بہار الیکشن: سیاسی جماعتوں کی نظریں مسلم اور یادو ووٹروں پر مرکوز-محمد نوشاد عالم ندوی

سینئر سب ایڈیٹر روزنامہ انقلاب دہلی

بہار میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگانا شروع کردیا ہے۔ لیکن اس بار بہار اسمبلی الیکشن کچھ الگ سا لگ رہا ہے،کیونکہ اس انتخابی مہم میں لالو پرساد یادو نہیں ہوں گے اور رام ولاس پاسوان اور رگھوونش پرساد کی موت ہوچکی ہے۔ سب سے خاص اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کورونا کے دور میں دنیا کا پہلا سب سے بڑا اسمبلی انتخابات ہونے جارہا ہے۔ آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو نے جس مسلم۔یادو ووٹروں کے ذریعہ پندرہ سال تک راج کئے تھے، اس پر اب نتیش کمار کی نظریں مرکوز ہیں۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا میں بہار الیکشن کا ایک نیا ٹریک یعنی ”بہار، کابا، ای با، اور کیا کئے ہو‘ چل پڑا ہے۔
بہار میں جب بھی الیکشن کا موسم آتا ہے، بہار کی سیاست ذات پات کے ارد گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے پاس کچھ ہو یانہ ہو، لیکن وہ ذات پات کے نام پر جیت درج کرنے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس وقت سیاسی گہماگہمی کے دوران مہاگٹھ بندھن سے لے کر این ڈی اے اور دوسری سیاسی جماعتوں نے ذات پات کو موضوع بحث بنادیا ہے۔ سبھی جماعتوں کی نظریں مسلم اور یادو ووٹ بینک پر ٹکی ہوئی ہیں۔ جہاں آر جے ڈی اپنے پرانے اور پشتینی ووٹ بینک کو پھر سے اپنے پالے میں کرنے کی کوشش میں ہے تو وہیں این ڈی اے میں شامل دو اہم اتحادی جماعت جے ڈی یو اور بی جے پی نے ٹکٹ کی تقسیم میں یادوؤں پر جم کر داؤ کھیلا ہے۔ یعنی برسراقتدار پارٹی بہر صورت آر جے ڈی کے گھر پر سیندھ ماری کرنا چاہتی ہے تو آر جے ڈی بھی این ڈی اے یعنی جے ڈی یو اور بی جے پی کے طلسم کو توڑنے کے لیے پوری تیاری میں ہے۔
بتادیں کہ2000ء میں یادو ایم ایل اے کی تعداد 64تھی، جو 2005میں 54ہوئی، 2010ء میں 39، لیکن 2015ء میں یہ تعداد بڑھ کر61 ہوگئی۔ آر جے ڈی نے 48یادوؤں کو امیدوار بنائے تھے، جس میں 42کامیاب ہوئے۔ نتیش کمار نے 12کو ٹکٹ دئے جس میں سے 11جیتنے میں کامیاب رہے۔ کانگریس کے چار امیدوارورں میں سے 2جیتے۔ اسی طرح بی جے پی 22امیدواروں کو ٹکٹ دئے، لیکن صرف 6ہی کامیاب ہوئے۔ لیکن آپ کو یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ 2015ء میں جبکہ جے ڈی یو، آر جے ڈی اور کانگریس عظیم اتحاد کے ساتھ تھے تو مسلم ووٹ بینک کی تقسیم پر بہت حد تک قابو پا لئے تھے، شاید یہی اہم وجہ رہی کہ بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اس بار کا کھیل کچھ الگ سا ہے، یعنی جے ڈی یو اور بی جے پی ایک ساتھ ہے، جبکہ آر جے ڈی، کانگریس اور بایاں محاذ عظیم اتحاد میں ہے اور کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کی قیادت میں کئی دوسری چھوٹی چھوٹی پارٹیاں ہیں۔
غور طلب ہے کہ انتہائی پسماندہ طبقہ کا جھکاؤ پہلے آر جے ڈی کی طرف تھا، یہ آر جے ڈی کا ہی ووٹ بینک مانا جاتاتھا، لیکن نتیش کمار کے الگ ہونے کے بعد سے سیاسی حالات بدل گئے ہیں، اس کے علاوہ یادو طبقہ جو کہ آرجے ڈی کے ساتھ ہمیشہ سے رہا ہے، اس بار جے ڈی یو نے اس میں سیندھ لگانے کی پوری کوشش کی ہے، 19/ امیدواروں کو ٹکٹ دے کر انہوں نے آر جے ڈی کے ووٹ بینک کو اپنی طرف کرنے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ آر جے ڈی نے بھی یادو ووٹروں کو اپنے ساتھ رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، انہوں نے بھی تقریباً 58یادوؤں کو ٹکٹ دیا ہے، جبکہ بی جے پی نے بھی اس بار 9/ یادو امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔جے ڈی یو کے یادو طبقہ سے آنے والے امیدواروں میں موجودہ ایم ایل اے بجندر پرساد یادو اور پونم یادو شامل ہیں، اس کے علاوہ نئے لیڈروں میں چندریکا یادو، جے وردھن یادو عرف بچہ کو بھی ٹکٹ دیا ہے۔ یادوؤں کی اتنی بڑی تعداد میں ٹکٹ دینے اور پھر ان کو اپنے قریب کرنے سے نتیش کی نیت صاف ظاہر ہوجاتی ہے، لیکن یہ راہ، جے ڈی یو بمقابلہ آر جے ڈی بیحد مشکل اور پیچیدہ ہے، کیونکہ پچھلے تیس برسوں سے یادو ووٹروں پر لالو پرساد یادو کا دبدبہ رہا ہے۔ بی جے پی میں بھی کہیں یادوؤں کے کئی لیڈروں کی موجودگی کے باوجود آر جے ڈی کا ہی پلڑا بھاری رہا ہے۔ نتیانند رائے، نند کشوریادو، رام کرپال یادواور حکم دیو نارائن یادو جیسے لیڈوروں کی موجودگی کے باوجود آرجے ڈی کا دبدبہ یادو ووٹروں پربرقرار رہا ہے۔ اسی طرح جے ڈی یو نے بھی وجندر یادو جیسے بڑے لیڈر کی موجودگی کے باوجود یادو ووٹروں پر کوئی اثر نہیں چھوڑ پائی ہے۔ حالانکہ 2014 اور 2019ء کے لوک سبھا انتخابات میں وزیراعظم مودی کی آندھی نے اس جوڑ توڑ کو ختم کردیا تھا، لیکن اسمبلی الیکشن میں یادو رائے دہندگان ہمیشہ سے لالو پرساد یادو کے ساتھ صف بستہ رہے ہیں۔ دراصل آر جے ڈی سے لے کر جی ڈی یو تک یادو ووٹروں پر اس لیے داؤ لگاتی نظر آرہی ہے، کیونکہ پچھلے اسمبلی الیکشن میں یادوؤں کا ہی دبدبہ تھا، اور اس بار بھی یادوؤں کا ہی دبدبہ رہنے کی امید ہے۔اس لیے امید کی جاتی ہے نتیش کمار تیجسوی یادو سے مات کھا سکتے ہیں۔ ویسے بھی نتیش کمار کے لیے لوک جن شکتی پارٹی مصیبت بن کر کھڑی ہوگئی ہے۔ خیر یہ تو نتیجہ کے بعد ہی صاف ہوپائے گا، اس وقت کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔
ایک انگریزی اور ہندی اخبار کی رپورٹ کے مطابق برسراقتدار پارٹی جے ڈی یو نے 11مسلم امیدواروں کو بھی ٹکٹ دیا ہے یعنی ان کی نظر مسلم ووٹ بینک پر بھی ہے۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ نتیش کمار نے راشٹریہ جنتادل کے یادو مسلم ووٹ بینک کو اپنی طرف کرنے کے لیے ہرممکن کوشش کی ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ بھی دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ جے ڈی یو نے 12کرمی امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے، جبکہ ان کی تعداد ریاست کی آبادی کے لحاظ سے بہت کم ہے، لیکن چونکہ یہ خود (نتیش کمار)اسی طبقہ سے آتے ہیں، یعنی ایم وائی کے بعد کیوری اور کرمی کا بھی خاص خیال رکھا ہے۔ اسی طرح کشواہا ریاست میں سیاسی اعتبار سے بہت ہی اہم مانی جاتی ہے، کیونکہ دوسرے پسماندہ طبقہ میں یادوؤں کے بعد کشواہا کی بڑی تعداد ہے، اسی لیے نتیش کمار نے اس طبقہ سے بھی اچھے خاصے امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے۔ جبکہ اس بارآر ایل ایس پی لیڈر اوپندر کشواہا اسدالدین اویسی کے ساتھ ہیں، کشواہا نے بھی اس طبقہ کو اپنے ساتھ لانے کی پوری کوشش کی ہے، لیکن سیاسی ماہرین بتاتے ہیں کئی وجوہات کی بنا ء پر کشواہا پوری طرح سے اس طبقہ کو اپنے ساتھ نہیں جوڑ پائے ہیں۔ آپ کو یہ بھی بتادیں کہ اس بار الیکشن میں جے ڈی یو کو رام ولاس پاسوان کا ساتھ چھوٹ جانے کے بعد جیتن رام مانجھی کے سہارے دلت ووٹروں کو اپنے ساتھ لانے کی بھی کوشش کی ہے۔ اعلیٰ ذات کو بھی کو اپنے سے الگ نہیں ہونے دیا ہے، ایک ذرائع کے مطابق اس الیکشن میں اعلیٰ ذات کے بھی شاید 19امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے۔ کل ملا کر نتیش کمار نے جو سیاسی لائحہ عمل تیار کیا ہے اس سے یہ بتانے کی پوری کوشش کی ہے کہ ہم سبھی طبقے کو لے کر چل رہے ہیں، اور اس کے لیے فکر مند بھی ہیں۔
ذرائع کے مطابق موجودہ وقت میں 24/مسلم ایم ایل اے ہیں، ان میں گیارہ آر جے ڈی،6کانگریس، 5جے ڈی یو، ایک بی جے پی اورایک سی پی آئی (ایم ایل)سے جیت درج کرکے آئے تھے۔ بہار کی سیاست میں یادو اور مسلم کافی حد تک فیصلہ کن ثابت ہوتے آئے ہیں۔ دونوں کی آبادی ریاست میں تقریباً یکساں ہی ہے، جو 1990سے لالو پرساد کے ساتھ ہیں۔ لیکن آپ کو یاد ہوگا کہ نتیش کمار نے 2005 میں مسلمانوں کے پسماندہ طبقے کو اور لالو سے ناراض یادوبرادری کو اپنے ساتھ شامل کرنے میں کامیاب رہے تھے، جس کی وجہ سے بہار کی کرسی پر قابض بھی ہوئے۔ 2010میں نتیش نے اس فارمولے کو اور بھی مضبوط کرلیا۔ 2015ء میں بی جے پی کے خلاف آر جے ڈی سے مل کر الیکشن لڑ کر یادو اور مسلم ووٹروں کو بہت ہی بڑا اور مثبت پیغام بھی دیا۔ لیکن جب نتیش نے بی جے پی سے ہاتھ ملایاتو یہ دونوں ووٹرز ان سے کافی حد تک ناراض ہوگئے۔ لیکن ابھی چونکہ لالو یادوجیل میں ہی ہیں اور تیجسوی یادو کے ہاتھ میں کمان ہے، تو ایک بار پھر نتیش کمار موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہے۔
ایک مشہور انگریزی اخبار کے مطابق بہار میں کل 17فیصد مسلم رائے دہندگان ہیں،لیکن بہار اسمبلی کی کل 243/ سیٹوں میں 47سے 50 سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلم رائے دہندگان فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ اسمبلی سیٹوں پر اٹھارہ فیصد سے لے کر ستر(۰۷)فیصد تک مسلم رائے دہندگان اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے باوجود جے ڈی یو نے صرف گیارہ مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے، جبکہ یادوؤں، دلتوں، کشواہا اور اعلیٰ ذات کو زیادہ سے زیادہ سیٹ دے کر مسلم رائے دہندگان کوسوچنے اورغور وفکر کرنے کا ایک اور موقع دیا ہے۔ بی جے پی کے ساتھ ہونے کے باوجود نتیش کمار کو امید ہے کہ انہیں ترقی کے نام پر مسلم رائے دہندگان ووٹ دیں گے، کیونکہ پارٹی کے سپریمو کا ماننا ہے کہ ہم نے کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا ہے۔ لیکن جے ڈی یو کو کتنا فیصد ووٹ ملے گا اس کا اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے۔ لیکن پارٹی کے اعلیٰ کمان ایم وائی ووٹ (مسلم۔یادو)کے لیے ضرور فکر مند ہیں اور وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ کسی بھی صورت میں مسلم ووٹروں کی زیادہ سے زیادہ تعداد ہمارے ساتھ رہے، کیونکہ ایل جے پی کے الگ ہونے کے بعد دلت ووٹروں سے بھی ان کو زیادہ امید شاید دکھائی نہیں دے رہی ہے، اب لے دے کر یادوؤں کے بعد مسلم ووٹروں پر ہی ان کی نگاہ مرکوز ہے۔ اس کے علاوہ آر جے ڈی یعنی لالوپرساد یادو کے بیٹے تیجسوی یادو، کانگریس اور بایاں محاذ کو یہ امید ہے کہ کم سے کم (۸۹)اٹھانوے فیصد مسلم رائے دہندگان ہمارے ساتھ ہیں، کیونکہ یہ ووٹر بی جے پی کے ساتھ نہیں جاسکتے ہیں، اور یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ یہی وہ طاقت ہے کہ جس کے ذریعہ بی جے پی کو مات دی جاسکتی ہے،شاید یہی وہ اہم وجہ ہے کہ اس بار آر جے ڈی، کانگریس اور سی پی آئی یعنی مہا گٹھ بندھن نے 31 یا 33مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے۔ حالانکہ ان کی آبادی کے حساب سے یہ تعداد بھی کم ہے، لیکن اس بار آر جے ڈی یعنی مہا گٹھ بندھن نے نتیش کمار کو مات دینے کی ہرممکن کوشش کی ہے، کیونکہ ایم وائی ووٹروں کو مدنظر رکھتے ہوئے آر جے ڈی نے تقریباً 58یادوؤں کو اور پھر مہا گٹھ بندھن 30مسلم امیدواروں کواسمبلی تک پہنچانے کی کوشش میں ہیں۔ اعداد و شمار کے حساب سے کم ازکم بہار میں چالیس مسلم امیدواروں کو اسمبلی تک پہنچنا چاہیے، لیکن یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ یہ تعداد اب تک صرف اور صرف اٹھارہ سے بیس ہی رہی ہے۔اس کی کیا وجہ ہے؟اس پر کوئی غور کرے یا نہ کرے، لیکن مسلم رائے دہندگان کو ضرور بالضرور غور کرنا چاہیے۔ورنہ یہ الیکشن بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔آپ کو یاد ہوگا کہ 2017ء کے یوپی اسمبلی انتخابات میں بھی 19/فیصد مسلم رائے دہندگان انتشار کی وجہ سے کس طرح حاشیے پر چلے گئے، جبکہ یہ یوپی میں کنگ میکر کہے جاتے رہے ہیں۔ یہی حال بہار میں ہونے جارہا ہے، اگر یہاں بھی ووٹوں کی تقسیم ہوئی تو 18فیصد مسلم ووٹ بے معنی ہوکر رہ جائے گا، لہٰذا وقت رہتے متحد ہونا اور ایک مضبوط لائحہ عمل تیار کرنے کی سخت سے سخت ضرورت ہے، تاکہ ووٹوں کی تقسیم نہ ہو اور ہمیں کوئی استعمال نہ کرسکے، اور جب ہماری تعداد مضبوط ہوگی تو ہم اپنی بات بھی مضبوطی سے رکھ پائیں گے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*