بہار الیکشن:یہاں سب اپنے  اپنے پیرہن کی بات کرتے ہیں! – نایاب حسن

بہار اسمبلی الیکشن میں مجلس کی ’سیریس انٹری ‘سے وہاں کا سیاسی منظرنامہ خاصا ہنگامہ خیز ہوتا جارہا ہے۔ کل اویسی نے دویندر یادو کی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرکے اور اس کے دائرے کو مزید وسیع کرنے کا عندیہ دے کر معاملے کو اور بھی توجہ طلب بنادیا ہے۔

یہ صورت حال دو پارٹیوں کے لیے سب سے زیادہ تشویشناک ہے،ایک آرجے ڈی اور دوسری جے ڈی یو۔ چوں کہ اب تک بہار کے مسلمان زیادہ تر انہی دو پارٹیوں کو ووٹ دیتے آرہے ہیں،کانگریس ایک عرصے سے وہاں قابلِ ذکر پوزیشن میں نہیں ہے اور بی جے پی کو تو خیر مسلم ووٹ کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ نتیش کمار نے جو لگاتار تین بار کامیابی حاصل کی،اس میں ان کے اپنے سیاسی توڑ جوڑ کے علاوہ مسلم ووٹ کا بھی خاص کردار رہا،انھوں نے اپنے دورِ حکومت میں کچھ اہم اور بنیادی انفراسٹریکچر  سے جڑے ہوئے کام بھی کروائے ،اس کا بھی انھیں فائدہ ہوا،’سوشاسن بابو‘انھیں لقب بھی مل گیا۔ البتہ 2015میں ان کو کامیابی عظیم اتحاد کے پلیٹ فارم سے ملی تھی،جس سے انھوں نےسال ڈیڑھ سال بعد ہی پلہ جھاڑ لیا اور واپس این ڈی اے میں چلے گئے۔ اس کے بعد موجودہ مرکزی حکومت کی سربراہی میں خصوصاً مسلمانوں کے حوالے سے جو متعصبانہ اقدامات سامنے آئے،ان میں خود نتیش بھی شامل رہے،تین طلاق کے معاملے میں انھوں نے تگڑم سے کام لیا،این آرسی ؍سی اے اے کے مسئلے پر بی جے پی کے ساتھ گئے،حالاں کہ پچھلے دنوں این پی آر پر اسمبلی سے انھوں نے تجویز پاس کروالی ہے کہ اس کا فارمیٹ پہلے جیسا ہی ہوگا،اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔مگر دیگر کئی معاملوں میں انھوں نے یا تو اپنے موقف کو واضح نہیں کیا یا اندر خانہ مرکزی حکومت کی حمایت کی۔ ادھر کچھ دنوں سے بہار کے مختلف اضلاع میں فرقہ وارانہ فسادات کے واقعات  میں بھی اضافہ ہوا ہے،ان سارے واقعات نے بہار کے مسلمانوں کو نتیش کمار کے تئیں بہت حد تک بد گمان کردیا ہے اور اب وہ کسی متبادل کی تلاش میں ہیں،مگر کیا وہ متبادل آرجے ڈی یا اس کی سربراہی میں قائم ہونے والا متوقع عظیم اتحاد ہو سکتا ہے،جس کے خط و خال تا حال واضح نہیں ہیں؛بلکہ خود آرجے ڈی کے کئی سینئر رہنما پارٹی سے روٹھ کر اِدھر اُدھر جا چکے یا اس کی تیاری میں ہیں؟ ایک قدآور آرجے ڈی لیڈر بابو رگھوونش پرساد تو پارٹی سے ناراضی کے ساتھ ہی آں جہانی ہو چکے ہیں،حالاں کہ دَل بدلنے کا یہ سلسلہ این ڈی اے کی پارٹیوں میں بھی چل رہا ہے،مگر من حیث المجموع یہاں جے ڈی یو اور بی جے پی مضبوط پوزیشن میں ہیں،جبکہ عظیم اتحاد کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا،اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

لا لویادو کی عدم موجودگی میں نہیں لگتا کہ تیجسوی یادو عظیم اتحاد کے قیام اور اسے کماحقہ مینج کرسکنے کی پوزیشن میں ہیں،اس کی ایک جھلک ہم نے پچھلے سال لوک سبھا انتخاب میں دیکھی بھی ہے کہ تیجسوی اینڈ کمپنی نے بہت ہی بری چال چلی اور بے تدبیری،تجربے کی کمی اور ابلہانہ طریقِ کار کے کئی مضحکہ خیز نمونے دیکھنے کو ملے،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوک سبھا الیکشن میں بہار  کی چالیس سیٹوں میں سے انتالیس پر این ڈی اے کو کامیابی ملی اور پانچ چھوٹی بڑی پارٹیوں کے اتحاد نے مل کر صرف ایک سیٹ پر کامیابی حاصل کی۔ابھی اسمبلی الیکشن سے قبل جس طرح کی صورت حال ہے،اس میں مجھے نہیں لگتا کہ حالات بہت کچھ بدل سکیں گے،تیجسوی یادو سے لوگوں کو بڑی امیدیں تھیں،مگر ان کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ نہ تو وہ اپنی پارٹی کے بڑے اور تجربہ کار لیڈروں کو کنونس کر سکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ ہی اتحادی جماعتوں کو مطمئن کرسکنے کی پوزیشن میں ہیں،اسی وجہ سے جیتن رام مانجھی عظیم اتحاد میں شامل ہوتے ہوتے رہ گئے،انھوں نے الیکشن سے پہلے پھر این ڈی اے کا دامن تھامنے میں عافیت سمجھی ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ لالو یادو کی ضمانت کی کوششیں پھر سے تیز ہو گئی ہیں،اگر وہ الیکشن سے قبل کچھ  دنوں کے لیے بھی باہر آسکیں،تو کچھ امید کی جا سکتی ہے۔
مجلس اتحاد المسلمین کے ذریعے بہار الیکشن میں ایک نیا محاذ کھولنے کی کوششیں آرجے ڈی اور جے ڈی یو دونوں ہی کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوسکتی ہیں؛کیوں کہ اکیلے بھلے ہی مجلس کچھ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے؛لیکن اگر مسٹر اویسی بہار کی دوسری پارٹیوں کے ساتھ ایک قابلِ ذکر  اور مؤثر اتحاد قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں،تو اس کا نتیجہ یقیناً زمینی سطح پر نظر آئے گا،اسی لیے آرجے ڈی اور جے ڈی یو کے مسلم رہنما خاص طورپر پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔کل19ستمبر کو جہاں اویسی اور دویندر یادو نے اپنے اتحاد کا اعلان کیا،وہیں کل ہی جے ڈی یو کے ایم ایل سی خالد انور کی سربراہی میں ’ مسلمانوں کی ترقی میں نتیش کمار کا کردار‘ کے عنوان سے ایک ورچوئل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں بہار کے بہت سے اضلاع سے مسلم لیڈران اور عوام نے شرکت کی اور اس میں نتیش حکومت کے وزرا اشوک چودھری،نیرج کمار اور ایم ایل اے نوشاد عالم،ماسٹر مجاہد وغیرہ نے خطاب کیا اور سبھوں نے نتیش کے دورِ حکومت میں مسلمانوں کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور منصوبوں کاگن گان کیا۔کل ہی ایک یوٹیوب چینل پر آرجے ڈی کے ریاستی یوتھ صدر قاری صہیب کی ساڑھے پانچ منٹ کی بات چیت دیکھنے اور سننے کو ملی،جس میں قاری صاحب اویسی اور مجلس پر بے پناہ غصے کا اظہار کررہے ہیں اور غصے میں انھوں نے بعض ایسی باتیں بھی کہی ہیں،جن کی ایک بڑی پارٹی کی نمایندگی کرنے والے شخص سے توقع نہیں کی جاسکتی،انھوں نے ایک جذباتی مقرر  کی  طرح بولتے ہوئے کہا کہ مجلس ٹی بی کے مرض کی طرح ہے،وہ مسلم نوجوانوں کو بارود کے ڈھیر پر کھڑا کررہی ہے،وہ مسلم نوجوانوں کے ہاتھ سے قلم چھین کر تلوار پکڑا رہی ہے وغیرہ وغیرہ ۔دو مختلف پارٹیوں کا باہمی سیاسی اختلاف کوئی اچنبھے کی بات نہیں،مگر اس اختلاف کے اظہار کا سلیقہ ہوتا ہے،ہمارے پٹنہ ہی کے شہرۂ آفاق شاعر کلیم عاجز کہہ گئے ہیں:

بات چاہے بے سلیقہ ہو کلیم

بات کہنے کا سلیقہ چاہیے

اس قسم کی گفتگو آرجے ڈی کے حق میں قطعی نہیں جا سکتی،البتہ اس سے پارٹی کو نقصان ہونے کا امکان ایک سو ایک فیصد ہے۔ اویسی سے ملک کے بے شمار مسلمانوں کو اختلاف ہے اور ان کی بہت سی باتیں،آرا  قابلِ اختلاف ہیں بھی،مگر اس کی وجہ سے کیا یہ کہنا درست ہے کہ مجلس مسلم نوجوانوں کے ہاتھ میں تلوار تھما رہی ہے؟آپ کو اندازہ بھی ہے کہ محض پارٹی میں سرخروئی حاصل کرنے کے لیے کہی گئی آپ کی اس بات کا اثر کتنا گہرا اور دور رس ہو سکتاہے؟اگر آرجے ڈی اسی قسم کے مسلم نیتاؤں کو آگے بڑھا کر مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے،تو پھر اسے اپنی خیر منانی چاہیے!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*