تحت مختلف اسمبلی حلقوں کا دورہ کررہے نوجوان عالم،تجزیہ کار اور سماجی خدمت گار مولانا سید طارق انور نے پریس کو دیئے مذکورہ خیالات کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ بہار کو نتیش کے چنگل سے بچانا ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔
مولانا سید طارق انور نے کہاکہ بہار میں سیکولرزم اور عوامی حقوق کا جنازہ نکالنے میں نتیش کمار کا سب سے بڑا کردار ہے۔انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں سے جھوٹے وعدے کیے اور ان کا استحصال کیا ہے۔گنگا جمنی تہذیب کی علامت اور بھارت کی آزادی میں نمایاں کردار ادکرنے والی زبان جس نے انقلاب زندہ باد کا نعرہ دے کر انگریزوں کے پاؤں اکھاڑ دئیےتھے،اس زبان کو ریاست کی سرکاری زبان کی جگہ اختیاری زبان بنانے کا جو گھناؤنا کام نتیش کمار نے انجام دیاہے،وہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ بھاجپاکے اشارے پر ایک خاص طبقے کو خوش کرنے لیے وزیراعلیٰ نے سیکولرازم کی گردن پر چھری پھیری ہے۔انہوں نے اوقاف کی ملکیت کو کوڑے کرکٹ کے بھاؤ میں اپنے چاہنے والوں میں تقسیم کیا۔انہوں نے ہی مسلمانوں کو گھیر کرمارنے والے غنڈوں کے خلاف سخت ایکشن نہ لے کر اس بات کے اشارے دیے کہ اب مسلمان مکمل غلامی کے لیےتیار رہیں۔
نتیش کمار کی حکومت کے دوران بہار میں پوری طرح جنگل راج ہوچکاہے۔ان کا ہر قدم ریاست کو تباہی اور بربادی کی طرف لے جارہا ہے قانون و انتظام کا نام و نشان مٹ چکاہے،روز بروز جرائم بڑھ رہے ہیں،شریف لوگوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے، بجلی پانی اورسڑک جیسی بنیادی سہولیات بھی لوگوں کو میسر نہیں ہے،روزگار کے دروازے بند ہوچکے ہیں مگر حیرت ہے کہ اتنے ناکام وزیراعلیٰ پھرسے حکومت قائم کرنے کے لیےعوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں؟بہار کے لوگ ان سب حالات سے بخوبی واقف ہیں اور کسی بھی صورت میں نتیش کی واپسی نہیں چاہتے ہیں۔مولانا سید طارق انور نے کہا کہ سکولر جماعتوں کے اتحاد سے نتیش کمارپوری طرح بوکھلا گئے ہیں اور مایوسی کے عالم میں اس بار چناؤ جیتنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں اس لیے ان کے خطرناک اردادوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
مولانا طارق انور نے کہا کہ مہاگٹھ بندھن بہار کی ترقی و خوشحالی اور گنگا جمنی تہذیب کو بچانے کے لئے واحد متبادل ہے،اس لئے عوام کو چایئے کہ جہاں جہاں اس کے امیدوار ہیں ان کو کامیاب کریں۔انہوں نے کہا اگر اس بارپھر بہار کے رائے دہندگان نتیش کمارکے جھانسے میں آگئے تو اگلے پانچ سال میں بہارکے لیےہر لمحہ کسی عذاب سے کم نہیں ہوگا۔