بہار الیکشن:آرایل ایس پی تیجسوی یادو کے یک طرفہ فیصلے پر برہم،لے سکتی ہے بڑافیصلہ

 

پٹنہ: بہار میں اسمبلی انتخابات سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے مہاگٹھ بندھن میں شامل جماعتوں کے لہجے اور تال بدل رہے ہیں۔ جمعرات کو بلائی گئی پارٹی میٹنگ میں آر جے ڈی کے یکطرفہ فیصلے کی اتحادی پارٹی راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آر ایل ایس پی) نے مذمت کی۔ میٹنگ میں پارٹی صدر اوپیندر کشواہا کو اتحاد کا فیصلہ لینے کا اختیار دیا گیا ہے۔میٹنگ میں کہا گیا کہ آر جے ڈی کے یکطرفہ فیصلے کی وجہ سے مہاگٹھ بندھن میں شامل جماعتوں میں قیادت کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ نیز سیٹ شیئرنگ کے حوالے سے ابھی بھی غیر یقینی صورتحال ہے۔ میٹنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ بالواسطہ یا بلاواسطہ ایسا کرنے سے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ آر جے ڈی پہلے ہی تیجسوی یادو کی سربراہی میں انتخابات میں اپنی قیادت کا اعلان کرچکی ہے اور وزیر اعلی کے امیدوار کا اعلان رکھاہے۔آر ایل ایس پی کی میٹنگ میں قومی ایگزیکٹو اور ریاستی ایگزیکٹو اور قومی، ریاستی اور ضلعی صدور کے تمام عہدیداروں نے حصہ لیا۔ اوپیندر کشواہا کومیٹنگ میں اتحاد کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ میٹنگ میں اتحاد کو بچانے کے لئے کی جانے والی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ میں کہا گیا کہ مستقل کوششوں کے باوجود کوئی نتیجہ سامنے نہیں آرہا ہے۔ اس سے قبل آر ایل ایس پی کے چیف جنرل سکریٹری مادھو آنند نے کہا تھا کہ مہاگٹھ بندھن آئی سی یو میں چلا گیا ہے۔ آئی سی یو سے نکالنے کے لئے مستقل کوششیں کی جارہی ہیں، لیکن اب بات چیت ٹھیک طور پر نہیں ہورہی ہے۔