بہار الیکشن:تیسرے محاذ کی آہٹ تیز،کیاکشواہا،چراغ،پپویادو،یشونت سنہا اور اویسی آئیں گے ساتھ؟

پٹنہ:اب تک یہ خیال کیا جارہا تھا کہ بہار اسمبلی انتخابات دو بڑے اتحادوں کے مابین ہوں گے۔ یہ مانا جارہا تھا کہ مخصوص طبقات اور خاص ذاتوں میں اثر و رسوخ رکھنے والی چھوٹی پارٹیاں دو بڑے اتحادوں میں سے کسی ایک میں شامل ہوجائیں گی؛ لیکن اب یہ صورتحال نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ این ڈی اے سے لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی)اور عظیم اتحاد سے راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آر ایل ایس پی) کے غیر مطمئن ہونے کے بعد تیسرے محاذ کی بنیاد پڑے گی۔ اگرپپو یادو کی جن ادھیکار پارٹی (جے اے پی) اور مکیش سہنی کی وکاس شیل انسان پارٹی (وی آئی پی) ان دونوں پارٹیوں کے ساتھ آجاتی ہیں ، تو کچھ اور چھوٹی جماعتوں کو شامل کرکے ایک مؤثر تیسرا محاذ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ البتہ یہ ایک امکان ہی ہے۔ پل پل سیاسی لیڈران کے بدلتے نظریات اور کسی اصول و نظریے کے تئیں پختہ عہد کے فقدان کی وجہ سے یقینی طورپر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔
کشواہا کے سامنے اکیلے لڑنے یا تیسرے مورچے کا متبادل
پچھلے لوک سبھا الیکشن کے دوران رالوسپا عظیم اتحاد کا حصہ تھی۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا۔ پارٹی سربراہ کا کہنا تھا کہ انھیں تیجسوی کی قیادت کو قبول کرنے سےکوئی پرہیز نہیں ہے؛لیکن اب کہہ رہے ہیں کہ تیجسوی کی سربراہی والی آرجے ڈی سے ان کا اتحاد ممکن نہیں ہے۔ان کی بات مانی جائے تو آرجے ڈی کی قیادت کسی اور کے سپرد کرنی ہوگی اور یہ ناممکن ہے۔پس یہ واضح ہے کہ کشواہا آرجے ڈی کی سربراہی والے کسی اتحاد میں شامل ہونے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ پھر تیجسوی ہی کی طرح انھیں نتیش کمار بھی قبول نہیں ہیں اور وہاں بھی ان کی یہ بات نہیں مانی جا سکتی کہ این ڈی اے نتیش کی جگہ کسی اور چہرے کو آگے کرے،تب اس سے جڑیں گے۔ اب دونوں طرف حوصلہ افزا صورت حال نہ ہونے کی وجہ سے کشواہا کے سامنے دو ہی متبادل ہیں،یا تو اکیلے الیکشن لڑیں اور یا پھر کسی تیسرے محاذ کے امکانات پر غور کریں ۔
چراغ پاسوان جگارہے ہیں تیسرے محاذ کی امید
تیسرے محاذ کی امید چراغ پاسوان بھی جگا رہے ہیں۔ انھیں بھی ریاست کی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرنے کا شوق ہے۔ وہ جوان ہیں اور الیکشن میں کھونے کے لیے ان کے پاس بہت کچھ نہیں ہے۔ ایسا کہاجارہا تھا کہ چراغ جو کچھ کہہ رہے تھے اس کے پس پشت بی جے ہی تھی یعنی وہی کہلوا رہی تھی مگر چراغ جوش میں کچھ زیادہ ہی بولنے لگے جس کی وجہ سے بی جے پی نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ اوپندر اور پپویادو کی طرح چراغ کو بھی نتیش کمار پسند نہیں ہیں ،ظاہر ہے کہ اس سے بھی تیسرے محاذ کے امکانات پختہ ہوجاتے ہیں۔
کیا پپو یادو بھی اس خیمے میں آسکتے ہیں؟
کشواہا کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ جن ادھیکار پارٹی کے سربراہ راجیش رنجن عرف پپو یادو کے دل میں بھی نتیش اور تیجسوی کے تئیں نرم گوشہ نہیں ہے۔یہ قدرِ مشترک کشواہا اور پپو یادو کو ایک اسٹیج پر لا سکتی ہے۔ ایک اور وجہ اور بھی یہ ہے کہ یہ دونوں رہنما پچھڑی برادریوں کو ایک حد تک ہی سہی،متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،حالاں کہ منفی پہلو یہ بھی ہے کہ ان دونوں رہنماؤں کو الگ الگ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملا مگر نتیجہ حوصلہ افزا نہیں رہا۔ جہاں پپویادو کی پارٹی دوہزار پندرہ میں ایک سیٹ بھی حاصل نہ کر سکی،وہیں کشواہا کی پارٹی پچھلے سال لوک سبھا الیکشن میں صفر پر سمٹ گئی۔ ہاں یہ تو ہے کہ الیکشن کی ہار جیت کا اثر نیتاؤں پر اتنا زیادہ نہیں ہوتا کہ وہ الیکشن ہی لڑنا چھوڑ دیں۔
اویسی اور یشونت سنہا بھی تیسرے محاذ کے حق میں
اتفاق کی بات یہ ہے کہ مجلس اتحاد المسلمین کے اسدالدین اویسی بھی تیسرے محاذ کی وکالت کر رہے ہیں۔ انھوں نے حال ہی میں سابق مرکزی وزیر دیوندر پرساد یادو کی پارٹی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ ان دونوں کو کشواہا اور پپو یادو سے بھی پرہیز نہیں ہے۔ سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا تین ماہ سے بہار کے دورے کر رہے ہیں۔’بدلو بہار‘مہم کے تحت ان کے ساتھ کچھ اور سیاسی رہنما بھی جڑے ہوئے ہیں ۔ سابق ممبر پارلیمنٹ ارون کمار کی بھی ایک پارٹی ہے’بھارتیہ سب لوگ پارٹی‘،راشٹروادی کانگریس پارٹی بھی تیسرے محاذ کے لیے تیار ہے۔ کل ملاکر پانچ چھ پارٹیاں تیسرے محاذ کے لیے آمادہ نظر آرہی ہیں،یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے اور ان سب کو ملاکر ایک تیسرا محاذ آسانی سے بن سکتا ہے۔ اگر یہ محاذ تشکیل پاتا ہے،تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا،اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا،ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس محاذ میں امیدواروں کی بہتات ضرور ہوگی۔